ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
وادی تیراہ میدان میں بدامنی، 13 ہزار سے زائد طلباء کی تعلیم خطرے میں Home / تعلیم,عوام کی آواز /

وادی تیراہ میدان میں بدامنی، 13 ہزار سے زائد طلباء کی تعلیم خطرے میں

سپر ایڈمن - 16/08/2025 361
وادی تیراہ میدان میں بدامنی، 13 ہزار سے زائد طلباء کی تعلیم خطرے میں

 خادم خان آفریدی 
 

وادی تیراہ میدان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور ممکنہ فوجی آپریشن کی وجہ سے 13 ہزار سے زائد بچوں کی تعلیم سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ، 15 سرکاری اور 20 پرائیویٹ سکولوں میں زیر تعلیم 13700 طلباء میں 60 فیصد سے زائد طلبا و طالبات خوف و ڈر کی وجہ سے سکول نہیں جاتے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں طلباء اپنے والدین کے ساتھ علاقہ چھوڑ کر باڑہ اور پشاور شفٹ ہو گئے ہیں۔

 

سب ڈویژن ایجوکیشن افسر ڈاکٹر شیر زمان آفریدی نے ٹی این این کو بتایا کہ وادی تیراہ میدان میں سرکاری تعلیمی ادارے کھلے ہیں لیکن علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کی وجہ سے طلباء کی حاضری میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔
محکمہ تعلیم ضلع خیبر کے اعداد و شمار کے مطابق وادی تیراہ میدان میں ٹوٹل 15 سرکاری تعلیمی ادارے قائم ہیں، جس میں 12 پرائمری ، 2 مڈل اور ایک ہائی سکول شامل ہے۔ ان 15 سرکاری تعلیمی اداروں میں کل 3700 طلباء انرول ہیں جبکہ ان طلباء کے لئے 35 اساتذہ کرام ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں۔ وادی تیراہ میدان میں واحد سرکاری گرلز مڈل سکول زنجیر کلے لرباغ میں ٹوٹل 250 تک طالبات زیر تعلیم ہے۔


محکمہ ایجوکیشن خیبر صوبائی حکومت کی ہدایات پر تیراہ کے مختلف علاقوں میں پی ٹی سی (پیرنٹ ٹیچنگ کونسل) پروجیکٹ کے تحت بھی کئی سکول کام کر رہے تھے، جو بعد میں پروجیکٹ ختم ہونے کے بعد بند کر دیئے گئے۔ وادی تیراہ میں کئی سکول ایسے بھی ہیں جن کی بلڈنگ تو مکمل ہو گئی ہے لیکن تاحال ان کو سٹاف نہیں مہیا کیا گیا ہے اور ان سکولوں کے بلڈنگ کو مقامی لوگ اپنی ضروریات کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

 

آل قبائلی اضلاع گورنمنٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر نصیر شاہ آفریدی نے ٹی این این کو بتایا کہ ہم نے اپنی تنظیم کی جانب سے وادی تیراہ میدان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تیراہ کے تمام سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں اور اساتذہ کرام کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر کو باقاعدہ درخواست دی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ وادی تیراہ میدان میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے دوران سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا خطرے سے باہر نہیں ہے جس پر غور کیا جائے۔ نصیر شاہ آفریدی نے کہا کہ تاحال اس درخواست کا جواب نہیں آیا ہے۔

 

دوسری جانب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر خیبر میسری خان نے ٹی این این کو بتایا کہ وادی تیراہ میدان تمام سرکاری سکولز کھلے ہیں جس میں ٹیچنگ لرننگ سرگرمیاں جاری ہے، انہوں نے کہا کہ موسم گرما کی چھٹیوں سے پہلے ایسوسی ایشن کی جانب سے درخواست موصول ہوا تھا جس کو متعلقہ حکام تک پہچانے کے لیے فارورڈ کیا گیا ہے، جبکہ وادی تیراہ میں مختلف سکولوں کے ہیڈماسٹرز اور پرنسپلز نے سکول بند ہونے کی کوئی رپورٹ نہیں دی ہے۔

 

وادی تیراہ برقمبر خیل سے تعلق رکھنے والے پرائیویٹ سکول کے مالک نور محمد آفریدی نے ٹی این این کو بتایا کہ وادی تیراہ میدان کے مختلف علاقوں میں 20 سے زیادہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی موجود ہے، جس میں تقریباً 9 ہزار تک طلباء زیر تعلیم ہیں، نور محمد نے کہا کہ یہ تعلیمی ادارے پرائمری لیول ، مڈل اور ہائی لیول تک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک نجی سکول اسلامیہ ہائی سکول کالانہ مالک نے بند کر دیا ہے جبکہ باقی ادارے کھلے ہیں لیکن خراب حالات اور خوف و ڈر کی وجہ سے 60 فیصد سے زائد بچے سکول سے غیر حاضر رہتے ہیں۔

 

وادی تیراہ میدان کی موجودہ صورتحال اور تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیوں اور طلباء کی مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کے لیے ضلعی انتظامیہ خیبر کیا اقدامات کر رہی جیسے سوالات پر ضلعی انتظامیہ کا موقف جاننے کی بار بار کوشش کی گئی لیکن ڈپٹی کمشنر خیبر راؤ بلال انور نے ٹی این این کو کوئی جواب نہیں دیا۔

 

پرائیوٹ سکولز ایسوسی ایشن تحصیل باڑہ کے صدر گل ولی آفریدی نے ٹی این این کو بتایا کہ وادی تیراہ میدان میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے اور تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دینے کے لیے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کردار نمایاں رہا ہے انہوں نے کہا کہ پچھلے خراب حالات میں بھی باڑہ میں قائم نجی تعلیمی اداروں نے وادی تیراہ میدان کے طلباء کو میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تک فری تعلیم دی تھی، اب بھی چونکہ وادی تیراہ میدان میں زیادہ تر سکول خراب حالات کی وجہ سے پچھلے کئی مہینوں سے متاثر ہو کر ان کی تعلیمی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

 انہوں نے کہا کہ اگر خدا نخواستہ تیراہ سے دوبارہ نقل مکانی ہوئی تو تیراہ کے تمام طلباء کے لئے چاہے سرکاری سکول کے ہو یا پرائیویٹ کے باڑہ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے زیر انتظام چلنے والی 95 سکولوں کے دروازے کھلے رہینگے اور ان میں سب طلباء کو باقاعدہ فری تعلیم دیں گے جب تک وادی تیراہ میدان میں حالات بہتر نہ ہو۔

 

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اپریل 2013 میں ضلع خیبر کے دور افتادہ پہاڑی علاقہ وادی تیراہ میدان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران 80 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے اور بڑے پیمانے پر مالی نقصانات اٹھائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 14000 سے زائد گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے تھے۔ جبکہ کامیاب آپریشن کے بعد علاقے میں لوگوں کی واپسی ستمبر 2013 میں شروع ہوئی جو مرحلہ وار سب لوگوں کی اپنے علاقوں کو واپسی ہوئی تھی۔