کچھ عرصہ پہلے ہمارے رشتہ داروں میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہم اپنی صحت کے معاملے میں کتنی آسانی سے غفلت برتتے ہیں۔
ایک بزرگ خاتون کی طبیعت کئی دنوں سے خراب تھی۔ کبھی گھر میں موجود دوا استعمال کر لی جاتی، کبھی کسی سے مشورہ لیا جاتا اور کبھی یہ سوچ کر معاملہ ٹال دیا جاتا کہ شاید طبیعت خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ ان کے بیٹے بار بار انہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کا کہتے، لیکن وہ ہر بار یہی جواب دیتیں کہ میں ٹھیک ہوں، کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ضلع بنوں کے سرکاری اسکولوں میں کن بنیادی سہولیات کا فقدان؟ مرمت و بحالی کے لیے اربوں روپے درکار
شاید اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی طبیعت کی خرابی آگے چل کر سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔ مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بجائے انہیں محلے کے ایک کلینک لے جایا جاتا، جہاں درد کی دوا یا انجکشن سے وقتی آرام تو آ جاتا، لیکن اگلے دن تکلیف دوبارہ شروع ہو جاتی۔

چند دن بعد اچانک ان کی حالت بگڑ گئی اور انہیں مسلسل الٹیاں ہونے لگیں۔ گھر والے انہیں فوری طور پر ایمرجنسی لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے اور انہیں دوسرے ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے۔
دوسرے ہسپتال میں انہیں کئی دن داخل رکھا گیا۔ ان کا بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔ علاج کے دوران انہوں نے گھر والوں کو بتایا کہ انہیں جسم کے ایک حصے میں صحیح طرح محسوس نہیں ہو رہا اور ایک ہاتھ اور پاؤں میں کمزوری اور سن پن محسوس ہو رہا ہے۔
گھر والوں کے لیے یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ چند دن پہلے جس طبیعت کی خرابی کو معمولی سمجھا جا رہا تھا، وہ اتنی سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔
یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ بیماری کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ کبھی مصروفیات، کبھی مالی مشکلات، کبھی ڈاکٹر کی فیس اور کبھی یہ امید کہ طبیعت خود ہی ٹھیک ہو جائے گی، انہیں بروقت علاج حاصل کرنے سے دور رکھتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں لوگ واقعی اپنی صحت سے غفلت برتتے ہیں، یا اس رویے کے پیچھے معاشی، سماجی اور نظامِ صحت سے جڑے مسائل بھی موجود ہیں؟
اس سوال کا جواب صرف ایک جملے میں نہیں دیا جا سکتا۔
علاج کے اخراجات اور صحت کی سہولیات تک رسائی
سب سے پہلے معاشی مشکلات سامنے آتی ہیں۔ پاکستان میں بہت سے خاندانوں کے لیے بیماری صرف جسمانی تکلیف نہیں بلکہ ایک مالی آزمائش بھی بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر کی فیس، لیبارٹری ٹیسٹ، ایکسرے، ادویات اور ہسپتال کے اخراجات عام گھرانوں کے بجٹ پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔

بعض لوگ اسی خوف کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس جانے میں تاخیر کرتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ معائنے کے بعد مزید ٹیسٹ کروانے اور مہنگی ادویات خریدنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جبکہ ہسپتال میں داخلے کی صورت میں اخراجات مزید بڑھ جائیں گے۔
کچھ لوگ سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن وہاں مریضوں کا رش، طویل قطاریں اور انتظار بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کے لیے ہسپتال تک پہنچنا، ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا اور متعلقہ ماہر ڈاکٹر تک رسائی حاصل کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔

ایسے حالات میں بعض افراد قریبی نجی کلینک سے رجوع کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ گھر پر ہی علاج کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یوں مالی مشکلات اور صحت کی سہولیات تک محدود رسائی بروقت علاج کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
معمولی سمجھ کر علامات کو نظر انداز کرنا
معاشی مشکلات کے علاوہ ہمارے معاشرتی رویے بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سر درد ہو تو درد کی دوا لے لی جاتی ہے، بخار ہو تو گھر میں موجود دوا استعمال کر لی جاتی ہے اور معدے کی تکلیف میں کسی جاننے والے سے دوا پوچھ لی جاتی ہے۔ طبیعت بہتر ہونے پر ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ ختم ہو گیا، حالانکہ وقتی آرام کا مطلب بیماری کی اصل وجہ کا دور ہونا نہیں۔

مسلسل تھکن، بار بار چکر آنا، غیر معمولی کمزوری، الٹیاں، سانس لینے میں دشواری یا بلڈ پریشر میں غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں طبی معائنہ ضروری ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اچانک جسم کے ایک حصے میں کمزوری یا سن پن، چہرے کا ایک طرف جھک جانا، بولنے میں دشواری یا توازن بگڑنا فالج کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
خود علاج اور غیر مستند مشوروں پر انحصار
ہمارے ہاں بیماری کی اصل وجہ معلوم کرنے کے بجائے اکثر صرف علامات کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی کے مشورے پر دوا یا شربت استعمال کرنا، خود سے دوائیں تبدیل کرنا یا بار بار انجکشن لگوانا وقتی آرام تو دے سکتا ہے، لیکن اصل مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر، خصوصاً اینٹی بائیوٹکس کا استعمال بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ہر مریض کو اپنی علامات کے مطابق مستند ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ تاہم، صرف مریض کو قصوروار ٹھہرانا بھی درست نہیں۔ اگر کسی علاقے میں طبی سہولیات ناکافی ہوں، ماہر ڈاکٹر دستیاب نہ ہوں، آمدورفت مشکل ہو یا علاج کے اخراجات برداشت سے باہر ہوں تو بروقت علاج حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے انفرادی رویوں کے ساتھ نظامِ صحت کی خامیوں کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔
صحت کے بارے میں آگاہی کیوں ضروری ہے؟
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے لوگوں میں صحت سے متعلق آگاہی بڑھانا ضروری ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ کن علامات پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا اور کن صورتوں میں فوری طبی امداد حاصل کرنا چاہیے۔ بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کی بروقت تشخیص اور مناسب نگرانی بھی اہم ہے، کیونکہ بعض بیماریوں کی ابتدا میں واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

اس کے ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں بہتر سہولیات، علاج کے قابلِ برداشت اخراجات اور دور دراز علاقوں میں معیاری طبی خدمات تک آسان رسائی یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
ہر فرد کی اپنی ذمہ داری بھی ہے۔ گھر، دفتر اور دیگر مصروفیات یا مالی مشکلات کے باعث مسلسل اور غیر معمولی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بعض اوقات ہم ہسپتال اس وقت پہنچتے ہیں جب حالت بہت زیادہ خراب ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسے میں ہمیں خود سے بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم نے بروقت طبی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تھی؟
اس سوال کا مقصد مریض کو الزام دینا نہیں، بلکہ ان رویوں اور مشکلات پر غور کرنا ہے جو علاج میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔ صحت کو ہمیشہ کل پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بیماری کو برداشت کرنے اور اسے نظر انداز کرنے میں فرق ہے۔ ہر بیماری خطرناک نہیں ہوتی، لیکن ہر بیماری کو معمولی سمجھنا بھی درست نہیں۔

اگر طبیعت کئی دن سے خراب ہو، علامات بار بار واپس آئیں یا حالت اچانک بگڑ جائے تو مستند ڈاکٹر سے مشورہ لینا ضروری ہے، کیونکہ بروقت معائنہ اور مناسب علاج کسی بڑے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔
صحت کو اس وقت اہمیت نہ دیں جب بیماری آپ کو ہسپتال پہنچا دے، بلکہ اس وقت بھی توجہ دیں جب جسم پہلی بار آپ کو خبردار کرے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
