خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری فنڈز کے اجراء اور اندراج کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ خزانہ نے نئے معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) جاری کر دیے ہیں۔
محکمہ خزانہ کے مطابق اب مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری یا ایڈوائس کے بغیر ایس اے پی (سیپ) سسٹم میں کسی بھی فنڈ کا اندراج نہیں کیا جا سکے گا۔ فنڈز کے اجراء میں غیر ضروری تاخیر، غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔
جاری کردہ دستاویز کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) اور وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے فنڈز کے اجراء کے لیے مقررہ فارمیٹس کی پابندی لازمی ہوگی۔ ترقیاتی فنڈز کے اجراء یا ان کی دوبارہ تخصیص کے لیے بھی متعلقہ مجاز اتھارٹی سے منظوری لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہری پور: ٹرک اور کار کے تصادم میں چار نوجوان جاں بحق، دو زخمی
محکمہ خزانہ نے ترقیاتی اور جاری بجٹ کے فنڈز کے اجراء اور اخراجات کی روزانہ نگرانی کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ فوری ضرورت کے تحت فنڈز جاری کرنے کے لیے سیکرٹری خزانہ یا متعلقہ مجاز افسر کی پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ منظوری کے معمول کے طریقہ کار سے بچنے کے لیے فوری فنڈز کے اجراء کی سہولت استعمال نہیں کی جا سکے گی۔
نئے قواعد کے تحت ترقیاتی اور جاری فنڈز کی منظوری کے روز ہی انہیں سیپ سسٹم میں درج کرنا ہوگا۔ اگر کسی وجہ سے اندراج میں تاخیر ہوتی ہے تو متعلقہ افسر کو اس کی معقول وجہ سرکاری ریکارڈ میں درج کرنا ہوگی۔
محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ فنڈز کے اجراء اور اندراج کے تمام مراحل میں مقررہ قواعد کی پابندی لازمی ہوگی، جبکہ ان کی خلاف ورزی کرنے والے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
