سیدہ قرۃالعین
آزادی کی اصل روح صرف جھنڈیاں نہیں ذمہ داری کا نام،14 اگست 1947 یہ تاریخ ہمارے لیے محض کیلنڈر کا ایک دن نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے ایک ایسا خواب جو لاکھوں قربانیوں بہتے لہو اور بے شمار آنسوؤں کے بعد شرمندۂ تعبیر ہوا مگر سوال یہ ہے کہ آج اتنے برس گزرنے کے بعد، کیا ہم نے اس خواب کی اصل قدر کو سمجھا ہے؟
ہم میں سے زیادہ تر کے لیے آزادی کا مطلب بس جھنڈیاں لگانا سبز و سفید کپڑے پہننا اور آتش بازی کرنا رہ گیا ہے۔ یہ سب کرنا بُرا نہیں لیکن کیا آزادی کی روح صرف اسی میں سمٹ گئی ہے؟ کیا ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی جانیں صرف اس لیے قربان کی تھیں کہ ہم ایک دن خوشی منائیں اور اگلے دن سب بھول جائیں؟
آزادی کا مطلب صرف آزاد ہونا نہیں بلکہ "ذمہ دار ہونا" ہے یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے کردار پر نظر ڈالنی چاہیے کہ ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں ہم روز جھوٹ بولتے ہیں دوسروں کا حق مارتے ہیں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں رشوت کو معمول سمجھتے ہیں… اور پھر بھی سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے۔
محبت صرف لفظوں یا نعروں سے نہیں ہوتی محبت قربانی اور عمل مانگتی ہے محبت ایثار مانگتی ہے اگر ہم اپنے ملک سے سچی محبت کرتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اس کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے، ہمیں سڑک پر سگنل توڑتے ہوئے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم اسی ملک کا نظام توڑ رہے ہیں جس پر ہمیں فخر ہے۔ ہمیں کچرا سڑک پر پھینکنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ یہ مٹی ہماری اپنی ماں کی مٹی ہے اور ماں کے آنگن کو گندا کون کرتا ہے؟
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ آزادی کامطلب خود غرضی نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی ہے ۔ ہم تب ہی آزاد ہیں جب ہم سب مل کر بہتر مستقبل بنائیں ایک استاد جب ایمانداری سے پڑھاتا ہے، ایک ڈاکٹر جب مریض کو پیسے سے بڑھ کر زندگی کی اہمیت دیتا ہے، ایک تاجر جب ناپ تول میں ایمانداری دکھاتا ہے، ایک نوجوان جب ،محنت اور دیانت کو اپنی پہچان بناتا ہے تب آزادی کی اصل روح زندہ رہتی ہے۔
ہم اکثر مغربی ممالک کو مثال بنا کر کہتے ہیں کہ وہاں نظام بہترین ہے لوگ قانون کے پابند ہیں صفائی ہے انصاف ہے… مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب کسی جادو سے نہیں ہوا۔ یہ سب وہاں کے شہریوں کے کردار ذمہ داری اور اجتماعی شعور کی وجہ سے ممکن ہوا اگر ہم بھی چاہیں تو پاکستان کو وہی مقام دے سکتے ہیں مگر اس کے لیے ہمیں اپنی عادات بدلنی ہوں گی
آزادی کے دن اپنے گھروں کو جھنڈیوں سے سجانا خوبصورت ہے لیکن اس سے زیادہ خوبصورت یہ ہوگا کہ ہم اپنے دل اور دماغ کو ایمانداری محبت برداشت اور قربانی سے سجا لیں۔
جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ رنگ، نسل، فرقہ اور زبان کے بغیر محبت اور بھائی چارہ رکھیں گے، تب یہ سبز ہلالی پرچم واقعی اپنی اصل معنی میں لہرا سکے گا۔
آزادی کی اصل روح یہ ہے کہ ہم خود کو اس قابل بنائیں کہ آنے والی نسلیں ہم پر فخر کریں۔ ہم ایسا ملک چھوڑ کر جائیں جہاں انصاف ہو، تعلیم سب کو ملے، روزگار کے مواقع ہوں، اور سب سے بڑھ کر محبت اور احترام کی فضا ہو۔
بلکہ باہر ممالک میں ہماری عزت ہو ہمیں کوئی چور دغہ باز کہہ کر نہ پکارے
اس 14 اگست آئیے ہم عہد کریں کہ ہم صرف ایک دن نہیں بلکہ پورا سال اپنے ملک کے لیے جئیں گے ہم چھوٹے چھوٹے اعمال سے آغاز کریں گے ملک کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے پودے لگانے کو ترجیح دیں گے بچوں میں اس طرح کی عادات ڈالیں گے کے وہ ملک کے بارے میں سوچنا شروع کریں ۔
وقت پر بل ادا کریں گے پانی اور بجلی ضائع نہیں کریں گے سڑک پر ٹریفک قوانین کی پابندی کریں گے دل آزاری نہیں کریں گے بزرگوں کا احترام کریں گے اور سب سے بڑھ کر اپنے دل میں یہ احساس زندہ رکھیں گے کہ پاکستان ہماری ذمہ داری ہے
یاد رکھیں آزادی کے لیے جان دینے والے تو اپنے حصے کا فرض پورا کر گئے اب یہ ہماری باری ہے کہ ہم اس آزادی کو بچائیں اور سنواریں کیونکہ آزادی صرف ایک دن کا جشن نہیں یہ ایک پوری زندگی کا طرزِ عمل ہے۔