لکی مروت کے علاقے وانڈہ شہاب خیل میں دو روز قبل لاپتہ ہونے والے دو سالہ بچے سہیل خان کی ذبح شدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔ بچے کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

 

 ڈی پی او لکی مروت سجاد احمد صاحبزادہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے تفتیش کا جائزہ لیا اور ملزمان کی شناخت کے لیے جدید سائنسی طریقوں سے مدد لینے کی ہدایت کی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: ایف آئی اے کی کارروائی، پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول میں مبینہ فراڈ پر 4 افغان باشندے گرفتار

 

پولیس کے مطابق دو سالہ سہیل خان دو روز قبل گھر سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ بچے کے والد نے اس کی تلاش کے لیے کوششیں شروع کرنے کے ساتھ مقامی پولیس کو بھی اطلاع دی، تاہم بچے کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

 

دو روز بعد گاؤں کی ایک تنگ گلی میں مشکوک کھدائی کے آثار نظر آنے پر وہاں تلاش کی گئی تو بچے کی ذبح شدہ لاش برآمد ہوئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور شواہد جمع کرنے کے بعد واقعے کی تفتیش شروع کر دی۔ بچے کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔

 

دوسری جانب ڈی پی او لکی مروت سجاد احمد صاحبزادہ نے پولیس افسران کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ متعلقہ افسران نے انہیں دستیاب شواہد اور تحقیقات سے آگاہ کیا۔ ڈی پی او نے ہدایت کی کہ جدید سائنسی طریقوں سے مدد لیتے ہوئے ملزمان کی شناخت کی جائے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

 

 

ڈی پی او نے بعد ازاں مقتول بچے کے گھر جا کر لواحقین سے تعزیت کی اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی یقین دہانی کرائی۔