ایران سے زبردستی واپس بھیجے جانے کے کئی ہفتے بعد بھی کابل میں آئے پناہ گزین کرائے کا گھر ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہر میں کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ ایران اور پاکستان سے بڑی تعداد میں افغان شہری بےدخل ہو کر واپس آ رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کا کہنا ہے کہ 2025 کے آغاز سے اب تک ایران اور پاکستان سے 21 لاکھ سے زائد افغان واپس آ چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو یا تو زبردستی نکالے گئے یا گرفتاری کے خوف سے خود ہی واپس آ گئے۔
کئی ملک بدر افراد بہت کم سامان کے ساتھ کابل پہنچے۔ وہ امید رکھتے تھے کہ آٹھ ملین کی آبادی والا یہ بڑا شہر انہیں روزگار دے گا، لیکن یہاں زندگی کی مشکلات اور مہنگائی نے ان کی امیدیں توڑ دی ہیں۔وہاں کے رہائشی نے مکان مالکان سے کرایہ کم کرنے کی درخواست کی، مگر انہیں صاف جواب ملا کہ ’اگر آپ نہیں دے سکتے تو کوئی اور دے دے گا‘۔
کابل کے پراپرٹی ڈیلرز کے مطابق واپسی کرنے والے افغانوں کی وجہ سے کرایوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک اسٹیٹ ایجنٹ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مالکان کو معلوم ہوا کہ ایران اور پاکستان سے پناہ گزین واپس آ رہے ہیں، انہوں نے کرائے دوگنا کر دیے۔ زیادہ تر افراد ان مہنگے مکانوں کا کرایہ برداشت نہیں کر سکتے۔
پراپرٹی ڈیلر کے مطابق ایک سال پہلے تین کمروں کے مکان کا کرایہ 10 ہزار افغانی (تقریباً 145 امریکی ڈالر) تھا، جو اب 20 ہزار افغانی ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں 85 فیصد لوگ روزانہ ایک ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں، اس لیے یہ کرائے ان کے لیے بہت زیادہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے مہینے میں کئی مکان مالکان کرایہ دار ڈھونڈنے آتے تھے، لیکن اب مانگ اتنی بڑھ گئی ہے کہ مکان کم پڑ گئے ہیں۔ دوسری طرف کابل میں ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے کئی گھر گرائے جا رہے ہیں، جس سے رہائش کا مسئلہ اور سنگین ہو گیا ہے۔
بلدیہ کے ترجمان نعمت اللہ بارک زئی کے مطابق کابل کا 75 فیصد حصہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے تعمیر ہوا ہے، اور اب حکام نہیں چاہتے کہ ویسا دوبارہ ہو۔
ایران سے واپس آئی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ جس تہہ خانے میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہیں، وہاں نہ بجلی ہے، نہ پانی، اور کرایہ دینا ان کے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے شوہر روزانہ کی مزدوری کرتے ہیں اور صرف 80 افغانی کماتے ہیں، جو کرایہ کے لیے ناکافی ہے۔ ان کی بیٹی قوانین کی وجہ سے سکول نہیں جا سکتی، اور چھوٹی بچیوں کے سکول کی فیس بھی وہ ادا نہیں کر سکتے۔
یہ رہائشی بحران صرف واپس آئے افغانوں کو نہیں بلکہ کابل کے پرانے رہائشیوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ کابل کے مغربی علاقے میں رہنے والی سلائی سکھانے والی استانی کا کہنا ہے کہ ان کے مکان مالک نے کرایہ 3 ہزار افغانی بڑھا دیا ہے۔ وہ مکان بدلنا چاہتی تھیں لیکن کرایے ہر جگہ بہت زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا، "یہ ایک ایسی مایوس کن صورتحال ہے کہ نہ آپ کہیں جا سکتے ہیں، نہ ہی موجودہ جگہ پر رہ سکتے ہیں۔"