ضلع اورکزئی میں پی ٹی آئی ایم پی اے اورنگزیب خان کے کارکنان کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کے دفتر کو تالا لگا کر بند کرنے کے خلاف پیرامیڈیکس اور ڈاکٹروں نے شدید احتجاج کیا اور ڈی ایچ او آفس سے مین روڈ تک ریلی نکالی۔
ریلی کے شرکاء نے ’’سیاسی غنڈہ گردی نامنظور‘‘ کے نعرے لگائے اور محکمہ صحت کے عملے اور ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر ابراہیم بنگش نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی جانب سے سرکاری عمارتوں پر دھاوا بولنا اور تالے لگانا انتہائی افسوسناک ہے، جبکہ پیرامیڈیکس ایسوسی ایشن کے صدر زاہد نے مطالبہ کیا کہ ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
ڈی ایچ او ڈاکٹر عنایت الرحمان نے کہا کہ محکمہ صحت میں تمام بھرتیاں میرٹ پر اور شفاف طریقے سے کی گئی ہیں، لیکن پی ٹی آئی کا ایک گروپ اپنے من پسند افراد کو بھرتی کروانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ پر بھرتیاں کرنے پر واویلا کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔
ڈاکٹر عنایت الرحمان نے واضح کیا کہ جس نے قانون ہاتھ میں لیا ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
دوسری جانب قبائلی اضلاع میں "تعلیم سب کے لیے" پراجیکٹ کے تحت چلنے والے کمیونٹی سکولوں کے اساتذہ گزشتہ دو سال سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ اساتذہ نے وارننگ دی ہے کہ اگر تنخواہیں جاری نہ ہوئیں تو تمام اسکول بند کر دیے جائیں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ نور اسلم، آشنا دین اور دیگر نے بتایا کہ 2016 سے اے ڈی پی کے تحت چلنے والے کمیونٹی اسکولوں میں قبائلی اضلاع کے 191 اسکولوں میں 237 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ان اسکولوں میں 18 ہزار سے زائد طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 23 ماہ سے اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، بلکہ مطالبہ کرنے پر انہیں شوکاز نوٹس دیے جاتے ہیں۔ سکولوں کو کسی قسم کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی۔ اساتذہ کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو تمام کمیونٹی سکول بند کر دیے جائیں گے جس سے ہزاروں طلباء و طالبات کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔
انہوں نے اورکزئی کے ایم این اے یوسف خان، ایم پی اے اورنگزیب خان، ڈپٹی کمشنر اور صوبائی حکام سے فوری نوٹس لے کر مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا۔