ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
باجوڑ آئی ڈی پیز کیمپ میں بچوں کی جلد بیماریاں شدت اختیار کر گئیں Home / صحت,عوام کی آواز /

باجوڑ آئی ڈی پیز کیمپ میں بچوں کی جلد بیماریاں شدت اختیار کر گئیں

سپر ایڈمن - 25/08/2025 388
باجوڑ آئی ڈی پیز کیمپ میں بچوں کی جلد  بیماریاں شدت اختیار کر گئیں

 رحمان ولی احساس

 

باجوڑ قبائلی ضلع باجوڑ کے آئی ڈی پیز کیمپ میں رہائش پذیر بے گھر خاندان پہلے ہی اپنے گھروں سے محروم ہونے کے غم میں مبتلا ہیں، مگر اب ان کے بچے ایک نئے المیے کا شکار ہو گئے ہیں۔ کیمپ کے اندر صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال، خیموں میں زیادہ بھیڑ اور پینے کے صاف پانی کی کمی نے درجنوں معصوم بچوں کو جلدی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ والدین کے مطابق ان کے بچے ہاتھوں، پاؤں اور چہروں پر نکلنے والے دانوں، خارش اور مستقل داغوں کے باعث رات بھر بے چین رہتے ہیں، جبکہ علاج کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے۔


باجوڑ سپورٹس سٹیڈیم  کیمپ میں سینکڑوں خاندان خیموں میں رہائش پذیر ہیں جہاں نہ صفائی کا کوئی معقول انتظام ہے اور نہ ہی گندے پانی کی نکاسی کا۔ گندگی اور آلودگی کے باعث بچوں کی جلد پر مختلف قسم کے زخم اور دانے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ والدین کے مطابق صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

 

کیمپ میں مقیم ایک متاثرہ خاتون، مسرت بی بی، اپنے پانچ سالہ بیٹے کی حالت بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو  ہوگئی۔ انکا کہنا تھا کہ میرے بچے کے جسم پر سرخ دانے نکل آئے ہیں۔ وہ رات بھر روتا اور خارش کرتا رہتا ہے۔ میں اسے دوا دینا چاہتی ہوں مگر یہاں کچھ بھی دستیاب نہیں۔ ہم کہاں جائیں؟

 

ایک اور والد، محمد شفیع، ٹی این این سے بات کرتے ہوئے  کہتے ہیں کہ میرے دو بچے متاثر ہیں۔ پہلے ہمیں گھروں سے بے دخل کیا گیا، اب یہ بیماریاں ہمارے بچوں کو کھا رہی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری آواز کوئی سننے والا نہیں ہے۔

 

اس حوالے سے ماہرِ جلد ڈاکٹر سید خان کے مطابق  یہ بیماری جلد کا Impetigo, Ceonagious قسم کی بیماری ہے اور اس طرح کی بیماریوں کی بنیادی وجہ ناقص ماحول ہے۔ ان مزید کا کہنا ہےکہ آئی ڈی پیز کیمپ جیسے مقامات پر بھیڑ، نمی اور گندگی جلدی بیماریوں کے پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں۔ صاف پانی کی کمی اور کمزور مدافعتی نظام بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ اگر فوری طور پر علاج اور صفائی کے انتظامات نہ کیے گئے تو یہ بیماریاں مزید پھیلیں گی اور پیچیدہ صورت اختیار کر سکتی ہیں۔


جب ٹی این این نے اس صورتحال پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) باجوڑ، ڈاکٹر گوہر خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ ان کے بقول یہ شکایات ہمیں موصول ہو چکی ہیں، لیکن ادویات کی عدم فراہمی کے باعث وہاں جلد کے ڈاکٹروں کا جانا تھوڑا مشکل تھا۔ اب ہم نے ان کے لیے ادویات منگوا لی ہیں، ان شاء اللہ کل یا پرسوں ہماری میڈیکل ٹیم وہاں پہنچ کر متاثرہ بچوں کی خدمت کرے گی۔


انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس قسم کی ادیات کیلے  صوبائی حکومت کی طرف سے کوئی خاص فنڈزمختص نہیں کئے گئے ہے۔

 

کیمپ کے حالات پر نظر رکھنے والے مقامی سماجی  کارکن محمد شعیب کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو یہ بیماری تیزی سے پھیل سکتی ہے اور مزید بچوں کو متاثر کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت، فلاحی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کو فوری طور پر حرکت میں آنا چاہیے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

 

یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آئی ڈی پیز کیمپوں میں رہائش پذیر خاندان نہ صرف اپنے گھروں سے محروم ہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق، خاص طور پر صحت کی سہولت سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں۔ والدین کی بے بسی اور بچوں کی معصومیت اس المیے کو اور بھی سنگین بنا دیتی ہے۔


باجوڑ کے آئی ڈی پیز کیمپ میں جلد بیماریوں کا پھیلاؤ محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی بحران کی علامت ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو یہ مسئلہ سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر صفائی ستھرائی، پینے کے صاف پانی اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کریں تاکہ ان معصوم بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔