ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
بین الاقوامی تحفظ کے مستحق افغان شہریوں کی جبری واپسی نہ کی جائے، یو این ایچ سی آر Home / بین الاقوامی,قومی /

بین الاقوامی تحفظ کے مستحق افغان شہریوں کی جبری واپسی نہ کی جائے، یو این ایچ سی آر

سپر ایڈمن - 07/08/2025 1248
بین الاقوامی تحفظ کے مستحق افغان شہریوں کی جبری واپسی نہ کی جائے، یو این ایچ سی آر

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین(یو این ایچ سی آر) نے پاکستان کی جانب سے ان افغان پناہ گزینوں، جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن کارڈ موجود ہیں، ان کو جبری طور پر واپس بھیجنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

 

31 یاد رہے کہ جولائی کو پاکستان نے واضح کیا کہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی "غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی منصوبے" کے تحت کی جائے گی۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق گزشتہ دنوں ملک کے مختلف حصوں سے افغان شہریوں کی گرفتاریوں اور نظربندی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں پی او آر  کارڈ رکھنے والے بھی شامل ہیں۔

 

یو این ایچ سی آر نے پاکستان کی گزشتہ 40 برسوں سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی اور انسان دوست رویے کو سراہا ہے، تاہم پی او آر  کارڈ رکھنے والے افراد کو جبراً واپس بھیجنا نہ صرف اس دیرینہ پالیسی کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کے اصول "نان ریفاؤلمنٹ" (زبردستی واپس نہ بھیجنے کا اصول) کی بھی خلاف ورزی ہے۔

 

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ ادارے کو خاص طور پر افغان خواتین و بچیوں کی واپسی پر تشویش ہے کیونکہ افغانستان میں ان کے بنیادی حقوق کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اسی طرح دیگر کمزور گروہوں کے لیے بھی یہ واپسی غیر محفوظ ہو سکتی ہے۔

 

یو این ایچ سی آر  نے پاکستان کی جانب سے پی او آر کارڈز کی معیاد میں اضافے کی کوششوں کو سراہا ہے اور اضافی ایک ماہ کی "مہلت" دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

 

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ان افغان شہریوں کو جبری واپسی سے مستثنیٰ قرار دے جنہیں اب بھی بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔ ادارے نے ان افغان باشندوں کو بھی پاکستان میں قیام کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے جو علاج کےلئے مقیم ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا جن کی شادی پاکستانی شہریوں سے ہوئی ہے۔

 

واضح رہے کہ رواں سال اب تک 21 لاکھ سے زائد افغان شہری واپس افغانستان جا چکے ہیں یا زبردستی بھیجے گئے ہیں، جن میں 3 لاکھ 52 ہزار صرف پاکستان سے واپس گئے۔ اتنی بڑی تعداد میں اور جلد بازی میں واپسی سے افغانستان میں نہ صرف بنیادی سہولیات، رہائش اور روزگار پر بوجھ بڑھا ہے بلکہ انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے، جس سے پورے خطے میں عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔