ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان بڑھنے لگا، ڈیرہ اسماعیل خان میں تجارتی لین دین آن لائن کرنے کا فیصلہ Home / عوام کی آواز /

ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان بڑھنے لگا، ڈیرہ اسماعیل خان میں تجارتی لین دین آن لائن کرنے کا فیصلہ

رضوان اللہ - 09/08/2025 150
 ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان بڑھنے لگا، ڈیرہ اسماعیل خان میں تجارتی لین دین آن لائن کرنے کا فیصلہ

رضوان اللہ

 

پاکستان میں 2010 کے بعد موبائل فون کی بڑھتی ہوئی تعداد اور انٹرنیٹ کی دستیابی کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سمت میں نمایاں پیشرفت ہوئی۔ ایزی پیسہ (2009) اور جیز کیش (2012) جیسی سروسز نے رقم بھیجنے، وصول کرنے اور بلوں کی ادائیگی کے طریقہ کار میں انقلاب برپا کیا ہے۔ 2016 میں PRISM نظام کے آغاز سے بینکوں کے درمیان فوری ادائیگیاں ممکن ہوئیں، جبکہ 2021 میں اسٹیٹ بینک نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے نئے قوانین اور ضوابط جاری کئے۔

 

خیبر پختونخوا میں بھی حکومت نے اس سمت اہم اقدامات کیے، جن میں خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا)کا آن لائن پیمنٹ سسٹم شامل ہے۔ اس سے ٹیکس وصولی اور کاروباری ادائیگیاں مزید آسان ہوئیں۔ 

 

2021-2022 میں کیو آر  کوڈ پیمنٹ جیسے جدید اختیارات متعارف کرائے گئے جنہوں نے چھوٹے تاجروں اور کاروباروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف مائل کیا۔

 

ڈیرہ اسماعیل خان میں ضلعی انتظامیہ نے تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ مستقبل میں تمام تجارتی لین دین صرف آن لائن اور ڈیجیٹل ذرائع سے کیا جائے۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر حامد کے مطابق تمام دکاندار پندرہ دن کے اندر موبائل والٹ رجسٹر کرائیں، دکانوں پر کیو آر کوڈ آویزاں کریں اور تفصیلات انتظامیہ کو فراہم کریں۔ انتظامیہ نے بازاروں میں فری وائی فائی زون قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ عوام موبائل کے ذریعے آسانی سے ادائیگی کر سکیں۔

 

انجمن تاجران خیبر پختونخوا کے وائس پریزیڈنٹ سہیل احمد اعظمی نے بتایا کہ حالیہ بجٹ میں ڈیجیٹل اکانومی اور دستاویزی نظام کے فیصلوں پر تاجر برادری نے احتجاج کیا تھا، جس کے بعد حکومت سے مذاکرات میں طے پایا کہ ای انوائسنگ کا آغاز ملٹی نیشنل کمپنیوں سے کیا جائے اور پھر بتدریج اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے۔اسکے علاوہ حکومت نے دو لاکھ روپے سے زائد ٹرانزیکشن پر لگایا گیا ٹیکس بھی واپس لے لیا ہے۔

 

مقامی تاجر حماد خلیل کے مطابق ان کے ریسٹورنٹ پر کافی عرصے سے QR کوڈ اور POS مشین کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں کی جاتی ہیں، تاہم ڈیرہ اسماعیل خان جیسے چھوٹے شہروں میں محض 5 سے 10 فیصد گاہک یہ سہولت استعمال کرتے ہیں جبکہ باقی 90 فیصد اب بھی کیش پر انحصار کرتے ہیں۔ بینکنگ مشین کے استعمال پر فیس کی کٹوتی تاجروں کے لیے ایک مسئلہ ہے۔

 

مقامی شہری عرفان کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کے لیے اس فیصلے کے فوری مثبت یا منفی اثرات واضح نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے استعمال ہونے والی موبائل ایپس محفوظ اور قابل اعتماد ہوں۔