حمیراعلیم
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں ایسے واقعات کثرت سے دیکھنے میں آ رہے ہیں جن میں شادی شدہ کئی بچوں کی ماں گھریلو خواتین نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کر دیا۔وجوہات میں شوہر کی بد زبانی، بد سلوکی، خرچہ نہ دینا بھی شامل تھیں مگر بنیادی وجہ خاتون کی بدکرداری تھی۔جو غیر مردوں سے ناجائز تعلقات قائم کر کے ان افیئرز کو چھپانے یا شوہر سے طلاق لے کر دوسری شادی کرنے کی خواہش پر شوہر کے طلاق نہ دینے کی وجہ سے اسے قتل کرنا مسئلے کا حل سمجھتی ہیں۔خواہش نفس کی پیروی نہ صرف گھروں بلکہ معاشرے کو بھی تباہ کرتی ہے۔
جنوری 2021 بیوی نے آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کر دیا۔جولائی 2023 لاہور میں خاتون نے آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کو زہر دے دیا۔2024-25 میں بھی بے شمار ایسے واقعات رپورٹ ہوئے۔جن میں والدین نے لڑکی کی پسند کی شادی نہ کروائی تو اس نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کو شادی والے دن ہی قتل کر دیا۔
عموماشادی شدہ زندگی میں جب جذباتی طور پر خواتین کو توجہ نہ ملے یا شوہر کی جانب سے مسلسل بدسلوکی ہو تو وہ کسی ایسے شخص کی طرف مائل ہو سکتی ہیں جو انہیں سمجھنے اور عزت دینے کا ڈھونگ کرے۔( ڈھونگ اس لیے کہ ایسے مرد اپنی بیویوں کی رتی برابر عزت یا پرواہ نہیں کرتے)مالی مشکلات کا سامنا ہو شوہر غربت یا کاہلی کی وجہ سے اخراجات پورے نہ کرے۔ایسے میں کوئی غیر مرد مالی مدد کرے تو خوامخواہ ہی اچھا لگنے لگتا ہے۔
خرچ کرنے والا اور پیسہ لینےوالی دونوں جانتے ہیں کہ اس معاملے میں کچھ دو اور لو کا اصول چلتا ہے، پیسہ لگانے والا اپنی ہوس کی آگ بجھائے یہ اس کا حق بنتا ہے۔ذہنی و جسمانی ہم آہنگی نہ ہو تو عورت بچوں کی خاطر یا معاشرتی دباؤ کے تحت گھر تو بسائے رکھتی ہے لیکن جذباتی یا جسمانی تسکین کے لیے دوسرے مردوں سے تعلق قائم کر لیتی ہے۔
موبائل فون کمپنیز،سوشل میڈیا، انٹرنیٹ ، اسمارٹ گیجٹس کی دستیابی نے بھی فحاشی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔جب چند ہزار میں موبائل فون میسر ہو۔راتوں کوچند روپے میں کئی گھنٹوں کے لیے کال اور نیٹ فری ملے،واٹس ایپ، فیس بک، انسٹا گرام، زوم وغیرہ پر ویڈیو کال با آسانی کی جا سکے۔کسی بھی ایپ کے استعمال پر فری ایڈلٹ اسٹف کے اشتہارات بار بار سامنے آئیں تو زنا کے رستے کھلتے جاتے ہیں۔
چند دہائیوں پہلے تک ایسے حادثات اکا دکا ہوتے تھے لیکن اب مرد ہوں یا خواتین اپنی جذباتی، مالی، جسمانی خواہشات کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بننے والے زوج کو مارنا ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔دین اور قانون خلع طلاق کا حق اسی لیے دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کو تکلیف دینے کی بجائے باہمی مفاہمت سے الگ ہو کر اپنی مرضی کی زندگی جی جا سکے۔لیکن ہمارے معاشرے میں طلاق خلع کوحرام قرار دے کر نا ممکن اور قتل کو آسان بنا دیا گیا ہے۔
وجوہات کچھ بھی ہوں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور عوام مل کر ایسے اقدامات کریں جن سے ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔سب سے پہلے یہ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی قسم کا ایڈلٹ اسٹف، لٹریچر کسی بھی جگہ پر بین ہو۔خواہ بازار ہوں یا آن لائن۔اگر میاں بیوی میں مسائل ہوں تو کسی ماہرِ نفسیات یا عالمِ دین سے رہنمائی لینا بہتر ہے۔
مشورہ اور گفت و شنید کئی بگڑتے رشتوں کو بچا سکتی ہے۔گھریلو تشدد کے شکار لوگوں کے لیے قانونی تحفظ، پروٹیکشن سیلز ہو۔تعلیمی اداروں، مساجد، ہر جگہ ہر کسی کو قرآن و سنت کے مطابق اخلاقی، شرعی، قانونی حدود و قیود خصوصا نا محرم سے معاملات کیسے کریں، اپنی جسمانی خواہشات پر کیسے کنٹرول پائیں، شادی نہ ہو تو کیا کریں، شادی کے بعد ازدواجی زندگی کو کیسے بہتر اور خوشگوار بنائیں، زنا سے کیسے بچیں، زنا کے نقصانات دنیا و آخرت،پردہ اور نگاہیں نیچی رکھنے کے فوائد بتائے جائیں۔لوگوں کے دلوں میں خوف خدا پیدا کیا جائے کہ وہ غلط کام کرتے ہوئے ڈریں۔
ڈرامے، فلمیں اور سوشل میڈیا اکثر ناجائز تعلقات کو رومانوی رنگ دیتے ہیں۔ اور حرام کو خوبصورت حلال کو بدصورت اور مشکل ترین بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کےمواد کو ریگولیٹ کرنا اور مثبت کردار دکھانا لازمی ہے۔ تاکہ نوجوانوں کی درست رینمائی ہو سکے۔والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ ساتھ بیٹوں کی تربیت کرتے وقت انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ وفاداری، تحمل، اور عصمت کی حفاظت کا کتنا بلند مقام ہے۔اور اپنی عزت کی حفاظت مرد و عورت دونوں پر یکساں فرض ہے۔اور اگر کوئی بھی اس قبیح فعل میں ملوث ہو گا تو حد کی سزا پائے گا۔
تعلیمی اداروں میں بلوغت کے بعد کے مسائل اور جینڈرز سے متعلق علم بالکل ایسے ہی سکھایا جائے جیسے مغربی ممالک میں سکھایا جاتا ہے۔کیونکہ اللہ نے قرآن کی پہلی سورت میں سارے معاملات کھول کر بیان کر دئیے ہیں۔سات سے دس سال کا بچہ قرآن مکمل پڑھ لیتا ہے لیکن مسائل کے حل سے آگاہ نہیں ہوتا۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت
قتل کی سزا دفعہ 302 کے تحت عمر قید یا سزائے موت۔ ناجائز تعلقات حدود آرڈیننس کے تحت زنا کے جرائم میں قید یا کوڑے کی سزاہے۔خواتین اور ان کے آشنا یا شوہر اور سسرال اگر زوج کے قتل میں ملوث پائے جائیں، تو قانونی طور پر یہ ایک مجرمانہ سازش اور قتلِ عمد ہے۔اور اس کی سزا فرض ہے۔اگر صرف چند مجرموں کو وہ سزا مل جائے جو قانون اور شرع کے مطابق ہو تو دوسرے مجرمانہ ذہنیت والے لوگ اس طرح کا کوئی قدم اٹھانے کا سوچیں بھی نہ۔
شادی ایک مقدس رشتہ ہے لیکن جب اعتماد، محبت، یا عزت کی بنیادیں کمزور ہوں تو انسان غلط راستے چنتا ہے۔ شوہر یا بیوی کا قتل صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم ان مسائل کا علاج سماجی، نفسیاتی، قانونی اور مذہبی سطح پر کریں۔