پشاور کے شعبہ بازار میں سپیئر پارٹس کے تاجروں نے ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کے سامان کی مبینہ ڈکیتی کے ملزمان کی عدم گرفتاری پر پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور مقدمے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاجروں نے سی سی پی او پشاور سے واقعے کی شفاف تحقیقات، تمام نامزد ملزمان کی گرفتاری اور لوٹی گئی رقم و سامان کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیئر پارٹس کے تاجروں فضل سبحان اور قاسم سبحان نے دعویٰ کیا کہ جمعے کے روز دوپہر دو بجے شعبہ بازار کی ناٹک مارکیٹ میں 13 مسلح افراد نے ان کی دکان پر دھاوا بول دیا۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر: باڑہ میں دو ہفتوں سے انٹرنیٹ بند، تاجروں اور طلبہ کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
ملزمان نے انہیں یرغمال بنا کر ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت ہے سپیئر پارٹس فورٹ ویگن میں لوڈ کیے، جبکہ چھ لاکھ روپے نقدی اور دو موبائل فون بھی چھین لیے۔
فضل سبحان کے مطابق واقعے کے فوری بعد پولیس ہیلپ لائن 15 اور متعلقہ تھانے کو اطلاع دی گئی، تاہم پولیس تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچی، جبکہ دکان کا معائنہ رات آٹھ بجے کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ملزمان کی شناخت، ان کے نام اور سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو فراہم کرنے کے باوجود تاحال گرفتاریاں نہیں کی گئیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایف آئی آر میں ایک نامزد ملزم حبیب کا نام بھی شامل نہیں کیا گیا۔
فضل سبحان نے الزام عائد کیا کہ علاقہ ڈی ایس پی شہنشاہ خان اور بعض پولیس اہلکار ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے اور مقدمے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں قاسم سبحان نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں تھانے بلا کر غیر متعلقہ افراد کے سامنے بٹھایا جاتا ہے اور بعض افراد کو چھوڑنے کے لیے ان سے انگوٹھے لگوائے جاتے ہیں، جبکہ ان کی ویڈیوز بھی بنائی جاتی ہیں۔
تاجروں کے مطابق، 10 اکتوبر کو بھی اسرار نامی شخص نے مبینہ طور پر ان کے والد سے 41 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا تھا اور بھائیوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی تھیں۔ اس واقعے کی رپورٹ تھانہ یکہ توت میں درج کرائی گئی تھی۔
متاثرہ تاجروں نے سی سی پی او پشاور سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جائے، ایف آئی آر میں رہ جانے والے نام شامل کیے جائیں اور لوٹی گئی رقم و سامان واپس دلا کر انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
