بلومبرگ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے موصول ہونے والے عشائیے کا دعوت نامہ اس خدشے کے باعث مسترد کر دیا کہ کہیں انہیں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات پر مجبور نہ کر دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے 17 جون کو مودی کو عشائیے کی دعوت دی تھی، تاہم بھارتی وزیر اعظم نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔ بلومبرگ کا کہنا ہے کہ مودی کو خدشہ تھا کہ امریکی صدر اس موقع پر ان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کروا سکتے ہیں، جس سے وہ گریز کرنا چاہتے تھے۔
اسی دن مودی اور ٹرمپ کے درمیان 45 منٹ طویل فون کال بھی ہوئی، جو دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں تناؤ کا آغاز ثابت ہوئی۔ اس کشیدگی کے بعد بھارت اور امریکا کے تعلقات میں واضح سردمہری دیکھنے میں آئی۔ صدر ٹرمپ نے بھارت کی معیشت کو “مردہ” قرار دیا اور 17 اگست سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس بڑھانے کا اعلان کر دیا۔
بلومبرگ اور واشنگٹن پوسٹ دونوں نے یہ رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان اب صدر ٹرمپ کا پسندیدہ اور ترجیحی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ بھارت کو اقتصادی اور سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مؤثر اور مہارت سے سفارتکاری کی ہے اور وہ چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے حال ہی میں امریکا کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاک-امریکہ روابط اس وقت مزید مضبوط ہوئے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھی۔ اس دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اہم رابطے ہوئے، جن میں جنگ بندی سے متعلق بیانات اور تعاون بھی شامل تھا۔
رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے پاس سونا اور تانبے جیسے قیمتی قدرتی وسائل موجود ہیں، جو امریکہ کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ مودی نے 17 جون کا عشائیہ اسی وجہ سے مسترد کیا کہ ٹرمپ شاید ان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کروائیں۔ اخبار کے مطابق اسی روز ہونے والی 45 منٹ کی فون کال نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات مزید کشیدہ کر دیے، جس کے بعد ٹیکس میں اضافہ اور ٹرمپ کے بھارت کی معیشت پر تنقیدی بیانات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ امریکا کی ترجیحات میں بھارت کی پوزیشن نیچے آ گئی ہے۔