آپ اپنا پرانا موبائل فروخت کرنے سے پہلے اس کی قیمت تو ضرور معلوم کرتے ہوں گے، لیکن کیا کبھی سوچا ہے کہ اس میں محفوظ تصاویر، ویڈیوز، ذاتی گفتگو اور دیگر معلومات کا کیا ہوگا؟ آج موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری ذاتی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، جس میں خاندانی تصاویر، واٹس ایپ پیغامات، ای میلز، فون نمبرز اور بعض اوقات بینک اکاؤنٹس سے متعلق معلومات بھی محفوظ ہوتی ہیں۔

میرے گھر میں پرانے موبائل فروخت کرنے کے بجائے سنبھال کر رکھے جاتے ہیں۔ خراب ہو جائیں تو بھی ایک طرف رکھ دیے جاتے ہیں، اس خدشے کے باعث کہ کہیں ان میں موجود تصاویر اور ذاتی معلومات کسی دوسرے شخص کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اسی خوف کی وجہ سے پرانے موبائل فروخت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا موبائل سے ڈیٹا ڈیلیٹ کرنا واقعی اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے کافی ہے؟

 

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ تصاویر، ویڈیوز اور فائلیں ڈیلیٹ کرنے کے بعد دوبارہ حاصل نہیں کی جا سکتیں، لیکن ڈیٹا حذف کرنے اور اسے محفوظ طریقے سے مٹانے میں فرق ہے۔ بعض حالات میں حذف شدہ معلومات دوبارہ حاصل ہو سکتی ہیں، تاہم یہ ہر موبائل میں ممکن نہیں۔ اس کا انحصار فون کی قسم، اس کی سکیورٹی اور ڈیٹا مٹانے کے طریقے پر ہوتا ہے۔ جدید موبائل فونز میں معلومات کے تحفظ کے لیے انکرپشن سمیت مختلف حفاظتی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

 

اگر کسی دوسرے شخص کو آپ کی نجی تصاویر، گفتگو یا اہم دستاویزات تک رسائی مل جائے تو ان کا غلط استعمال بلیک میلنگ، جعلی اکاؤنٹس، دھوکا دہی یا کسی کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

 

پاکستانی گلوکارہ رابی پیرزادہ کے ساتھ 2019 میں پیش آنے والا واقعہ بھی اس حوالے سے اہم مثال ہے۔ اخبار ڈان کی 2 نومبر 2019 کی رپورٹ کے مطابق، ان کی نجی ویڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے بعد انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کیا تھا۔ رپورٹ میں ان کا مؤقف بیان کیا گیا کہ وہ اپنا خراب موبائل فون مرمت کے لیے لے گئی تھیں، جہاں سے ان کی تصاویر اور ویڈیوز نقل کرکے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئیں۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ موبائل فروخت کرنے کے بجائے مرمت کے لیے دینے سے متعلق تھا، لیکن اس سے ذاتی معلومات کی حفاظت کی اہمیت ضرور سامنے آتی ہے۔

ایسے واقعات کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ متاثرہ شخص کی مدد کرنے کے بجائے بعض لوگ اسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ کسی کی اجازت کے بغیر اس کی نجی تصاویر یا ویڈیوز پھیلانا اس کی رازداری کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے مواد کو آگے بھیجنے کے بجائے متاثرہ شخص کا احترام اور اس کی مدد کرنی چاہیے۔

سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل فارنزکس کی تکنیکی رہنمائی کے مطابق ڈیٹا ڈیلیٹ کرنا اور اسے اس طرح مٹانا کہ دوبارہ حاصل نہ کیا جا سکے، دو مختلف باتیں ہیں۔ امریکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی ایس ٹی) کی رہنمائی میں بھی غیر مجاز رسائی روکنے کے لیے ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے مٹانے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ جدید موبائل فونز میں فیکٹری ری سیٹ اس مقصد کے لیے اہم طریقہ ہے، تاہم اسے فون بنانے والی کمپنی کی ہدایات کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ گوگل اور ایپل بھی پرانا موبائل فروخت کرنے سے پہلے ذاتی معلومات مٹانے اور متعلقہ اکاؤنٹس ہٹانے کی ہدایت دیتے ہیں۔

موبائل فروخت کرنے سے پہلے ضروری تصاویر، ویڈیوز، رابطوں اور دستاویزات کا بیک اپ کسی محفوظ جگہ پر منتقل کریں۔ اس کے بعد گوگل یا ایپل سمیت اپنے تمام ذاتی اکاؤنٹس مناسب طریقے سے ہٹائیں اور کمپنی کی ہدایات کے مطابق فیکٹری ری سیٹ کریں۔ موبائل حوالے کرنے سے پہلے سم اور میموری کارڈ بھی نکال لیں۔

اگر موبائل خراب ہو تو اسے کسی قابل اعتماد ماہر سے مرمت کروائیں اور ممکن ہو تو مرمت کے دوران خود وہاں موجود رہیں۔ خاص طور پر ایسے فون کو طویل وقت کے لیے دکان پر چھوڑنے سے گریز کریں جس میں ذاتی تصاویر اور اہم معلومات موجود ہوں۔ اگر فون اس قدر خراب ہو کہ اسے ری سیٹ کرنا ممکن نہ ہو تو فروخت کرنے سے پہلے کسی قابل اعتماد ماہر سے مشورہ لینا بہتر ہے۔

اگر کسی کی نجی تصاویر یا ویڈیوز اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر پھیل جائیں تو متعلقہ لنکس، اکاؤنٹس کے نام اور پیغامات جیسے ثبوت محفوظ کرنے چاہییں۔ اس کے بعد متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مواد کی رپورٹ کریں اور پاکستان کے متعلقہ سائبر کرائم ادارے سے رابطہ کریں۔ ایسے موقع پر متاثرہ شخص کو شرمندہ کرنے کے بجائے اس کی مدد کرنا اور اس کی رازداری کا احترام کرنا ضروری ہے۔

 

موبائل فون کی قیمت چند ہزار یا چند لاکھ روپے ہو سکتی ہے، لیکن اس میں محفوظ خاندانی تصاویر، یادیں اور ذاتی معلومات کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ ہم پرانا فون فروخت کرتے وقت اس کی قیمت اور حالت پر توجہ دیتے ہیں، مگر اکثر اپنے ڈیٹا کی حفاظت بھول جاتے ہیں۔ اس لیے اگلی بار موبائل فروخت کرنے سے پہلے صرف اس کی قیمت نہیں بلکہ اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت کو بھی ترجیح دیں۔