ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
گجرے بیچنے والے بچوں کی کہانیاں کیمرے کی نظر میں، نیکی یا نمائش؟ Home / بلاگز /

گجرے بیچنے والے بچوں کی کہانیاں کیمرے کی نظر میں، نیکی یا نمائش؟

رعناز - 21/08/2025 229
گجرے بیچنے والے بچوں کی کہانیاں کیمرے کی نظر میں، نیکی یا نمائش؟

رعناز

 

ہمارے شہروں کے سگنلز اور چوک پر اکثر چھوٹے بچے گجرے بیچتے نظر آتے ہیں۔ یہ بچے حالات کے مارے ہوتے ہیں۔ دھوپ میں کھڑے رہنا، گاڑیوں کے درمیان بھاگنا، اور اپنی تعلیم و کھیل کود کو قربان کرنا ان کی مجبوری ہے نہ کہ ان کا شوق۔اب سوشل میڈیا پر کچھ لوگ ان بچوں کے پاس جا کر گجرے خریدنے لگتے ہیں، لیکن اصل مقصد خریدنا کم اور ویڈیو بنانا زیادہ ہوتا ہے۔ 

 

کیمرہ آن کیا، بچی کو قریب بلایا، گجرے لئے، پیسے دیے اور سب کچھ ریکارڈ کر لیا۔ بعد میں ویڈیو اپلوڈ کر کے لکھ دیا  "چھوٹے خوابوں کو سہارا دے رہا ہوں"۔ واہ کیا ڈائیلوگ ہے!!! یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بچے اپنی غربت کی تشہیر چاہتے ہیں؟کیا ان کی معصومیت کو ویوز اور لائکس کے لیے استعمال کرنا انصاف ہے؟اور کیا یہ مدد ہے یا ایک طرح کا "استعمال"؟

 

 یقیننا یہ ایک طرح کا استعمال ہے اور کچھ بھی نہیں۔ جو کہ ہمیں کرتے ہوئے شرم بلکل نہیں آتی۔اصل میں یہ ویڈیوز ان بچوں کی عزتِ نفس کو مجروح کرتی ہیں۔ وہ خاموش رہتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

 

اسی طرح ایک اور رجحان ہے کہ کوئی شخص کسی فقیر کو یا کسی ضرورت مند کو اللہ کے نام پر پیسے دیتا ہے اور اس لمحے کو کیمرے میں قید کر لیتا ہے۔ بظاہر یہ صدقہ ہے لیکن جب اسے پوری دنیا کو دکھانے کے لیے اپلوڈ کر دیا جائے تو وہ ایک نیکی کم اور پروموشن زیادہ لگتی ہے۔ اور اس حرکت کو کرتے ہوئے ہمیں شرم آ نی چاہیے جو کہ ابھی تک نہیں آئی۔

 

اسلام نے ہمیں نیکی چھپا کر کرنے کی تاکید کی ہے۔ قرآن میں صاف لکھا ہے کہ صدقہ چھپا کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ لیکن آج نیکی کے ساتھ ساتھ ریاکاری بھی شامل ہو گئی ہے۔یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اللہ کے نام پر دیا گیا صدقہ اگر دکھاوے کے لیے ہو تو اس کا ثواب باقی رہتا ہے یا نہیں؟

 

گجرے بیچنے والی بچی کی ویڈیو ہو یا اللہ کے نام پر دیے جانے والے پیسوں کی، دونوں کا مشترکہ پہلو یہی ہے کہ کسی کی مجبوری کو دکھا کر اپنی نیکی کو بڑا کرنا۔ فرق صرف منظر کا ہے، مقصد ایک جیسا ہے ۔ویوز، لائکس اور فالوورز بڑھانا۔اپنی "اچھی امیج" بنانا۔دوسروں سے داد لینا ۔لیکن اس سارے عمل میں جو چیز سب سے زیادہ نظر انداز ہوتی ہے، وہ ہے سامنے والے کی عزت اور اخلاص۔

 

یہ بات بھی درست ہے کہ سوشل میڈیا پر اچھے کاموں کی ترغیب دینی چاہیے۔ لیکن اس کا طریقہ بہتر ہو سکتا ہے۔گجرے بیچنے والے بچوں کی ویڈیو بنانے کے بجائے ان کے مسائل پر ایک مضمون یا معلوماتی پوسٹ شیئر کرنی چاہیے۔ لوگوں کو بتانا چاہیے کہ یہ بچے اسکول کی بجائے سڑک پر کیوں ہیں۔اللہ کے نام پر دیے جانے والے صدقے کی ویڈیو بنانے کے بجائے نیکی کے فضائل پر قرآن و حدیث کی بات کریں۔ اس سے دوسروں کو بھی ترغیب ملے گی۔کسی ادارے یا این جی او کے کام کو اجاگر کرنا چاہیے  تاکہ زیادہ لوگ وہاں مدد کر سکیں۔

 

ہم سب کو یہ سوچنا ہوگا کہ نیکی کا مقصد اللہ کی رضا ہے یا لوگوں کی واہ واہ۔ اگر مقصد صرف وائرل ہونا ہے تو پھر یہ نیکی نہیں بلکہ صرف ایک کنٹینٹ ہے۔اسی طرح اگر کسی معصوم بچے کی مجبوری کو ویڈیو بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو یہ مدد نہیں بلکہ استحصال ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان بچوں کی مدد کریں لیکن ان کی عزت نفس کا خیال بھی  رکھیں۔

 

گجرے خریدنا ہو یا اللہ کے نام پر دینا، اصل مقصد نیکی ہونا چاہیے نہ کہ شو آف۔ نیکی وہ ہے جو دل سے ہو اور صرف اللہ کے لیے ہو۔ اگر ہم واقعی معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے دکھ کو اپنا کنٹینٹ نہیں بنانا چاہیے بلکہ ان کی عزت کو محفوظ رکھتے ہوئے ان کی مدد کرنی چاہیے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے بڑھ کر قیمتی چیز ایک محتاج کے چہرے پر آنے والی خاموش دعا ہے، جو صرف اللہ کے ہاں قبول ہوتی ہے۔