خیبرپختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جب بھی صحافت کا ذکر آتا ہے تو ذہن میں بم دھماکوں، دہشت گردی، نقل مکانی، فوجی آپریشنز اور بدامنی کے دوران کام کرنے والے صحافیوں کی تصویر ابھرتی ہے، لیکن اس تصویر کا ایک کم نظر آنے والا رخ بھی ہے۔ یہ ان چند خواتین صحافیوں کی کہانی ہے جو سخت قبائلی روایات، سیکیورٹی خطرات، مالی مشکلات اور سماجی دباؤ کے باوجود اپنے علاقوں کے مسائل اجاگر کر رہی ہیں۔
قبائلی اضلاع میں خواتین صحافیوں کی تعداد آج بھی انتہائی محدود ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم صحافت میں خواتین کی شمولیت اب بھی کئی مشکلات موجود ہے۔
بین الاقوامی تنظیم ویمن میڈیا فورم پاکستان اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی 2023 اور 2024 کی میپنگ کے مطابق پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں تقریباً 15 ہزار صحافی اور میڈیا ورکرز کام کرتے ہیں، جن میں خواتین کا تناسب 5 سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔ کراچی اور اسلام آباد میں خواتین کی نمائندگی نسبتاً بہتر ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں یہ شرح کم ہے۔ قبائلی اضلاع میں صورتحال مزید مختلف ہے۔
سابق فرنٹیئر ریجن پشاور کے علاقے حسن خیل سے تعلق رکھنے والی شمائلہ آفریدی گزشتہ سات برسوں سے صحافت اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ خواتین کے حقوق، تعلیم، انسانی حقوق اور امن کے موضوعات پر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق اپنے علاقے کے مسائل کو قومی میڈیا تک پہنچانے کے لیے انہوں نے صحافت کا انتخاب کیا۔

شمائلہ آفریدی کہتی ہیں، ’’میں اپنے علاقے کی پہلی خاتون صحافی تھی۔ حسن خیل اور قبائلی علاقوں کی محرومیاں کسی تک نہیں پہنچ رہی تھیں، اسی لیے میں نے صحافت شروع کی۔‘‘
ان کے مطابق یونیورسٹی کے زمانے میں ہی انہوں نے اپنے علاقے کے مسائل پر لکھنا شروع کر دیا تھا، لیکن بطور خاتون صحافی انہیں کئی سماجی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ کہتی ہیں، ’’مجھے کئی بار کہا گیا کہ اگر میرا چہرہ میڈیا پر آیا تو یہ ناقابل برداشت ہوگا۔ اسی لیے میں نے طویل عرصے تک نقاب میں کام کیا۔ آج بھی میں آزادانہ طور پر کیمرہ لے کر اپنے علاقے میں نہیں گھوم سکتی۔ میرا علاقہ میرے لیے سیکیورٹی رسک زون بن چکا ہے۔ میں دہشت گردی سے متاثرہ لوگوں کی آواز دنیا تک پہنچانا چاہتی ہوں، مگر حالات اجازت نہیں دیتے۔‘‘
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی معروف صحافی رضیہ محسود قبائلی علاقوں میں خواتین صحافیوں کی موجودگی کو ’’آٹے میں نمک کے برابر‘‘ قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق 2016 سے اب تک وزیرستان میں وہ واحد خاتون صحافی ہیں جو مسلسل فیلڈ میں کام کر رہی ہیں۔
رضیہ محسود کہتی ہیں، ’’میڈیا اور ابلاغ عامہ کی تعلیم حاصل کرنے والی بہت سی لڑکیاں عملی صحافت تک نہیں پہنچ پاتیں۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد اکثر کی شادی ہو جاتی ہے یا خاندان فیلڈ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘

ان کے مطابق خواتین صحافیوں کو فیلڈ کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی شدید تنقید اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی خواتین صحافیوں کو فیلڈ رپورٹنگ کے دوران سیکیورٹی خدشات، ہراسانی، محدود پیشہ ورانہ مواقع اور ادارہ جاتی معاونت کی کمی کا سامنا ہے۔ صحافتی تنظیموں میں خواتین کی محدود نمائندگی بھی ان مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق خیبرپختونخوا میں صرف پشاور پریس کلب وہ واحد بڑا صحافتی فورم ہے جہاں 12 خواتین صحافیوں کو باقاعدہ رکنیت حاصل ہے، جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع کے کسی بھی پریس کلب میں خواتین صحافیوں کی رکنیت موجود نہیں۔
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے صحافیوں کے لیے خطرناک ممالک میں شمار ہوتا رہا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک اور دیگر میڈیا کی نگرانی کرنے والی تنظیموں کے مطابق صحافیوں کو دھمکیوں، حملوں، سنسرشپ اور دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں خواتین صحافیوں کے لیے یہ خطرات سماجی پابندیوں اور صنفی امتیاز کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
سینئر خاتون صحافی فرزانہ علی کے مطابق قبائلی علاقوں کی روایات خواتین کی نقل و حرکت محدود کرتی ہیں، جبکہ صحافت کے لیے فیلڈ میں جانا ضروری ہے۔

شمائلہ آفریدی بھی ان مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ رسم و رواج، خواتین کی نقل و حرکت پر پابندیاں، محدود وسائل، تربیت کے کم مواقع اور حساس موضوعات پر رپورٹنگ کے دوران دباؤ ان کے بڑے چیلنجز ہیں۔
رضیہ محسود کے مطابق انہیں متعدد مرتبہ قتل کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’مجھے آن لائن دھمکیوں کے ساتھ قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ انسداد دہشت گردی نے باقاعدہ مجھے بتایا کہ میرے خلاف خطرات موجود ہیں۔‘‘
فیلڈ کے علاوہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی خواتین صحافیوں کو ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی تحقیق ’’ہاسٹائل بائٹس‘‘ کے مطابق پاکستان میں 95 فیصد خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ آن لائن تشدد اور ہراسانی ان کے پیشہ ورانہ فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ 77 فیصد خواتین صحافیوں نے ہراسانی کے خوف سے خود سنسرشپ اختیار کرنے کا اعتراف کیا۔
اسی تحقیق کے مطابق 10 میں سے 3 خواتین صحافی بلیک میلنگ، تشدد پر اکسانے اور دیگر سنگین آن لائن جرائم کا شکار ہوئیں۔ 2021 میں میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی ایک اور تحقیق کے مطابق 70 فیصد خواتین صحافیوں نے صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے دھمکیوں، حملوں یا ہراسانی کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔
رضیہ محسود کہتی ہیں، ’’میں نے شروع سے اب تک بے شمار آن لائن دھمکیوں کا سامنا کیا، لیکن اگر ان دھمکیوں کو اہمیت دیتی تو شاید آج صحافت میں موجود نہ ہوتی۔‘‘

سیکیورٹی اور سماجی مشکلات کے ساتھ مالی مسائل بھی خواتین صحافیوں کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔ قبائلی اضلاع کے بیشتر صحافی مستقل ملازمت کے بجائے آزادانہ بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ شمائلہ آفریدی بھی آزاد صحافی ہیں۔ ان کے مطابق مالی طور پر کمزور اور کسی مضبوط ادارے سے وابستہ نہ ہونے والی خواتین کو دھمکیوں اور دباؤ کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’’اگر کوئی خاتون تمام رکاوٹیں عبور کرکے صحافت میں آتی ہے تو اسے معاونت اور بہتر معاوضہ ملنا چاہیے، لیکن اکثر میڈیا ادارے قبائلی علاقوں سے آنے والی خواتین صحافیوں کو مناسب معاوضہ اور سہولیات فراہم نہیں کرتے۔‘‘
فرزانہ علی کے مطابق بہت سی خواتین اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے قبائلی خواتین کی آواز بننے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن انہیں اس کام کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا، جس سے ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
قبائلی خواتین کے مسائل اجاگر کرنے میں خاتون صحافیوں کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ بہت سی خواتین اپنے مسائل مرد صحافیوں کے ساتھ بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں۔
شمائلہ آفریدی کہتی ہیں، ’’بہت سی خواتین اپنی کہانیاں مرد صحافیوں کے ساتھ شیئر نہیں کرتیں، لیکن ایک خاتون صحافی ان کے گھروں تک جا سکتی ہے اور ان کی بات بہتر انداز میں سامنے لا سکتی ہے۔‘‘
رضیہ محسود بھی سمجھتی ہیں کہ خواتین صحافیوں کی موجودگی نے قبائلی معاشرے میں تبدیلی پیدا کی ہے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے کام شروع کیا تو حالات مختلف تھے، لیکن اب والدین خود فون کرکے کہتے ہیں کہ آپ کی وجہ سے ہم اپنی بیٹیوں کو آگے آنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والی آزاد صحافی جمائمہ آفریدی گزشتہ آٹھ برسوں سے قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق قبائلی علاقوں میں خواتین کی تعلیم اور روزگار کے محدود مواقع کے باعث صحافت سمیت دیگر شعبوں میں بھی ان کی نمائندگی کم ہے۔
جمائمہ آفریدی کہتی ہیں، ’’قبائلی علاقوں میں خواتین صحافیوں کو سب سے بڑا مسئلہ لوگوں کے رویوں کی صورت میں درپیش ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ خواتین کیمرے کے سامنے نہیں آ سکتیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا بھی آسان نہیں، جس کی وجہ سے خواتین کے مسائل اجاگر کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔‘‘

ان کے مطابق بہت سی نوجوان لڑکیاں صحافت میں آنے کی خواہش رکھتی ہیں، لیکن قبائلی روایات، سماجی دباؤ اور بنیادی سہولیات کی کمی انہیں عملی طور پر کام کرنے سے روکتی ہے۔ جمائمہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو خواتین صحافیوں کے لیے محفوظ ماحول، روزگار کے مواقع اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والی سینئر صحافی فرزانہ علی بھی قبائلی علاقوں کی سماجی اور ثقافتی روایات کو خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی میں بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلنا، آزادانہ سفر کرنا اور دفاتر میں کام کرنا شہروں کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہے، جبکہ صحافت میں فیلڈ ورک کی ضرورت ان مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔
فرزانہ علی کہتی ہیں، ’’کئی خواتین صحافت میں دلچسپی رکھنے کے باوجود خاندانی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے یہ شعبہ چھوڑ دیتی ہیں، جبکہ کچھ خواتین اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر گھروں سے ڈیجیٹل یا ویب پلیٹ فارمز کے لیے کام کرتی ہیں۔‘‘
ان کے مطابق خواتین صحافیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے میڈیا اداروں اور حکومت کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ وہ کہتی ہیں، ’’خواتین کے لیے دفاتر اور فیلڈ میں ایسی سہولیات ضروری ہیں جہاں وہ خود کو محفوظ اور پُرسکون محسوس کریں۔ ٹرانسپورٹ، سیکیورٹی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘

فرزانہ علی کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا نے قبائلی علاقوں کی خواتین کو اظہار کا نیا پلیٹ فارم ضرور دیا ہے، تاہم فیلڈ رپورٹنگ اور مالی مشکلات اب بھی ان کی شمولیت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
تمام مشکلات کے باوجود قبائلی اضلاع میں خواتین صحافیوں کی موجودگی ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ رضیہ محسود کے مطابق اب خواتین مختلف شعبوں میں سامنے آ رہی ہیں اور معاشرے میں انہیں قبول کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔
شمائلہ آفریدی کا ماننا ہے کہ اگر خواتین صحافیوں کو تربیت، مالی معاونت، قانونی تحفظ، سیکیورٹی سہولیات اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو قبائلی اضلاع میں صحافت کا منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ جمائمہ آفریدی بھی کہتی ہیں کہ لوگوں کے رویوں میں بتدریج تبدیلی آ رہی ہے اور خواتین کو گھر سے باہر نکل کر کام کرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔
فرزانہ علی کے مطابق قبائلی علاقوں کی خواتین صحافی صرف خبریں نہیں لکھ رہیں بلکہ ایسے معاشرے میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں جہاں طویل عرصے تک خواتین کی عوامی زندگی میں شمولیت محدود رہی۔ وہ دہشت گردی، نقل مکانی، غربت، خواتین کے حقوق اور سماجی ناانصافیوں کی کہانیاں دنیا تک پہنچا رہی ہیں، جبکہ خود بھی انہی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔
قبائلی علاقوں میں خواتین صحافیوں کی تعداد اگرچہ کم ہے، لیکن ان کی جدوجہد ظاہر کرتی ہے کہ سخت سماجی روایات اور خطرناک حالات کے باوجود خواتین اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ تاہم اگر ریاست، میڈیا ادارے اور صحافتی تنظیمیں انہیں محفوظ، باعزت اور مساوی ماحول فراہم نہ کر سکیں تو ان علاقوں کی بہت سی اہم کہانیاں منظرعام پر آنے سے محروم رہ جائیں گی۔
