یونیسف نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں مارٹر شیل پھٹنے سے پانچ بچوں کی جان جانے اور ایک درجن سے زائد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچوں نے قریبی کھیت سے نہ پھٹنے والا مارٹر شیل اٹھا لیا، جسے وہ کھلونا سمجھ کر گاؤں لے آئے، جہاں وہ بعد میں دھماکے سے پھٹ گیا۔
یونیسف نے جاں بحق بچوں کے اہلِ خانہ، دوستوں اور متاثرہ برادری سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی بھی بچے کو بارودی سرنگ یا نہ پھٹنے والے دھماکہ خیز مواد کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے باقی ماندہ دھماکہ خیز مواد بچوں اور کمیونٹیز کے لیے جان لیوا خطرہ ہیں، اور بچے اس خطرے کو سمجھنے میں کمزور ہونے کے باعث زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
یونیسف کے مطابق جنوری 2025 سے اب تک صوبائی حکومت کے تعاون سے خیبر پختونخوا کے سکولوں اور کمیونٹیز میں 9,500 بچوں کو بارودی مواد سے بچاؤ کی تربیت دی جا چکی ہے، تاکہ وہ زمین میں موجود بارودی سرنگ یا دھماکہ خیز مواد کو پہچان سکیں اور اس سے دور رہیں۔
یونیسف نے حکومت پاکستان اور شراکت دار اداروں سے مطالبہ کیا کہ بارودی مواد سے بچاؤ کی آگاہی مہم کو مزید بڑھایا جائے تاکہ ہر بچے تک یہ زندگی بچانے والی معلومات پہنچ سکے۔
ادارے نے بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کی مکمل صفائی، بچوں کے تحفظ، متاثرین کی بحالی اور محفوظ ماحول میں زندگی کے حق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔