ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
یوم آزادی کی خوشیوں کو بھی مہنگائی نے گرہن لگا دیا!!! Home / بلاگز /

یوم آزادی کی خوشیوں کو بھی مہنگائی نے گرہن لگا دیا!!!

سعدیہ بی بی - 14/08/2025 124
یوم آزادی کی خوشیوں کو بھی مہنگائی نے گرہن لگا دیا!!!

سعدیہ بی بی

 

14 اگست 2025 کو ہم پاکستان کا 79  یومِ آزادی منا رہے ہیں۔ یہ دن ہمیں 1947ء کی وہ قربانیاں یاد دلاتا ہے، جب ہمارے بزرگوں نے اپنی جانیں، مال اور گھربار قربان کر کے ایک آزاد وطن حاصل کیا تھا۔ آزادی کا یہ دن صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک زندہ جذبہ ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں دھڑکتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری آزادی کسی تحفے کے طور پر نہیں ملی، بلکہ یہ بے شمار قربانیوں اور انتھک جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

 

 اب اگر بچپن کی جشن آزادی کی بات کی جائے تو ہرسال جب یہ دن آتا تھا تو دل خود بخود خوشی سے جھوم اٹھتا تھا۔ جیسے ہی اگست کا مہینہ شروع ہوتا، پورا محلہ سبز اور سفید رنگ میں رنگ جاتا۔ ہم سب بچے جیب خرچ جمع کر کے جھنڈیاں، بیجز خریدتے، گلیوں کو اپنے بڑوں کے ساتھ مل کر خود سجاتے، چھتوں پر چڑھ کر جھنڈا لہراتے اور ملی نغمے لگا کر خوشیاں مناتے اور سب مل کر ایک سادہ مگر محبت بھرا جشن مناتے۔ تب نہ برانڈڈ کپڑوں کی فکر تھی، نہ سوشل میڈیا پر تصویریں ڈالنے کی دوڑ۔ بس ایک سادہ سی خوشی تھی جو دل کی گہرائیوں سے محسوس ہوتی تھی۔

 

لیکن آج کی جشن آزادی کچھ بدلی بدلی سی لگتی ہے۔ جیسے کچھ دن پہلے میں بازار سے گزر رہی تھی۔ ہر طرف سبز اور سفید جھنڈے، ٹی شرٹس اور جشنِ آزادی کی چیزیں جا بجا نظر آرہی تھیں ۔ میرا دل چاہا کہ میں بھی رک کر تھوڑی چیزیں دیکھ لوں۔

 

 تومیں ویسے ہی ایک اسٹال پر رکی اور چیزیں دیکھ ہی رہی تھی کہ ایک بارہ سالہ بچہ چلتے چلتے آ کر میرے ساتھ کھڑا ہوا اورتھوڑی دیر بعد اس کے بابا بھی اسی کے پیچھے آ گئے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جانے لگے۔ لیکن وہ ایک ہی بات کی ضد کر رہا تھا، "بابا جان، پلیز مجھے بھی جھنڈا لے دیں، میں نے بھی جشنِ آزادی منانی ہے، میرے دوستوں نے بھی لیا ہے۔" مگر اس کے بابا بار بار پیار سے یہی کہہ رہے تھے کہ، " بیٹا چلو یہاں سے اچھے بچے بابا کی بات مانتے ہیں ۔" جب بچے نے مزید ضد کی تو باپ نے سختی سے کہا "میں بجلی کا بل نہیں دے سکتا، گھر کے اخراجات پورے نہیں کر سکتا، تو تمہارے لیے جھنڈا کیسے لوں؟ یہ جشن منانا ہمارے بس کی بات نہیں۔" یہ سن کرمجھے دل سے احساس ہوا کہ مہنگائی نے نہ صرف بڑوں کی خوشیاں چھین لی بلکہ بچوں کے خواب بھی ماند کر دیے۔

 

مہنگائی نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ اب والدین کے پاس وہ گنجائش نہیں ہے کہ وہ خوشی کے لیے بھی کچھ خرچ کر سکیں، بلکہ ان کے چہروں کی مسکراہٹیں، تہواروں کی خوشیاں اور قومی دنوں کی رونقیں بھی چھین لی ہیں۔ ایک عام انسان جب صبح اٹھتا ہے تو سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے کہ آج بچوں کا دودھ لینا ہے، بجلی کا بل جمع کرانا ہے، آٹا، دال سبزی لانی ہے، اور اگر کچھ بچا تو شاید دوا بھی لینی ہے۔ 

 

ایسے میں جھنڈیوں، بیجز یا بچوں کی آزادی ڈے ٹی شرٹس کو خریدنا ایک "فضول خرچی" لگنے لگتی ہے۔ والدین کا یہ کہنا سننے کو ملتا ہے کہ "دل چاہتا ہے کہ بچوں کے ساتھ جشن منائیں، لیکن پیسہ ہی نہیں بچتا۔" کیونکہ اب خوشیاں مہنگائی کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہیں۔

 

بازاروں میں اب بھی بیجز، جھنڈیاں، ٹی شرٹس اور سرسبزوسفید زیور کی بھرمار ہے، لیکن خریدار نہیں۔ چند سال پہلے جو جھنڈا 10 سے 15 روپے میں آسانی سے مل جاتا تھا آج وہ 50 سے 100 کے درمیان ملتا ہے۔ چھوٹا سا بیج جو پہلے 10 روپے میں مل جاتا تھا اب وہی 30 یا 50 روپے کا ہو چکا ہے۔ پہلے دو بچوں کے لیے 100 روپے میں کافی سامان آ جاتا تھا، اب ایک بچے کے لیے بھی مکمل تیاری مشکل ہو گئی ہے۔ پہلے دل سے جشن منایا جاتا تھا، اب مجبوریوں کے سائے میں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی ہے۔

 

مہنگائی نے اگرچہ ہماری خوشیوں کو محدود کر دیا ہے، لیکن ہمارا جذبہ آج بھی زندہ ہے۔ اگر ہم سادگی سے اخلاص سے اور محبت سے یہ دن منائیں، تو کوئی بھی چیز ہمیں روک نہیں سکتی۔ لیکن اگر ان جھنڈوں اور بیجز پر پیسہ لگانے کے بجائے ایک پودا لگائیں، جو سالوں تک فائدہ دے۔ کیونکہ جشن کے بعد جھنڈیاں زمین پر گرتی ہیں، مگر پودا ہمیشہ زندگی بخشتا ہے۔