خیبر پختونخوا کےقبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں اساتذہ کی کمی کے باعث سرکاری گرلز پرائمری سکولوں میں تدریسی نظام متاثر ہو رہا ہے، جہاں 7گرلز سکول بند پڑے ہیں جبکہ 101 تدریسی اور 34 غیر تدریسی آسامیاں خالی ہیں۔ دوسری جانب تحصیل میں 24 ہزار 500 طالبات زیر تعلیم ہیں، جن کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے محکمہ تعلیم نے پی ٹی سی کے ذریعے 282 خواتین اساتذہ منتخب کیے ہیں، جبکہ مزید 333 اساتذہ کی بھرتی کے لیے درخواست بھی دی ہے۔
سب ڈویژنل ایجوکیشن آفس (فی میل) باڑہ کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق تحصیل کے سرکاری پرائمری سکولوں میں تدریسی عملے کی 310 منظور شدہ آسامیوں میں سے 209 پُر ہیں جبکہ 101 خالی ہیں۔ اسی طرح غیر تدریسی عملے کی 270 آسامیوں میں سے 236 پُر اور 34 خالی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق پرائمری سکول ٹیچر (پی ایس ٹی) کی 145 منظور شدہ آسامیوں میں سے 81 پُر اور 64 خالی ہیں، جبکہ پرائمری سکول ہیڈ ٹیچر (پی ایس ایچ ٹی) کی 143 آسامیوں میں سے 106 پُر اور 37 خالی ہیں۔ ٹرینڈ ٹیچر (ٹی ٹی) کی تمام 22 آسامیاں پُر ہیں۔

غیر تدریسی عملے میں چوکیدار کی 143 آسامیوں میں سے 142 پُر اور ایک خالی ہے، جبکہ کلاس فور کے کیئر ٹیکر کی 127 آسامیوں میں سے 94 پُر اور 33 خالی ہیں۔
محکمہ تعلیم کی دستاویزات کے مطابق باڑہ کے 142 سرکاری گرلز پرائمری سکولوں میں سے 7 بند ہیں۔ ان میں 4 سکول اساتذہ کی عدم دستیابی اور 3 امن و امان کی صورتحال کے باعث بند کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں گریجویٹس کے لیے 2 ارب روپے کا انٹرن شپ پروگرام، کون اہل ہوگا؟
اساتذہ کی کمی کے باعث بند سکولوں میں گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حاجی مینا دار خان کلے اکاخیل، گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول تنگی نظر خیل برقمبر خیل، گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حام کلے ترخوکس اپر باڑہ اور گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول خوگہ جان باڑہ شامل ہیں۔
اسی طرح امن و امان کے مسائل کے باعث گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول زالے خان تیراہ، گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محمد دین شاہ اور گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول خواجہ کلے تیراہ بند ہیں۔ ان سکولوں کی بندش سے مقامی بچیوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، جبکہ فعال سکولوں میں بھی اساتذہ کی کمی کے باعث تدریسی مشکلات برقرار ہیں۔
اس حوالے سے سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر (فی میل) باڑہ شکیلہ حسین نے ٹی این این کو بتایا کہ پرائمری سکولوں میں طالبات کے بڑھتے ہوئے داخلوں کے باعث اساتذہ کی کمی کا مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔
ان کے مطابق باڑہ سب ڈویژن کے بیشتر پرائمری سکولوں میں مستقل خواتین اساتذہ کی تعداد صرف ایک یا دو ہے، جبکہ بعض سکولوں میں طالبات کی تعداد 500 تک پہنچ چکی ہے، جس سے تدریسی عمل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
شکیلہ حسین نے بتایا کہ پی ٹی سی کے ذریعے 300 خواتین اساتذہ کی بھرتی کے لیے 282 مقامی امیدوار منتخب کیے گئے ہیں، جو جاری تعلیمی سیشن کے اختتام تک خدمات انجام دیں گی۔ ان کی تعیناتی سے سکولوں میں بچیوں کے داخلوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی کمی مستقل بنیادوں پر دور کرنے کے لیے ایٹا کے ذریعے بھرتیاں ضروری ہیں، جبکہ مزید 333 پی ٹی سی اساتذہ کی بھرتی کے لیے بھی درخواست دی گئی ہے۔ ان کے مطابق باڑہ کے سرکاری گرلز پرائمری سکولوں میں 24 ہزار 500 طالبات زیر تعلیم ہیں اور داخلوں کا سلسلہ دسمبر تک جاری رہے گا۔
اساتذہ کی کمی کے ساتھ خواتین اساتذہ اور طالبات کے والدین کو محکمہ تعلیم کے دفتر تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ باڑہ تحصیل بلڈنگ میں عارضی طور پر قائم سب ڈویژنل ایجوکیشن آفس (فی میل) کے حوالے سے مقامی عمائدین اور والدین کا کہنا ہے کہ اسی عمارت میں ضلعی انتظامیہ، سب جیل اور پولیس کے دفاتر بھی قائم ہیں، جس کے باعث خواتین اساتذہ اور والدین کو دفتر آنے جانے میں دشواری ہوتی ہے۔
ان کے مطابق ایک کمرے پر مشتمل دفتر میں خواتین کے لیے واش روم کی سہولت بھی موجود نہیں۔ مقامی عمائدین اور والدین نے گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین اساتذہ اور بچیوں کے والدین کی سہولت کے لیے سب ڈویژنل ایجوکیشن آفس (فی میل) کو تحصیل بلڈنگ سے میونسپل بلڈنگ باڑہ منتقل کیا جائے۔
اساتذہ کی کمی کا مسئلہ صرف باڑہ تک محدود نہیں بلکہ ضلع خیبر کے دیگر علاقوں میں بھی سرکاری سکول اس صورتحال سے متاثر ہیں۔

محکمہ تعلیم کے اعدادوشمار کے مطابق ضلع خیبر میں مجموعی طور پر 747 سرکاری سکول ہیں، جن میں 406 مردانہ اور 341 زنانہ سکول شامل ہیں۔ ان میں 588 پرائمری، 87 مڈل، 51 ہائی، 6 ہائیر سیکنڈری، اور 6 ڈی ایس ایس سکول ہیں۔
ضلع بھر میں 1,149 خواتین اور 1,586 مرد اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم 25 سرکاری پرائمری سکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک استاد تعینات ہے۔ ان میں باڑہ کے 16، لنڈی کوتل کے 7 اور جمرود کے 2 سکول شامل ہیں۔
ان 25 سنگل ٹیچر سکولوں میں 7 لڑکوں اور 18 لڑکیوں کے سکول ہیں۔ باڑہ میں 3 لڑکوں اور 13 لڑکیوں، جمرود میں ایک لڑکوں اور ایک لڑکیوں، جبکہ لنڈی کوتل میں 3 لڑکوں اور 4 لڑکیوں کے سکول صرف ایک استاد کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔
تعلیمی حلقوں کے مطابق اساتذہ کی خالی آسامیوں کو پُر کرنا، بند سکولوں کو دوبارہ فعال بنانا اور مستقل بنیادوں پر تدریسی عملے کی تعیناتی سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ متعلقہ حکام سے توقع ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اور واضح لائحہ عمل سامنے لائیں گے۔
