خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں کے باعث آنے والے سیلابوں کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں بیماریوں کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں نا صرف وبائی امراض پھیل رہے ہیں بلکہ مچھر اور سانپوں کے نکلنے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا کی رپورٹ کے مطابق اب تک ہیضہ کے 2506 مریض رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 1112 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ ملیریا، ڈینگی اور جلدی امراض کے کیسسز بھی بڑی تعداد میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں نزلہ، زکام اور سانس کی بیماریوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ صورتحال سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام کے علاقوں میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث سامنے آئی ہیں۔
ماہرین صحت نے کہا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کئے گئے تو وبائی امراض مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ریسکیو اور ہیلتھ ٹیمیں سرگرم عمل ہیں۔
ماہرین صحت نے کہا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات ضروری ہیں، متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں اور مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہیلتھ ٹیمیں سرگرم عمل ہیں۔