نوشہرہ کے علاقے نظام پور سے اغوا ہونے والے تھانے کے محرر سمیت تین پولیس اہلکاروں کو مذاکرات کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ رہا ہونے والوں میں تھانہ نظام پور کے محرر ہیڈ کانسٹیبل نعیم اللہ، کانسٹیبل نور اسلام اور کانسٹیبل عامر خان شامل ہیں۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق جمعرات کی سہ پہر تقریباً سوا دو بجے اطلاع ملی کہ نظام پور اور کوہاٹ کی سرحد پر پیران بالا کے قریب سی پیک روڈ پر پولیس موبائل خراب ہوگئی ہے۔ 

 

اطلاع ملنے پر تھانے کے محرر دو پولیس اہلکاروں کے ہمراہ نجی گاڑی میں موقع پر پہنچے، جہاں پانچ سے زائد مسلح نقاب پوش افراد نے انہیں یرغمال بنا لیا اور ان کا سرکاری اسلحہ اور وائرلیس سیٹ بھی قبضے میں لے لیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا میں 15 اکتوبر تک موسم کیسا رہے گا؟ پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

 

ذرائع کے مطابق مغوی پولیس اہلکاروں کی رہائی کے لیے مقامی مشران اور علمائے کرام پر مشتمل 12 رکنی جرگہ تشکیل دیا گیا، جسے کالعدم تنظیم سے مذاکرات کے لیے درہ آدم خیل کے پہاڑی علاقے عشری درہ بھیجا گیا۔ جرگے اور کالعدم تنظیم کے درمیان مذاکرات کے تین دور ہوئے، جس کے بعد تینوں پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا۔

 

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جرگے نے پولیس اہلکاروں کی باحفاظت رہائی کے بدلے کالعدم تنظیم کے دو زخمی کمانڈوز کی رہائی کا مطالبہ تسلیم کیا۔ 

 

تاہم نوشہرہ پولیس کے ترجمان یا کسی ذمہ دار افسر نے مذاکرات کی تفصیلات اور مبینہ تبادلے کی تصدیق نہیں کی۔