خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں مبینہ اغوا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، مبینہ مغویہ آمنہ عدالت میں پیش ہوگئیں اور دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔

 

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صوابی وقاص رفیق کے ایکشن پرتھانہ زیدہ میں 4 اکتوبر کو فاطمہ زوجہ محمد ادریس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق مدعیہ نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس اہلکار نصیب جان نے اسے اور اس کی بہن آمنہ کو مبینہ طور پر اغوا کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، بلیک میل کیا اور ان کی ویڈیوز بنائیں۔

 

مقدمے میں پولیس اہلکار نصیب جان ولد عبد الواحد، سکنہ یار حسین، حال شاہ منصور کو نامزد کیا گیا ہے۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد 5 اکتوبر کو نامزد پولیس اہلکار نصیب جان نے ایڈیشنل سیشن جج ٹو صوابی کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی۔

اسی روز مبینہ مغویہ آمنہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں اور دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت اپنا تحریری بیان ریکارڈ کرایا۔

 

آمنہ کا مبینہ اغوا کے الزام کی تردید

 

عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان میں آمنہ نے اپنے مبینہ اغوا کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلی تھیں۔

آمنہ کے مطابق اس کے والدین مبینہ طور پر منشیات فروشی کے کاروبار سے وابستہ ہیں، جو ان کے لیے بدنامی کا باعث تھا۔ آمنہ نے بیان میں کہا کہ والدین کو مبینہ طور پر اس سرگرمی سے روکنے کے باوجود وہ باز نہیں آئے۔

 

یہ بھی پڑھیں: صوابی میں دو بہنوں کے مبینہ اغوا، نازیبا ویڈیوز بنانے کا الزام، پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج

 

عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق اسی معاملے پر 11 جون 2026 کو آمنہ اور اس کے والدین کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے بعد آمنہ اور اس کی بہن فاطمہ اپنی مرضی سے گھر سے نکل گئیں۔

آمنہ نے بتایا کہ دونوں بہنیں بعد ازاں شاہ منصور ٹاؤن شپ میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہوگئیں۔

 انہوں نے کہا کہ  11 جولائی 2026 کو دونوں بہنوں نے شاہ منصور میں واقع مکان چھوڑ دیا اور اسلام آباد منتقل ہوگئیں، جہاں انہوں نے کرائے پر مکان حاصل کیا۔

آمنہ نے عدالت کو بتایا کہ 2 اکتوبر کو کسی بات پر اس کا اپنی بہن فاطمہ سے جھگڑا ہوا، جس کے بعد فاطمہ والدین کے گھر واپس آگئی جبکہ وہ خود اسلام آباد میں ہی مقیم رہی۔

 

پولیس اہلکار پر عائد الزامات بےبنیاد

 

عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان میں آمنہ نے پولیس اہلکار نصیب جان کی جانب سے اپنے اغوا کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کسی بھی ویڈیو کی ریکارڈنگ اور پولیس اہلکار نصیب جان کے ساتھ کسی مبینہ تعلق کی بھی تردید کی۔

 

 

عدالت کو بیان دیتے ہوئے آمنہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اسلام آباد میں اپنی مرضی سے رہائش پذیر ہے اور ایک شاپنگ مال میں بطور کمپیوٹر آپریٹر ملازمت کر رہی ہے۔

آمنہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی مرضی سے اسلام آباد میں رہنا چاہتی ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں عائد الزامات اور آمنہ کی جانب سے عدالت میں ریکارڈ کرایا گیا بیان اب تفتیش کا حصہ ہیں، جبکہ پولیس اہلکار نصیب جان کو عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری مل چکی ہے۔

 

یاد رہے کہ کل صوابی میں دو بہنوں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے حبسِ بے جا میں رکھنے، نازیبا ویڈیوز بنانے، دھمکانے اور بلیک میل کرنے کے الزام میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صوابی وقاص رفیق کے ایکشن پرتھانہ زیدہ میں 4 اکتوبر کو فاطمہ زوجہ محمد ادریس کی پولیس چوکی کھنڈہ کے انچارج نصیب جان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔