اتوار کا دن بہت سے لوگوں کے لیے خریداری، گھومنے پھرنے اور اپنی پسند کے لباس پہننے کا موقع ہوتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور نوجوان اس دن اپنی تیاری، لباس اور سنگھار پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ فیشن کے انداز بھی بدلتے رہتے ہیں اور مردان بھی اس تبدیلی سے الگ نہیں۔

 

ماضی میں مردان کا فیشن زیادہ تر سادہ اور روایتی تھا۔ مرد عموماً سفید، سیاہ اور ہلکے رنگوں کی شلوار قمیض پہنتے، واسکٹ، گرم چادر اور پشاوری چپل استعمال کرتے تھے۔ خواتین لمبی قمیض، کھلی شلوار اور دوپٹہ پسند کرتی تھیں۔ ان کے لباس پر سادہ کڑھائی اور لیس کا کام ہوتا تھا، جبکہ روزمرہ سنگھار میں سرمہ، کاجل اور ہلکی لپ اسٹک استعمال کی جاتی تھی۔

آج مردان میں فیشن کے انداز کافی بدل چکے ہیں۔ نوجوان روایتی شلوار قمیض کے ساتھ جینز، ٹی شرٹس، پتلون اور جیکٹیں بھی پہنتے ہیں۔ شلوار قمیض میں بھی مختلف رنگوں، کالروں اور سلائی کے نئے انداز مقبول ہو رہے ہیں۔

خواتین کے لباس میں بھی نت نئے انداز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لان کے جوڑوں، کڑھائی والے سوٹ، فراک، گاؤن، غراروں اور شراروں کے ساتھ مختلف طرز کی شلواریں پسند کی جا رہی ہیں۔ شادیوں اور تقریبات میں بھاری کڑھائی اور خوبصورت زیورات کا استعمال بھی عام ہے۔

سنگھار کے انداز میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ماضی میں خواتین کاجل، سرمہ اور لپ اسٹک تک محدود رہتی تھیں، جبکہ آج مختلف انداز کا میک اپ، بالوں کے نئے اسٹائل اور ناخنوں کی آرائش بھی تیاری کا حصہ ہیں۔ روزمرہ زندگی میں ہلکا میک اپ جبکہ شادیوں اور تقریبات میں نمایاں میک اپ پسند کیا جاتا ہے۔

مردان میں فیشن کے بدلتے رجحانات سے واضح ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ لوگوں کے لباس، پسند اور سنگھار کے انداز میں تبدیلی آئی ہے، لیکن  جدید رجحانات اپنانے کے باوجود مقامی ثقافت اور روایتی لباس کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ یہی امتزاج مردان کے فیشن کو ایک منفرد پہچان دیتا ہے۔ فیشن دراصل وقت کے ساتھ بدلتی پسند کا نام ہے، جہاں انسان جدید انداز اپناتے ہوئے اپنی ثقافتی پہچان بھی برقرار رکھ سکتا ہے۔