ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں گزشتہ دو ہفتوں سے انٹرنیٹ سروس کی مسلسل معطلی کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ 

 

باڑہ بازار کی تقریباً 10 ہزار دکانوں میں خرید و فروخت سمیت مختلف کاروباری معاملات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ایزی پیسہ اور دیگر آن لائن مالیاتی خدمات بھی معطل ہیں۔ دوسری جانب طلبہ و طالبات کی آن لائن کلاسز، لیکچرز اور تعلیمی و تحقیقی سرگرمیاں بھی تعطل کا شکار ہیں۔

 

 مقامی تاجروں اور طلبہ و طالبات نے متعلقہ حکام سے انٹرنیٹ سروس فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ جاری، سب سے زیادہ متاثرہ ضلع کون سا ہے؟

 

انجمن تاجران باڑہ کے صدر سید ایاز وزیر نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے باڑہ بازار اور ملحقہ علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

 

 

 ان کے مطابق باڑہ بازار میں تقریباً 10 ہزار دکانیں موجود ہیں، جہاں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث خرید و فروخت سمیت مختلف کاروباری معاملات متاثر ہو رہے ہیں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 

سید ایاز وزیر نے کہا کہ ایزی پیسہ اور دیگر انٹرنیٹ سے منسلک مالیاتی خدمات مقامی کاروبار کا اہم حصہ ہیں۔ شہری ان سہولیات کے ذریعے رقم کی ترسیل، وصولی اور روزمرہ کے مالی معاملات انجام دیتے ہیں، تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے باعث ان خدمات پر انحصار کرنے والے دکانداروں اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ باڑہ بازار میں ہفتہ اور اتوار کو بینکوں اور اے ٹی ایمز کی بندش کے باعث ایزی پیسہ اور دیگر مالیاتی خدمات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ بیرون ملک مقیم افراد اپنے اہل خانہ کو رقوم بھیجنے اور ملک کے اندر رقم کی منتقلی کے لیے بھی ان سہولیات کا استعمال کرتے ہیں، لیکن انٹرنیٹ کی معطلی سے یہ معاملات متاثر ہوئے ہیں۔

 

باڑہ بازار میں ایزی پیسہ کے دکاندار فاروق آفریدی نے ٹی این این کو بتایا کہ بازار میں 100 سے زائد دکانیں ایزی پیسہ اور دیگر آن لائن کاروباری خدمات سے وابستہ ہیں۔

 

 گزشتہ دو ہفتوں سے انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کے باعث ان کاروباروں کی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں، جس سے دکانداروں کے ساتھ ساتھ ان خدمات سے فائدہ اٹھانے والے صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

 

دوسری جانب انٹرنیٹ سروس کی بندش نے تحصیل باڑہ میں تعلیمی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ مقامی طلبہ و طالبات کے مطابق آن لائن کلاسز، ویڈیو لیکچرز، کورسز کی تیاری اور تحقیقی مواد تک رسائی کے لیے انٹرنیٹ بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔

 

 خصوصاً اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی طالبات گھروں میں رہ کر آن لائن کلاسز اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں، تاہم گزشتہ دو ہفتوں سے سروس کی عدم دستیابی کے باعث انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

 

باڑہ کے علاقے شلوبر سے تعلق رکھنے والی بارہویں جماعت کی طالبہ لبنیٰ آفریدی نے ٹی این این کو بتایا کہ ان کے کورس کے بیشتر موضوعات کی تیاری اور متعلقہ تعلیمی مواد تک رسائی کے لیے انٹرنیٹ ضروری ہے۔

 

 سروس کی بندش سے ان کی پڑھائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق کالج میں باڑہ سے تعلق رکھنے والی درجنوں طالبات زیر تعلیم ہیں، جنہیں بھی انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث تعلیمی مشکلات کا سامنا ہے۔

 

اسی طرح باڑہ سے تعلق رکھنے والی فرسٹ ایئر کی طالبہ عالینہ آفریدی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پڑھائی کا بڑا حصہ انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔ 

 

طلبہ و طالبات گھروں میں آن لائن کلاسز لیتے ہیں، ویڈیو لیکچرز دیکھتے ہیں اور مختلف موضوعات پر معلومات اور تحقیقی مواد حاصل کرتے ہیں، تاہم گزشتہ دو ہفتوں سے انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث یہ سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور طلبہ اپنی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

واضح رہے کہ 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف باڑہ بازار میں تین روز تک احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جن کے دوران بعض مقامات پر پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔

 

 اس صورتحال کے بعد موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی تھی، تاہم مقامی تاجروں اور طلبہ و طالبات کے مطابق سروس تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔مقامی تاجروں اور طلبہ و طالبات نے متعلقہ حکام سے انٹرنیٹ سروس کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

ان کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کی روزمرہ ضروریات، کاروباری سرگرمیوں اور تعلیمی مستقبل کو بھی اہمیت دی جائے اور باڑہ سمیت متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی مکمل بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔