قدرتی حسن، بلند پہاڑوں اور دریائے سوات کے علاوہ یہ وادی اپنے منفرد مقامی کھانوں کی وجہ سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ یہاں ہر موسم اپنے ساتھ ایک الگ ذائقہ لے کر آتا ہے، لیکن سردیوں میں سوات کے گھروں کے دسترخوان پر سجنے والی ایک روایتی ڈش ایسی ہے جس کا ذائقہ مقامی لوگوں کے لیے صرف کھانے تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کی ثقافت، یادوں اور خاندانی روایات کا حصہ بھی ہے۔ اس مقامی ڈش کو ورژلی کہا جاتا ہے، جبکہ سوات کے بعض علاقوں میں اسے چوکان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ورژلی خاص طور پر سردیوں میں تیار کی جاتی ہے کیونکہ اس میں استعمال ہونے والا مقامی ساگ، جسے شوتل اور شلخے کہتے ہیں، عموماً اسی موسم میں دستیاب ہوتا ہے۔ شوتل اور شلخی کے ساتھ ، پالک، ہرا لہسن اور ہری پیاز ملا کر اسے تیار کیا جاتا ہے۔ اس ڈش کی خاص بات یہ ہے کہ اسے عام چاولوں کے بجائے سوات کے مقامی بیگمئی چاولوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق دوسرے اقسام کے چاول استعمال کرنے سے اس کا وہ مخصوص ذائقہ اور روایتی لذت برقرار نہیں رہتی۔

سوات کے علاقے چارباغ سے تعلق رکھنے والی عائشہ بتاتی ہیں کہ ورژلی اگرچہ سردیوں میں مختلف دنوں میں بھی بنائی جاتی ہے، تاہم اتوار کو اس کی تیاری کا اپنا ہی مزہ ہے۔ ان کے بقول، اتوار کو زیادہ تر افراد کی چھٹی ہوتی ہے، اس لیے گھر کے تمام افراد دوپہر کے کھانے پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ ہفتے کے باقی دنوں میں بچے اسکول اور بڑے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں، اس لیے ورژلی بنانے اور سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا موقع عموماً اتوار کو زیادہ ملتا ہے۔
عائشہ کے مطابق ورژلی کیساتھ اصلی دیسی گھی استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ دودھ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ بعض گھرانوں میں دودھ کے بجائے دہی استعمال کرنے کی روایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیسی گھی کی وجہ سے یہ کھانا قدرے بھاری ہوتا ہے، اس لیے بہت سے لوگ اسے دوپہر کے وقت کھانا پسند کرتے ہیں۔ سردیوں کی دھوپ میں گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر گرم گرم ورژلی کھانے کا لطف ہی الگ ہوتا ہے۔

ورژلی کی یہی خاصیت اسے صرف سوات تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اس سے دور رہنے والوں کے لیے بھی یہ ایک یادگار ذائقہ بن جاتی ہے۔ کراچی میں مقیم اور سوات سے تعلق رکھنے والی آمنہ کہتی ہیں کہ جب بھی انہیں اپنے میکے جانا ہوتا ہے تو وہ کوشش کرتی ہیں کہ سردیوں میں جائیں تاکہ ورژلی کھانے کا موقع مل سکے۔ ان کے بقول، کراچی میں رہتے ہوئے انہیں اس مقامی ڈش کی بہت یاد آتی ہے اور وہ کبھی کبھار اسے گھر میں بنانے کی کوشش بھی کرتی ہیں، لیکن وہاں نہ تو سوات کا مخصوص مقامی ساگ دستیاب ہوتا ہے اور نہ ہی بیگمئی چاول آسانی سے ملتے ہیں، اس لیے وہی روایتی ذائقہ پیدا نہیں ہو پاتا۔
آمنہ کہتی ہیں کہ سوات آنے پر وہ مقامی کھانوں میں سب سے پہلے ورژلی کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان کے لیے سردیوں میں سوات آنا اور ورژلی نہ کھانا ادھورا سا محسوس ہوتا ہے۔
یوں ورژلی محض ساگ اور چاولوں سے تیار ہونے والی ایک مقامی ڈش نہیں بلکہ سوات کی موسمی خوراک، مقامی زرعی پیداوار اور خاندانی میل جول کی ایک خوب صورت روایت ہے۔ بدلتے وقت کے باوجود اس کھانے کی کشش برقرار ہے۔ خاص طور پر اتوار کی سرد دوپہر میں جب گھر کے افراد ایک دسترخوان پر جمع ہوں، گرم ورژلی کی خوشبو پھیلی ہو اور ساتھ دودھ یا دہی موجود ہو تو یہ ذائقہ صرف بھوک نہیں مٹاتا بلکہ اپنوں کے ساتھ گزارے گئے لمحوں کو بھی یادگار بنا دیتا ہے۔
