تم بھی اُس جیسی بنو تاکہ رشتہ اچھا آئے، ایک تلخ سوچ
سعدیہ بی بی
انسان کی فطرت ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے ملا کر دیکھتا ہے۔ ہم خود کا بھی دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں اور بد قسمتی سے یہ اصول اپنے بچوں پر بھی مسلط کرنے لگتے ہیں۔ اکثر والدین نادانی میں اپنے بچوں کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرتے ہیں، جیسے سب کو ایک جیسا ہونا چاہیے۔ یہ سمجھے بغیر کہ وہ ان کے جذبات، ذہنی نشوونما اور خوداعتمادی پر کیا اثر ڈال رہے ہیں۔
ہر بچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک انمول تحفہ ہے۔ جو اپنی الگ خصوصیات، صلاحیتوں اور رجحانات کے ساتھ دنیا میں آتا ہے۔ اسے ایک مخصوص سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرنا۔ یا کسی اور بچے جیسا بنانے کی خواہش رکھنا بالکل ایک غیر فطری اور ظالمانہ عمل ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ جب ایک بیٹی کو دنیا میں بھیجتا ہے تو وہ صرف ایک وجود نہیں بلکہ وہ ایک مکمل شخصیت ہوتی ہے۔ اُس میں محبت ہوتی ہے، نرمی ہوتی ہے، خدمت ہوتی ہے، قربانی ہوتی ہے۔ وہ صرف جسم نہیں لاتی، وہ جذبات، احساسات، عزت، شرم، اور حیاء کا خوبصورت امتزاج ہوتی ہے۔ بیٹی، ماں کی پرچھائی، باپ کی محبت، بھائی کی رازدار، اور مستقبل کی نسل کی بنیاد ہوتی ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اس نعمت کی قدر کی؟ کیا ہم نے اسے قبول کیا جیسا اللہ نے بنایا؟ یا پھر ہم نے اُسے بھی "دوسروں جیسا" بننے کے دباؤ میں دھکیل دیا؟
ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کو ہر وقت کسی نہ کسی سے موازنہ کا سامنا رہتا ہے۔ خاص طور پر جب ایک ماں خود اپنی بیٹی سے کہہ دے: "تم اُس جیسی بنو ، تم اُس کی طرح کپڑے پہنو، اُس جیسا بولنے کا انداز اپنا لو، اس جیسا تیار رہا کرو، اس جیسا پڑھا لکھا کرو، تمہارے بھی اچھے اچھے رشتے آئیں گے"۔ یہ جملے اکثر ماں یا رشتے دار نادانی میں بول دیتے ہیں۔ یہ جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے، یہ ایک چوٹ ہوتی ہے۔ یہ ماں کے دل کی خواہش تو ہو سکتی ہے، مگر بیٹی کے دل کا بوجھ بن جاتی ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ جملے صرف مشورہ نہیں، بلکہ ایک بیٹی کی شخصیت، خودی اور پہچان پر حملہ ہیں۔
جب بار بار ایک بیٹی کو کسی اور جیسا بننے کو کہا جاتا ہے، تو اس کا دماغ سوالات پیدا کرنے لگ جاتا ہے: "کیا مجھ میں کوئی کمی ہے؟ کیا میں ویسی کیوں نہیں جیسی ماں چاہتی ہے؟ کیا میرے جیسا ہونا شرم کی بات ہے؟ اور یوں، وہ اپنے آپ سے ناراض ہونے لگتی ہے، خود سے دور ہو جاتی ہے، جیسے اپنے بیٹی ان کے لیے کافی نہیں ہیں، اچھی ہی نہیں ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی تعریف کرتے ہیں اور اپنے بیٹی میں بس خامیاں ہی نظرآتی ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ صرف ایک نقل بن کر رہ جاتی ہے۔
موازنہ صرف احساسِ کمتری ہی نہیں دیتا، بلکہ بیٹی کی خوداعتمادی بھی کمزور کر دیتا ہے۔ جب ماں باپ بار بار یہ کہیں کہ "تم اُس جیسی بنو"، تو لڑکی کے دل میں حسد، جلن اور بےچینی پیدا ہونے لگتی ہے اور وہ اپنی اصل شخصیت کو چھوڑ کر دوسروں جیسا بننے کی کوشش کرتی ہے، جو اس کی فطری خوبصورتی اور خوبیوں کو چھپا دیتا ہے۔ ایسے رویے سے ماں باپ اور بیٹی کے درمیان محبت کا رشتہ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ موازنہ لڑکیوں کو دوسروں کی پسند اور اپروول کا محتاج بنا دیتا ہے، تعلیم، ہنر اور اخلاق کی جگہ صرف ظاہری شکل و صورت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کم عمر بچیاں ذہنی دباؤ، ڈپریشن جیسے مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔
نصیب ہر بیٹی کی الگ کہانی ہے۔ ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ رشتے نصیب سے آتے ہیں۔ کسی کا نصیب جلد کھلتا ہے، کسی کا دیر سے۔ کوئی ایک ملاقات میں پسند آ جاتا ہے، کوئی بار بار دیکھے جانے کے بعد بھی رد ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ سب ایک آزمائش ہے، ناکامی نہیں۔ کبھی کبھی ماں کو لگتا ہے کہ بیٹی کا انداز، رنگ، یا سادگی رشتوں کی راہ میں رکاوٹ ہے حالانکہ اصل بات صرف وقت کی ہوتی ہے۔ رشتے کپڑوں یا بولنے کے انداز سے نہیں، اللہ کی مرضی اور وقت سے آتے ہیں۔ بیٹی کو کسی اور جیسا بنانے سے رشتہ جلدی نہیں آتا، ہاں اُس کا اعتماد ضرور چلا جاتا ہے۔
ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کو بدلنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اسے ویسا ہی قبول کریں جیسی وہ ہے۔ ہر بیٹی اپنے اندر ایک خوبصورت پہچان رکھتی ہے۔ اسے دوسروں سے ملانے کے بجائے، اس کی اپنی خوبیوں کو سمجھیں اور اس پر فخر کریں۔ اگر ماں باپ اپنی بیٹی پر بھروسا کریں، تو وہ بھی خود پر بھروسا کرنا سیکھتی ہے۔ جب بیٹی کو یہ احساس ہو کہ میرے ماں باپ میرے ساتھ ہیں، تو وہ زندگی کے ہر چیلنج کا ہمت سے مقابلہ کرتی ہے۔ بیٹی کو اپنائیے، وہ نکھر جائے گی۔