ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
"بیوٹی پارلر"، ضرورت یا عیاشی؟ فیصلہ آپ کریں! Home / بلاگز /

"بیوٹی پارلر"، ضرورت یا عیاشی؟ فیصلہ آپ کریں!

صدف سید - 26/08/2025 179

صدف سید

 

شام ڈھل رہی تھی اور شہر کی روشنیوں میں ایک نیا رنگ گھل چکا تھا۔ سڑک کے کنارے کھڑے بورڈز میں سب سے نمایاں ایک چھوٹے مگر چمکتے ہوئے الفاظ میں لکھا تھا: "زیبائش بیوٹی پارلر" اندر داخل ہوں تو ہلکی ہلکی خوشبو، نرم موسیقی اور آئینوں کی جھلکیاں ایک الگ ہی جہان کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ چند لڑکیاں گاہکوں کے بال سنوار رہی تھیں، کوئی ہنسی مذاق میں مصروف تھی اور کوئی چہرے پر ماسک لگا کر وقت گزار رہی تھی۔ بظاہر یہ ایک عام سا منظر تھا مگر اس کے پیچھے ایک پوری تہذیبی کہانی، معاشرتی ضرورت اور عورت کی شناخت چھپی ہوئی تھی۔

 

آمنہ، جو اس بیوٹی پارلر کی مالک تھی، کبھی ایک عام گھریلو لڑکی تھی۔ کالج کے دنوں میں اس کے دوست اکثر مذاق میں کہا کرتے تھے کہ تمہیں تو میک اپ کا جنون ہے، ہمیشہ لپ اسٹک کے نئے رنگ اور hairstyles کے تجربات کرتی رہتی ہو۔ مگر آمنہ نے اس شوق کو محض شوق نہیں رہنے دیا۔ اس نے کورسز کئے، ہنر سیکھا، اور پھر چھوٹے کمرے سے ایک بڑی دکان تک کا سفر کیا۔ آج اس کا پارلر نہ صرف اس کی کمائی کا ذریعہ ہے بلکہ اس کے خوابوں کی تعبیر بھی ہے۔

 

بیوٹی پارلر صرف بال کٹوانے یا فیشل کروانے کی جگہ نہیں رہے۔ یہ عورت کی نفسیات کا وہ کونا ہیں جہاں وہ خود کو وقت دیتی ہے، اپنی تھکن اتارتی ہے اور اپنی ذات کو نئے سرے سے پہچانتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں عورت پر ہمیشہ ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ ڈالا گیا ہے، وہاں یہ پارلر ایک پناہ گاہ کی طرح ہیں۔ گھر کے کام، بچوں کی فکر، سسرال یا نوکری کے مسائل سب کچھ وقتی طور پر بھول کر ایک گھنٹہ جب وہ کرسی پر بیٹھی رہتی ہے تو وہ صرف "خود" رہ جاتی ہے۔

 

لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ہمارے معاشرتی معیارِ حسن نے عورت پر ایک عجیب دباؤ مسلط کر رکھا ہے۔ گوری رنگت، لمبے بال، پتلا جسم یہ سب ایسے پیمانے ہیں جو نسل در نسل عورت کے ذہن پر بٹھا دیے گئے ہیں۔ بیوٹی پارلر ان معیاروں کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔ اگرچہ وہ عورت کو خوشی اور اعتماد دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ بعض اوقات یہی ادارے عورت کو اپنے حقیقی وجود سے دور لے جاتے ہیں۔

 

آمنہ کی شاگرد ثریا اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ میک اپ محض پردہ نہیں بلکہ ایک فن ہے۔ وہ کہتی ہے: "جب میں کسی دلہن کو تیار کرتی ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے میں ایک کینوس پر رنگ بکھیر رہی ہوں۔ یہ صرف چہرہ نہیں، بلکہ ایک پوری شخصیت ہے جو نئے رنگوں سے نکھرتی ہے۔" ثریا کی بات میں وزن تھا، کیونکہ بیوٹی پارلر دراصل فنونِ لطیفہ کا ایک جدید روپ ہیں۔

 

مگر حقیقت یہ ہے کہ بیوٹی انڈسٹری صرف ذاتی آرائش تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک بڑا کاروبار ہے۔ بڑے شہروں میں پارلر صرف بیوٹی ٹریٹمنٹ نہیں دیتے، بلکہ مکمل کورسز کراتے ہیں، جہاں لڑکیاں ہنر سیکھ کر خود مختار بنتی ہیں۔ ان کورسز نے ہزاروں خواتین کو مالی آزادی دی ہے۔ وہ جو کبھی دوسروں پر انحصار کرتی تھیں، آج اپنے ہنر سے نہ صرف خود کما رہی ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ بیوٹی پارلر یوں عورت کا سرمایہ بن گئے ہیں چاہے وہ خود کو سجانے کے لیے آئیں یا اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ہنر سیکھنے۔

 

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی ضروری ہے؟ کیا عورت کا اعتماد صرف میک اپ یا بالوں کے سٹائل پر منحصر ہونا چاہیے؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ ایک طرف یہ سچ ہے کہ اصل حسن اندر سے آتا ہے، کردار اور اخلاق ہی کسی کو معتبر بناتے ہیں۔ مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ظاہری خوبصورتی انسان کی شخصیت کو ایک پہچان دیتی ہے۔ کسی تقریب میں جاتے ہوئے جب ایک عورت اپنے چہرے پر ذرا سا میک اپ کرتی ہے تو اس کا اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ وہ اچھی لگ رہی ہے، اور یہی احساس اسے معاشرتی ماحول میں مزید پُراعتماد بناتا ہے۔

 

آمنہ کی ایک گاہک فرح کہتی ہے: "میں یہاں آتی ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے میں اپنے لیے وقت نکال رہی ہوں۔ میرے شوہر اور بچے حیران ہوتے ہیں کہ ایک گھنٹہ پارلر پر کیوں خرچ کرتی ہوں، مگر میں جانتی ہوں کہ اگر میں اپنی ذات کو نظر انداز کر دوں تو سب کچھ بکھر جائے گا۔" اس کے الفاظ میں ہر عورت کا درد چھپا ہے۔

 

یوں لگتا ہے کہ بیوٹی پارلر صرف معاشرتی معیارِ حسن کو پورا کرنے کی مشینیں نہیں، بلکہ عورت کے لیے ایک نفسیاتی سہارا بھی ہیں۔ ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت خود کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتی۔ وہ چاہتی ہے کہ دنیا اسے دیکھے، سمجھے اور سراہنے۔

 

کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر بیوٹی پارلر نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟ شاید عورتیں خود کو آئینے کے سامنے محدود کر لیتیں، یا شاید معاشرتی دباؤ انہیں مزید بے چین کر دیتا۔ مگر پارلر نے انہیں ایک راستہ دیا ہے، ایک موقع دیا ہے کہ وہ اپنی ذات کو celebrate کر سکیں۔ یوں یہ کہانی صرف آمنہ یا اس کے پارلر کی نہیں، بلکہ ہر اس عورت کی ہے جو خوبصورتی کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھتی ہے۔ چاہے وہ دلہن بنے، چاہے وہ روز مرہ کی تھکن اتارنے آئے، یا چاہے وہ ایک ہنر سیکھنے والی شاگرد ہو بیوٹی پارلر ہر عورت کے لیے ایک الگ دنیا ہے۔

 

آخر میں سوال باقی رہتا ہے: کیا یہ ضرورت ہے یا عیاشی؟ شاید جواب دونوں کے بیچ میں ہے۔ عورت کی زندگی میں بیوٹی پارلر اس لیے ضروری ہیں کہ یہ اس کے لیے صرف ایک آئینہ خانہ نہیں بلکہ خود اعتمادی، ہنر، سرمایہ اور معاشرتی پہچان کا ذریعہ ہیں۔ اور جب تک معاشرہ اپنے معیارِ حسن کو تبدیل نہیں کرتا، تب تک یہ ادارے عورت کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنے رہیں گے۔