محمد سلمان
یاسر علی ضلع لوئر چترال میں وادی کالاش بمبوریت کے رہائشی ہیں، وہ فرنیچر کا کارخانہ چلانے کے ساتھ ساتھ پانی سے بجلی پیدا کرنے والے پن بجلی گھر کے مالک بھی ہیں۔
خیبر پختون خوا میں سوات، دیر کمراٹ اور چترال ایسے علاقے ہیں، جہاں پانی کی وافر مقدار موجود ہے۔ تو وہاں پر زیادہ تر بجلی پانی ہی سے پیدا کی جاتی ہے۔ جس کے لیے چھوٹے چھوٹے بجلی گھر بنائے جاتے ہیں، بمبوریت کا علاقہ بھی پانی سے نہ صرف مالا مال ہے بلکہ یہاں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی ایک خاصی اچھی صلاحیت موجود ہے، تو یاسر علی ہی کے ذہین میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کا خیال کیسے آیا اور اس پر ان کی کتنی لاگت آئی ہے؟ یہ سب ہم نے یاسر سے جاننے کی کوشش کی ہے۔
یاسر علی کہتے ہیں کہ پن بجلی گھر بنانے کا خیال یہاں کے لوکل انجینیئر عبدالہادی نے ان کے ذہین میں ڈالا کہ آپ کے پاس بجلی گھر کے لیے اتنی اچھی جگہ موجود ہے اور اس کے باوجود بھی آپ اس پراجیکٹ سے محروم ہیں لہذا انجینیئر کی وہ بات کام کر گئی اور یاسر علی نے بجلی گھر بنانے کی ٹھان لی۔
انہوں نے بتایا کہ بمبورت اور رمبور کے درمیان دوباچ ایک علاقہ ہے جہاں چترال لیویز کی ایک چیک پوسٹ بھی واقع ہے۔ وہاں پر پہلے سے ایک بجلی گھر قائم تھا لیکن 2015 میں آنے والے سیلاب نے اس بجلی گھر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور یہاں سے بجلی گھر کا نام و نشان ختم ہو کر رہ گیا۔ یہ علاقہ 2015 سے 2022 تک بجلی سے محروم رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد تو بجلی گھر ختم ہو گیا تھا لیکن اس کی مشینری موجود تھی جس کو میں نے خریدنے کا فیصلہ کیا اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے بات کی تو اس پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ اپ اپنی جیب سے رمبور کے راستے سے اس علاقے کے لیے بجلی کی فراہمی کا بندوبست کریں تو اس کے بدلے ہم آپ کو یہ مشینری دے دیں گے لہذا میں نے آٹھ لاکھ روپے خرچ کر کے رمبور سے بجلی کا بندوبست کیا اور 2022 میں مشینری میرے حوالے کی گئی۔
انہوں نے بتایا سیلاب سے مشینری کچھ خراب ہو گئی تھی جسے ٹھیک کرنے کے لیے چترال لے جایا گیا اور وہاں ٹھیک کر کے اسے واپس بمبوریت لے آیا جس پر لوکل انجینیئر نے کام شروع کیا تین ماہ کی قلیل مدت میں یہ بجلی گھر تیار ہوا جس پر کل 70 لاکھ روپے کی لاگت آئی ہے۔
یاسر علی کا کہنا ہے کہ پانی سٹوریج کی جگہ جتنی اونچائی پر ہوگی اتنی ہی یہ بجلی گھر کے لیے موزوں جگہ ہوگی۔ اس کے علاوہ زیادہ بجلی کی پیداوار کا دارومدار زیادہ پانی کے بہاؤ پر ہے۔ جتنا پانی زیادہ ہوگا اتنی ہی زیادہ بجلی بنے گی۔
اس بجلی گھر میں 30 کے وی کا جنریٹر لگا ہوا ہے۔ جو 10 کے وی تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بجلی گھر سے 6 دکانوں، 3 ہوٹلز، 3 ریسٹ ہاؤسز اور میرے فرنیچر کے کارخانے کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ دکانوں سے ماہانہ 1200 روپے بل ہوٹل سے ماہانہ 2000 تک اور ریسٹ ہاؤسز سے ماہانہ 3 ہزار تک بجلی کا بل وصول کیا جا رہا ہے۔ یوں یہ مہینے کے 20 سے 25 ہزار روپے بنتے ہیں ایک مسجد اور ایک میٹرنٹی ہوم کو بھی بجلی دی گئی ہے جو ان کو فری میں دی جا رہی ہے۔
یاسر علی کے مطابق اگر مشینری میں چھوٹا مسئلہ درپیش آئے تو وہ انہیں خود حل کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر بڑا مسئلہ نکل آتا ہے تو وہ اسے ٹھیک کرنے کے لیے چترال لے جاتے ہیں۔