ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے ممبر ملک عبدالرزاق آفریدی نے کہا ہے کہ شینواری قوم کو پانی کی فراہمی کے مسئلے کے حل کے لیے شلمان واٹر سپلائی اسکیم پر کام آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل میں مریضوں کے علاج میں غفلت کی روک تھام اور پاک افغان شاہراہ پر ضروری مقامات پر پلوں کی تعمیر کے لیے بھی کوششیں کی جائیں گی۔

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حجرے میں منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں تحصیل لنڈی کوتل کی تینوں اقوام شلمانی، آفریدی اور شینواری کے مشران سمیت عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

 

ملک عبدالرزاق آفریدی نے کہا کہ شینواری قوم کو پانی کی فراہمی کے حوالے سے سنگین مشکلات درپیش ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے شلمان واٹر سپلائی اسکیم پر ترجیحی بنیادوں پر کام آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق منصوبے پر پہلے بھی کسی حد تک کام ہو چکا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری، آج کتنی کمی ریکارڈ کی گئی؟

 

انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل کے مقامی ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری اور ذمہ داری سے انجام دیں اور مریضوں کے علاج میں غفلت سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ معمولی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو پشاور ریفر کرنے کے رجحان کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور تمام امور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) پر نہیں چھوڑنے چاہییں۔

 

پاک افغان شاہراہ پر پلوں کی تعمیر کے حوالے سے ملک عبدالرزاق آفریدی نے کہا کہ معمولی بارش کے بعد سیلابی ریلوں کے باعث شاہراہ پر ٹریفک کئی کئی گھنٹوں تک معطل ہو جاتی ہے، جس سے مسافروں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر جن مقامات پر پلوں کی ضرورت ہے، وہاں ان کی تعمیر کے لیے متعلقہ فورمز پر آواز اٹھائی جائے گی۔ ان کے مطابق پلوں کی تعمیر کے لیے ماضی میں بھی مقامات مختص کیے گئے تھے، تاہم ان منصوبوں پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔

 

ملک عبدالرزاق آفریدی نے مزید کہا کہ علاقے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے فیصلے مشران اور عوام کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔

 

 انہوں نے اجلاس میں شرکت کرنے پر شلمانی، آفریدی اور شینواری اقوام کے مشران اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اجتماعی کوششوں کے ذریعے علاقے کی بہتری کے عزم کا اظہار کیا۔