کوئٹہ: بلوچستان وزیر اعلی ہاؤس سے متعلق معلومات پر مبنی وی لاگ نشر کرنے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد صحافی آغا عبید کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، اگلی رات ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جبکہ بعد ازاں روزنامہ صدائے اولس کا ڈیکلریشن بھی منسوخ کروا دیا گیا۔
آغا عبید نے ٹرائبل نیوز نیٹ ورک (ٹی این این) سے گفتگو میں بتایا کہ 29 اکتوبر کو انہیں مسلسل فون کالز موصول ہوئیں کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے 29، 30 اور 31 تاریخ کو مختلف افراد سے رابطے کرکے معاملے کی تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران انہیں بتایا گیا کہ کچھ لوگ وزیراعلیٰ ہاؤس آئے تھے، تاہم ان کی آمد کے مقصد اور وہاں پیش آنے والے واقعات سے متعلق مختلف اطلاعات سامنے آتی رہیں۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود ان کے آٹھ سے نو ذرائع نے انہیں مختلف تفصیلات فراہم کیں، جن کی بنیاد پر انہوں نے 31 تاریخ کی رات چار منٹ کا وی لاگ جاری کیا۔ وی لاگ میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ مختلف ذرائع سے متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، اس لیے وزیراعلیٰ ہاؤس کو اس معاملے پر باضابطہ وضاحت یا تردید جاری کرنی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
آغا عبید نے بتایا کہ وی لاگ نشر ہونے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے تحت ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ اگلی رات ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معلومات کی تصدیق کے لیے سرکاری حکام سے بھی رابطہ کیا اور فون کالز کیں، تاہم کسی نے ان کی کالز موصول نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر وی لاگ میں پیش کی گئی معلومات میں کوئی غلطی تھی تو متعلقہ حکام وضاحت یا تردید جاری کر سکتے تھے۔ وہ اپنے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات اور ان کے پس منظر کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم حکومت اور صحافی کے درمیان معاملات ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق طے ہونے چاہئیں۔
آغا عبید کے مطابق ان کے خلاف کارروائی سے پہلے نہ کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی انہیں آگاہ کیا گیا۔ پہلے ایف آئی آر درج کی گئی اور پھر گھر پر چھاپہ مارا گیا، جس سے قانونی طریقہ کار سے متعلق کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ معاملہ مقدمے اور گھر پر چھاپے تک محدود نہیں رہا بلکہ روزنامہ صدائے اولس کا ڈیکلریشن بھی ڈپٹی کمشنر کے ذریعے منسوخ کروا دیا گیا۔ ان کے مطابق اخبار کا دفتر 2005ء سے اشاعت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا، تاہم ڈیکلریشن کی منسوخی سے پہلے انہیں کوئی شوکاز نوٹس نہیں دیا گیا اور نہ ہی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملا۔

آغا عبید کا کہنا تھا کہ ان کے مطابق اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کرنے سے پہلے متعلقہ فریق کو نوٹس جاری کرکے وضاحت کا موقع دینا ضروری تھا، لیکن اس معاملے میں ایسا کوئی قانونی تقاضا پورا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی صحافی کی جانب سے دستیاب معلومات عوام تک پہنچانا جرم ہے؟ اگر کسی خبر یا وی لاگ میں غلطی ہو تو اس کی وضاحت یا تردید کے بجائے مقدمہ درج کرنا، گھر پر چھاپہ مارنا اور اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کرنا کس حد تک مناسب ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ صحافت کا بنیادی اصول عوام تک معلومات پہنچانا اور متعلقہ فریق کا مؤقف بھی سامنے لانا ہے۔ کسی صحافی کے کام پر اعتراض کی صورت میں معاملہ آئین، قانون اور شفاف قانونی طریقہ کار کے تحت حل ہونا چاہیے۔
