پانچ ماہ قبل ہمارے رشتہ داروں میں ایک 55 سالہ خاتون کا انتقال ہوا، جو اپنے پیچھے بیٹے، بیٹیاں، 60 سالہ شوہر اور جوان پوتے پوتیاں چھوڑ گئیں۔ تقریباً ایک ماہ قبل ان کے شوہر نے دوسری شادی کی خواہش ظاہر کی تو خاندان میں اس فیصلے پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ہمارے پاکستانی معاشرے میں صرف خواتین ہی نہیں بلکہ زیادہ عمر کے مردوں کو بھی دوسری شادی کی خواہش پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

مسئلہ دوسری شادی نہیں تھا بلکہ 60 سال کی عمر میں، بیوی کے انتقال کے چند ماہ بعد  شادی کی خواہش ظاہر کرنا تھا۔ مجھے ان کی یہ خواہش غیر معمولی نہیں لگی، کیونکہ شریکِ حیات کے انتقال کے بعد تنہائی اور کسی ساتھی کی ضرورت کسی بھی عمر میں محسوس ہو سکتی ہے، لیکن گھر والوں کے ردعمل نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر اس خواہش کو اتنی منفی نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟

 

مزید معلومات حاصل کرنے پر معلوم ہوا کہ اس رویے کے پیچھے معاشرتی روایات، عمر سے متعلق دقیانوسی تصورات، جذباتی وابستگیاں اور مالی و وراثتی خدشات اہم عوامل ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 50 سال سے زیادہ عمر میں شادی کرنا مناسب نہیں، اس عمر میں مرد کو بچوں اور پوتے پوتیوں پر توجہ دینی چاہیے، جبکہ بعض اسے پہلی بیوی کی بے حرمتی سمجھتے ہیں۔

 

اولاد کے لیے بھی والد کی دوسری شادی کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ کچھ بچے والد کی تنہائی سمجھ کر ان کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ بعض کو ماں کی جگہ کسی دوسری خاتون کے آنے، جائیداد، وراثت اور خاندانی تعلقات کے حوالے سے تحفظات ہوتے ہیں۔

ایسے مردوں کو اکثر یہ جملے سننے پڑتے ہیں کہ اولاد بڑی ہو گئی ہے، اب شادی کی کیا ضرورت ہے؟ اتنی عمر میں شادی کرتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ بیوی کو فوت ہوئے ابھی کتنا عرصہ گزرا ہے، اتنی جلدی کیسے بھول گئے؟ بچوں کا کیا ہوگا، ان کی ماں کی جگہ کون لے گا؟ اب تو دادا بن گئے ہو، پوتے پوتیوں پر توجہ دو۔ اگر کوئی اپنی عمر سے کم عمر خاتون سے شادی کرے تو اس پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔ بعض لوگ اس خواہش کو صرف جسمانی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ اسے وراثت پر قبضے سے جوڑ دیتے ہیں۔

 

یہ رویے ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عمر رسیدہ افراد کی جذباتی ضروریات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، حالانکہ ہر انسان کو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں محبت، عزت، تحفظ اور ساتھ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

 

عالمی ادارۂ صحت کی 30 جون 2025 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر چھ میں سے ایک شخص تنہائی محسوس کرتا ہے، جبکہ 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں تنہائی کی شرح 11.8 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق تنہائی اور سماجی تنہائی ذہنی و جسمانی صحت اور معیارِ زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ 

اس سوچ میں تبدیلی کے لیے چند اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے لوگوں کو مستند مذہبی اور قانونی حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ اسلام میں بیوی کے انتقال کے بعد مرد کے لیے دوسری شادی جائز ہے اور اس کے لیے عمر کی کوئی مخصوص بالائی حد مقرر نہیں۔

دوسرا، تنہائی کے ذہنی اور جسمانی اثرات کے بارے میں آگاہی دی جائے اور معاشرے میں ایسی دوسری شادیوں کی مثبت مثالیں سامنے لائی جائیں جن میں دونوں فریقوں نے سمجھ داری سے نئی زندگی شروع کی ہو۔ بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین سے شادی کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے تاکہ دوسری شادی کو صرف کم عمر لڑکی سے شادی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک دوسرے کا سہارا بننے کا ذریعہ بھی سمجھا جائے۔

 

تیسرا، مرد کو اپنے بچوں سے کھل کر بات کرنی چاہیے، ان کے جائز تحفظات سننے چاہییں اور جائیداد، وراثت اور ذمہ داریوں کے حوالے سے واضح منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ بچوں کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ والد کی خوشی اور جذباتی ضروریات اہم ہیں اور دوسری شادی لازماً والد اور بچوں کے تعلقات ختم ہونے کا سبب نہیں بنتی۔

 

میڈیا، ڈراموں، فلموں اور  شوز میں بھی اس موضوع پر حساس اور حقیقت پسندانہ گفتگو ہونی چاہیے، جبکہ اسکولوں اور کالجوں میں عمر رسیدہ افراد کی ضروریات کے حوالے سے آگاہی دی جائے۔ مردوں کو بھی اپنی جائز خواہش کے اظہار پر شرمندہ ہونے کے بجائے سنجیدگی اور خود اعتمادی سے بات کرنی چاہیے۔

اس کے علاوہ کمیونٹی کی سطح پر مشاورتی مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں، جہاں بیوہ مردوں اور خواتین کو دوسری شادی، خاندانی تعلقات اور جذباتی مسائل کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے۔ ان مراکز میں ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکنان بھی معاونت کر سکتے ہیں۔

 

یہ سوچ ایک رات میں تبدیل نہیں ہو سکتی، لیکن تعلیم، آگاہی، ہمدردی اور عملی اقدامات سے معاشرتی رویوں میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ آخرکار محبت، رفاقت اور سہارے کی خواہش کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔