نازیہ سالارزئی 

 

کہا جاتا ہے کہ جو قومیں وقت کی پابندی کرتی ہیں اور اس کی قدر جانتی ہیں، وہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کے اہم رازوں میں وقت کی پابندی بھی شامل ہے، جہاں چند منٹ کی تاخیر کو بھی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ 

 

اس کے برعکس بدقسمتی سے ہمارے ملک میں، بالخصوص سرکاری اداروں میں، وقت کی پابندی کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی ضرورت ہے۔ اس غفلت کا خمیازہ اکثر عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے، جن کے قیمتی وقت کے ساتھ ساتھ ان کے پیسے اور دیگر وسائل بھی ضائع ہوتے ہیں۔

 

 

گزشتہ دنوں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ گفتگو ہو رہی تھی۔ باتوں باتوں میں اس نے سرکاری دفاتر میں وقت کی پابندی نہ ہونے کے حوالے سے اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا، جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر عوامی خدمت کے لیے قائم اداروں میں شہریوں کو اس طرح کی مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: شعبہ بازار میں کروڑوں کی مبینہ ڈکیتی، ملزمان کی عدم گرفتاری پر تاجروں کے پولیس پر سنگین الزامات

 

میری سہیلی نے بتایا کہ ایک دن وہ اپنا برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے ویلج کونسل گئی۔ دفتر کے اوقاتِ کار صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک تھے۔ وہ اپنا کام جلد مکمل کروانے کی غرض سے ٹھیک 9 بجے دفتر پہنچ گئی، لیکن برتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کرنے والا افسر وہاں موجود نہیں تھا۔ اسے بتایا گیا کہ افسر ابھی نہیں آئے اور اسے انتظار کرنا ہوگا۔ یوں وہ دفتر پہنچنے کے باوجود اپنا کام مکمل نہ کروا سکی۔

 

 

اس نے مزید بتایا کہ رمضان کے دوران جب وہ دوبارہ اپنے کام کے سلسلے میں وہاں گئی تو اسے پھر یہی جواب ملا کہ وہ دوپہر 12 بجے کے بعد آئے۔ اس طرح ایک ہی کام کے لیے اسے بار بار دفتر کے چکر لگانے پڑے، حالانکہ وہ مقررہ اوقات کے مطابق اپنا کام کروانے پہنچی تھی۔

 

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ میری سہیلی ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر ہے۔ اس نے بتایا کہ برتھ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے اسے اسکول سے چھٹی لینی پڑی تھی۔ سرکاری ملازمین کو سالانہ مخصوص تعداد میں چھٹیاں ملتی ہیں، جنہیں وہ عموماً ضروری کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 

 

 

اگر ان چھٹیوں کو ایسے کاموں کے لیے استعمال کرنا پڑے جو متعلقہ دفتر کے عملے کی غفلت یا تاخیر کی وجہ سے مکمل نہ ہو سکیں تو اس سے غیر ضروری مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ بلاوجہ یا قواعد کے خلاف چھٹی کرنے کی صورت میں تنخواہ سے کٹوتی بھی ہو سکتی ہے۔ 

 

سوال یہ ہے کہ اگر ایک سرکاری ملازم کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے وقت کا پابند ہونا ضروری ہے تو عوامی خدمت پر مامور افسران کو بھی اپنے فرائض اور دفتری اوقات کی پابندی کیوں نہیں کرنی چاہیے؟

سرکاری دفاتر عوام کے مسائل حل کرنے اور انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔ 

 

 

ان اداروں کے اخراجات عوام کے ٹیکسوں سے پورے ہوتے ہیں، اس لیے ان میں کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے مسائل بروقت حل کریں۔

 

 عوام کو غیر ضروری انتظار اور بار بار دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ان کے کام مقررہ وقت میں مکمل کیے جانے چاہییں۔ اس سے نہ صرف عوام کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ اداروں پر ان کا اعتماد بھی بڑھے گا اور سرکاری امور کی انجام دہی میں بہتری آئے گی۔

 

 

یہ مسئلہ صرف ایک ویلج کونسل تک محدود نہیں بلکہ مختلف سرکاری اداروں میں بھی شہریوں کو ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دفاتر کے باہر بزرگ افراد، دور دراز علاقوں سے آنے والے شہری اور ضروری کاموں کے لیے چھٹی لینے والے لوگ طویل انتظار کرتے ہیں۔ بعض افراد کے لیے بار بار دفتر آنا اور اضافی سفری اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یوں افسران کی تاخیر کا بوجھ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

 

 

سرکاری دفاتر میں وقت کی پابندی یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی اور جواب دہی کا نظام ضروری ہے۔ بائیومیٹرک حاضری سے ملازمین کی آمد و روانگی کا ریکارڈ مرتب کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ باقاعدہ نگرانی اور قواعد کی خلاف ورزی پر کارروائی بھی ضروری ہے۔

 

اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ مؤثر چیک اینڈ بیلنس کا فقدان بھی ہے۔ بعض اوقات افسران کے خلاف شکایات پر سنجیدگی سے کارروائی نہیں ہوتی اور سفارش یا اثر و رسوخ کے باعث انہیں جواب دہ نہیں بنایا جاتا۔ 

 

ضرورت اس بات کی ہے کہ شہریوں کی شکایات کی شفاف تحقیقات ہوں اور ثابت ہونے والی غفلت پر بلاامتیاز کارروائی کی جائے، کیونکہ سرکاری عہدہ اختیار کے ساتھ عوام کی خدمت کی ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔

 

 

دوسری جانب، نجی اداروں میں عموماً وقت کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروایا جاتا ہے، جہاں تاخیر یا غیر حاضری پر قواعد کے مطابق تنخواہ میں کٹوتی یا دیگر کارروائی ہو سکتی ہے۔ 

 

سرکاری اداروں میں بھی بائیومیٹرک حاضری، ریکارڈ کی باقاعدہ جانچ اور اداروں کے سربراہان کی نگرانی کے ذریعے وقت کی پابندی یقینی بنائی جانی چاہیے۔وقت کی پابندی انسان کی شخصیت اور پیشہ ورانہ ساکھ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ 

 

 

وقت کی قدر کرنے اور وعدے پورے کرنے والے افراد کو ذمہ دار اور قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ یہی اصول سرکاری اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے، جہاں بروقت خدمات کی فراہمی سے عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔

 

آخر میں، میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، لیکن جو افراد اور قومیں وقت کی قدر کرتی ہیں، وہی کامیابی اور ترقی کی منزل حاصل کرتی ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی میں وقت کی پابندی کے ساتھ دوسروں کے وقت کا احترام بھی کرنا چاہیے۔ بالخصوص سرکاری افسران کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی تاخیر سے عام شہریوں کا وقت اور پیسہ ضائع ہوتا ہے۔

 

 

 ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم وقت کی قدر کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں گے، کیونکہ وقت کی پابندی ایک ذمہ دار اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔