ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
بونیر : سیلاب میں سکھ کمیونٹی کا کروڑوں کا نقصان، شمشان گھاٹ بھی متاثر Home / عوام کی آواز,قبائلی اضلاع /

بونیر : سیلاب میں سکھ کمیونٹی کا کروڑوں کا نقصان، شمشان گھاٹ بھی متاثر

عبدالقیوم - 23/08/2025 199
 بونیر : سیلاب میں سکھ کمیونٹی کا کروڑوں کا نقصان، شمشان گھاٹ بھی متاثر

عبدالقیوم آفریدی

 

خیبرپختونخوا کے مختلف شعبہ ہائے زندگی موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہورہے ہیں جبکہ مذہبی اقلیتوں کو بھی ان تبدیلیوں کے باعث مالی اور جانی نقصانات کا سامنا ہے۔ 15 اگست کو بارش، سیلاب اور کلاوڈ برسٹ سے صوبے بھر میں سینکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، جبکہ ایک ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا جن میں کئی مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

 

 دکانیں، مارکیٹیں اور زراعت بری طرح متاثر ہوئی، تاہم ضلع بونیر سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا جہاں مذہبی اقلیت سکھ کمیونٹی کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ملاکنڈ ڈویژن میں واقع سکھ مذہبی اقلیت کے واحد شمشان گھاٹ سمیت متعدد مکانات اور دکانیں سیلاب کی نذر ہوگئیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان پیش نہ آیا۔ بونیر میں 60 سے زائد سکھ گھرانے رہائش پذیر ہیں جو زیادہ تر مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہیں اور اگر گھرانوں کی مجموعی تعداد شمار کی جائے تو وہ 120 سے زائد بنتی ہے۔

 

ضلع بونیر کے پیر بابا بازار سے تعلق رکھنے والے انیل کمار بھی ان متاثرین میں شامل ہیں جن کا گھر اور کاروبار مکمل طور پر سیلاب میں تباہ ہوگیا۔ انیل کمار کے مطابق وہ کپڑوں کی دکان کے مالک ہیں، اور جمعہ کے دن دکانیں بند ہونے کے باوجود پانی پہلے گھروں میں اور پھر بازار میں داخل ہوگیا۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کیا لیکن پانی کے بڑھتے ریلے نے دوسری جگہوں کو بھی متاثر کیا۔

 

 ان کے بقول بونیر کی سکھ کمیونٹی زیادہ تر کپڑوں کے کاروبار سے وابستہ ہے اور پیر بابا بازار میں ان کے 50 سے زائد دکانیں ہیں جن میں سے 28 مکمل طور پر تباہ ہوئیں۔ دکانوں میں رکھا کروڑوں روپے مالیت کا کپڑا پانی اور مٹی کی وجہ سے ضائع ہوگیا۔ انیل کمار کے مطابق اس نقصان کا تخمینہ 18 سے 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ مقامی فلاحی تنظیموں اور مسلمان رہائشیوں نے ان کی بھرپور مدد کی۔ الخدمت فاؤنڈیشن اور رضاکاروں نے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، کھانے پینے اور رہائش کا انتظام کیا اور گھروں و دکانوں کی صفائی میں بھی تعاون کیا۔ تاہم انیل کمار نے شکوہ کیا کہ تاحال ضلعی انتظامیہ نے کسی قسم کی امداد فراہم نہیں کی۔ ان کے مطابق بونیر سے منتخب رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو بھی نقصان سے آگاہ کیا گیا مگر کوئی عملی تعاون نہ ملا۔

 

سکھ کمیونٹی کے ایک اور رہائشی چمن لال نے بتایا کہ ان کا فوٹوسٹوڈیو 1975 سے پیر بابا بازار میں قائم تھا مگر حالیہ سیلاب نے اسے مکمل طور پر تباہ کردیا۔ ان کے مطابق بازار کی 700 کے قریب دکانیں تباہ ہوچکی ہیں جن میں کپڑوں کی دکانیں بھی شامل ہیں۔ چمن لال نے کہا کہ 70 برس کی عمر میں انہوں نے کبھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دکانوں میں پڑا سامان، کیمرے اور کمپیوٹر سمیت سب کچھ پانی بہا لے گیا اور گھروں میں اب بھی کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔

 

ادھر جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے اقلیتی رکن گورپال سنگھ نے بھی تصدیق کی کہ سکھ کمیونٹی کو بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق واحد شمشان گھاٹ کی دیواریں گر گئیں اور قیمتی لکڑی سمیت تمام سامان بہہ گیا جبکہ جگہ ریت اور مٹی سے بھر گئی جس کے باعث آخری رسومات کی ادائیگی ممکن نہیں رہی۔ 

 

گورپال سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے سیکرٹری اوقاف، ایڈیشنل سیکرٹری ریلیف اور ایڈیشنل سیکرٹری فنانس سے ملاقات کی ہے اور ضلعی انتظامیہ و حکومت کے عدم تعاون پر شکایت بھی درج کرائی ہے۔ ان کے مطابق پی ڈی ایم اے نے اقلیتی کمیونٹی کا ڈیٹا تاحال جمع نہیں کیا تاہم ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس کا فوری اندراج کیا جائے۔ سیکرٹری اوقاف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شمشان گھاٹ کی مرمت اور نقصانات کے ازالے کے لیے متعلقہ محکمہ جلد اقدامات کرے گا۔