خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے 20 ہزار گریجویٹس کو عملی تربیت فراہم کرنے کے لیے تین ماہ پر مشتمل انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ہر منتخب گریجویٹ کو ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔ اس پروگرام کی مجموعی لاگت 2 ارب روپے تجویز کی گئی ہے۔
اس حوالے سے خیبرپختونخوا انٹرن شپ پروگرام کے خدوخال، تیاریوں اور عملی نفاذ کے طریقہ کار پر گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر برائے تعلیم و سماجی بہبود ڈاکٹر عامر عبداللہ کو بریفنگ دی گئی۔
پروگرام کے تحت مردوں اور خواتین کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کی غرض سے 50 فیصد کوٹہ مردوں اور 50 فیصد خواتین کے لیے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انٹرن شپ کے اہل امیدواروں کے لیے کم از کم 3 سی جی پی اے اور خیبرپختونخوا کا ڈومیسائل ہونا ضروری ہوگا۔
منتخب گریجویٹس کو فارماسیوٹیکل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، سیاحت، زراعت اور معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے انہیں ترجیحی صنعتوں، سافٹ ویئر ہاؤسز اور کاروباری اداروں میں انٹرن شپ کے مواقع دیے جائیں گے، جبکہ نجی شعبے کے اداروں کو اولین ترجیح حاصل ہوگی۔

ڈاکٹر عامر عبداللہ نے ہدایت کی کہ گریجویٹس کے انتخاب، تربیت اور انٹرن شپ کے لیے جامع ضوابط اور رہنما اصول مرتب کیے جائیں تاکہ انہیں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق معیاری اور مسابقتی عملی تربیت فراہم کی جا سکے
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروگرام کے لیے مرکزی آن لائن پورٹل تیار کر لیا گیا ہے، جسے ایک ہفتے کے اندر فعال بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ڈاکٹر عامر عبداللہ نے ہدایت کی کہ وظائف کی ادائیگی کے لیے پیپر لیس اور آن لائن نظام وضع کیا جائے تاکہ گریجویٹس کو بروقت اور حتی الامکان ایک ہی دن میں ادائیگیاں یقینی بنائی جا سکیں۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ انٹرن شپ پروگرام میں صوبے کے تمام اضلاع کی آبادی کے تناسب سے گریجویٹس کی نمائندگی یقینی بنائی جائے، جبکہ پروگرام کے مؤثر نفاذ کے لیے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں مربوط انتظامی ڈھانچہ بھی تشکیل دیا جائے۔
