اختر گل

 

«سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں»

 

کچھ لوگ اس دنیا میں صرف زندگی گزارنے نہیں آتے، بلکہ اپنے حصے کی روشنی بانٹنے آتے ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں، وہاں محبت کی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں؛ لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں، رشتوں میں مٹھاس گھولتے ہیں، دکھ میں شریک ہوتے ہیں اور خوشی کے لمحوں کو دوبالا کر دیتے ہیں۔

 

 پھر جب ایسے لوگ اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک انسان نہیں جاتا، ایک عہد، ایک تعلق، ایک مسکراہٹ، ایک آواز اور ایک پوری کیفیت اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔

 

محمد ہارون نیازی بھی ایسی ہی محبت بانٹنے والی، خوش اخلاق، شفیق، ملنسار، دردِ دل رکھنے والی اور ہر دل عزیز شخصیت تھے۔ان کے انتقال کی خبر نے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوستوں، احباب، شاگردوں اور جنوبی اضلاع کے تعلیمی و سماجی حلقوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

 

 دل آج بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ جو شخص کل تک محبت سے ملتا، مسکرا کر بات کرتا، دوسروں کی خیریت پوچھتا اور ہر کسی کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا تھا، آج اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہے۔

 

 

کچھ شخصیات کی موجودگی کا احساس ان کے سامنے ہوتے ہوئے شاید اتنا نہیں ہوتا، جتنا ان کے چلے جانے کے بعد ہوتا ہے۔ ان کی کمی پھر ہر جگہ محسوس ہوتی ہے؛ محفل میں، گفتگو میں، یادوں میں اور ان لوگوں کی آنکھوں میں جن کے ساتھ ان کے تعلقات محبت اور خلوص کی بنیاد پر قائم تھے۔

 

«ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا»

 

محمد ہارون نیازی 1960ء میں ہنگو کے معروف گاؤں توغ سرائے میں ایک باوقار، شریف، معزز، تعلیم یافتہ اور علمی و خاندانی روایات کے حامل گھرانے میں پیدا ہوئے۔

 

یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مذاکراتی ڈرافٹ سامنے آگیا

 

 ان کے والد محترم حاجی دلباغ خان نیازی تھے۔ ان کے نانا کیپٹن مسعود گل صاحب تھے، جبکہ ان کے ماموں جنرل شیرین دل نیازی تھے۔ یوں انہیں ایک ایسے گھرانے میں پرورش ملی جہاں نظم و ضبط، علمی ذوق، شرافت، خدمت اور انسان دوستی زندگی کا حصہ تھے۔

 

«ہوئے نامور جو بزرگ تھے، وہ شجاعتوں میں یگانہ تھے

انہی نسبتوں کا اثر ہے یہ، جو صفات ان میں سمائی ہیں»

 

تعلیم اور عملی زندگی

 

محمد ہارون نیازی کی تعلیم کا سفر مختلف شہروں سے گزرا۔ والد اور خاندان کے دیگر افراد کی ملازمتوں اور مصروفیات کے باعث انہیں کوہاٹ، ہنگو، پشاور اور ملتان جیسے شہروں میں رہنے اور تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔

 

عملی زندگی کا آغاز انہوں نے بینکنگ کے شعبے سے کیا۔ وہ 1980ء میں حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) سے وابستہ ہوئے اور تقریباً 20 سال انتہائی محنت، دیانت، ایمانداری اور پیشہ ورانہ قابلیت کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران انہوں نے اپنی صلاحیت، ذمہ داری اور حسنِ کارکردگی سے بینکنگ کے شعبے میں ایک معتبر مقام بنایا۔مگر شاید قدرت نے ان کے لیے اس سے بھی بڑا کردار محفوظ کر رکھا تھا۔

 

تعلیم کو زندگی کا مشن بنا لیا

 

2001ء میں جب ان کے بڑے بھائی علیل ہوئے تو محمد ہارون نیازی نے آگے بڑھ کر دلز اکیڈمی پاکستان (DILS Academy Pakistan) کی تمام تر انتظامی و تعلیمی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھا لیں۔یہ وہ موڑ تھا جہاں تعلیم ان کے لیے محض ایک پیشہ یا ادارہ چلانے کی ذمہ داری نہیں رہی، بلکہ زندگی کا مقصد اور ایک مقدس مشن بن گئی۔

 

وہ دلز اکیڈمی پاکستان کے مینجنگ ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور اپنی وفات تک تقریباً پچیس سال اس ذمہ داری کو اخلاص، لگن اور مسلسل محنت کے ساتھ نبھاتے رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین اور قیمتی سال تعلیم کے فروغ، اداروں کی بہتری اور نئی نسل کی ذہنی و اخلاقی تربیت کے لیے وقف کر دیے۔

 

ان کے نزدیک اسکول صرف عمارت کا نام نہیں تھا۔ اسکول ایک ایسی جگہ تھی جہاں مستقبل تشکیل پاتا ہے، جہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے بلکہ زندگی کے اصول سیکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہیں بچوں کی تعلیم، تربیت اور مستقبل سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔

 

وہ خاص طور پر ان طبقات کے بچوں کے لیے فکرمند رہتے جہاں معیاری تعلیم کے مواقع محدود تھے۔ غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ان کے بڑے خوابوں میں شامل تھا۔

 

وہ جانتے تھے کہ کسی علاقے کی تقدیر بدلنے کے لیے سب سے مضبوط راستہ تعلیم ہے، کیونکہ ایک تعلیم یافتہ بچہ صرف اپنی زندگی نہیں بدلتا بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے مستقبل کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

«جہاں بھی جائے گا روشنی لٹائے گا

کسی چراغ کا اپنا مکان نہیں ہوتا»

 

نجی تعلیمی اداروں کی توانا آواز

 

تعلیمی میدان میں ان کی خدمات صرف اپنے اداروں تک محدود نہیں تھیں۔ وہ پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (Private Education Network) کے صوبائی سینئر نائب صدر (جنوبی اضلاع) بھی رہے۔

 

اس پلیٹ فارم سے انہوں نے جنوبی اضلاع کے نجی تعلیمی اداروں کے مسائل، ان کی ترقی، اساتذہ و طلبہ کی فلاح و بہبود اور اداروں کے جائز حقوق کے لیے ہر متعلقہ فورم پر بھرپور اور توانا آواز اٹھائی۔

 

وہ تعلیمی اداروں کی مشکلات کو صرف انتظامی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے معاشرے کے مستقبل سے جوڑ کر دیکھتے تھے۔ ان کی گفتگو میں دلیل، تجربہ، وزن اور اپنائیت ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ تعلیمی و سرکاری حلقوں میں ان کی بات کو توجہ اور احترام سے سنا جاتا تھا۔

 

سیاست سے بڑھ کر عوامی تعلق

 

محمد ہارون نیازی کی زندگی کا ایک پہلو سماجی اور عوامی سرگرمیوں سے بھی جڑا ہوا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک کے تسلسل نیشنل عوامی پارٹی (موجودہ اے این پی) سے ہوا۔ بعد ازاں 2001-02ء کے دور میں، جب ان کے بڑے بھائی نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا، تو خاندانی و سیاسی ضرورت کے تحت انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ گروپ) سے وابستگی اختیار کی۔

 

اگرچہ آگے چل کر انہوں نے خود براہِ راست اور برسرِ عام انتخابی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی، لیکن عوامی خدمت اور لوگوں سے تعلق کا رشتہ کبھی منقطع نہ ہوا۔

 

خاندانی اور سماجی معاملات میں وہ ہمیشہ ایک مضبوط دستِ بازو کا کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی معاملہ فہمی، وسیع تعلقات، لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت اور حالات کو سمجھنے کا انداز انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔

 

اپنے آبائی علاقے توغ سرائے اور ہنگو کی تعمیر و ترقی، عوامی مسائل کے حل، ہسپتالوں و اسکولوں کی حالتِ زار بہتر بنانے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے انہوں نے اپنے تعلقات اور استطاعت کو ہمیشہ استعمال کیا۔ان کے لیے عوامی خدمت محض ایک نعرہ نہیں تھی؛ وہ اسے اپنی سماجی ذمہ داری سمجھتے تھے۔

 

ایک انسان جو دلوں میں گھر کر گیا

 

مگر محمد ہارون نیازی کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو نہ ان کا عہدہ تھا، نہ ان کی سیاسی وابستگی اور نہ ہی ان کی انتظامی صلاحیت۔ان کی اصل پہچان ان کی انسانیت تھی۔

 

وہ بنیادی طور پر ایک نہایت پیار کرنے والے، خوش مزاج، ملنسار، بااخلاق اور انسان دوست شخص تھے۔ان کی مسکراہٹ میں اپنائیت تھی، گفتگو میں شائستگی تھی اور لہجے میں ایک ایسی مٹھاس تھی جو سامنے والے کو بے تکلف کر دیتی تھی۔

 

بچوں کے ساتھ ان کا برتاؤ خاص طور پر محبت اور شفقت سے بھرپور ہوتا تھا۔ وہ بچوں کو محض بچے نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں معاشرے کا مستقبل سمجھتے تھے۔ ان کی بات سنتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے، ان کی کامیابی پر خوش ہوتے اور ان کے مستقبل کے لیے دعائیں کرتے۔

 

بڑے ہوں یا چھوٹے، استاد ہوں یا شاگرد، دوست ہوں یا عام ملنے والے، ہر شخص ان کے رویے میں عزت اور اپنائیت محسوس کرتا تھا۔

 

وہ کسی سے ملتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے برسوں سے جانتے ہوں۔ خیریت پوچھنا، حال احوال جاننا، بچوں کے بارے میں دریافت کرنا، کسی کی مشکل سن لینا اور کسی کی خوشی میں دل سے خوش ہونا ان کے مزاج کا حصہ تھا۔

 

وہ ان لوگوں میں سے تھے جو لوگوں کو یاد رکھتے تھے۔اور شاید یہی وجہ تھی کہ لوگ بھی انہیں کبھی بھول نہیں پاتے تھے۔

 

جہاں جاتے، محفل بن جاتی

 

محمد ہارون نیازی کی موجودگی میں ایک عجیب سی زندگی تھی۔ وہ جہاں جاتے، وہاں خاموشی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی تھی۔ ان کی گفتگو، خوش مزاجی، شگفتہ پن اور محبت بھرا انداز محفل میں ایک خاص رونق پیدا کر دیتا تھا۔

 

وہ محفل میں بیٹھتے تو صرف اپنی بات نہیں کرتے تھے؛ دوسروں کو بھی بولنے کا موقع دیتے، سب کی سنتے اور ہر شخص کو اہمیت دیتے۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کسی کو کمتر محسوس نہیں ہونے دیتے تھے۔

 

ان کے پاس بیٹھنے والا خواہ کتنا ہی عام کیوں نہ ہو، کچھ دیر بعد اسے یہ احساس ضرور ہوتا کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے، اس کی قدر کی جا رہی ہے اور اسے اہم سمجھا جا رہا ہے۔یہی وصف انسان کو لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتا ہے۔محمد ہارون نیازی واقعی ہر دل عزیز تھے۔

 

«اٹھ کے جاتے ہیں تیرے شہر سے جانے والے

تجھ کو معلوم بھی ہے کتنا اندھیرا ہو گا»

 

خدمتِ خلق: خاموش مگر روشن راستہ

 

ان کی زندگی میں فلاحِ انسانیت اور خدمتِ خلق کا جذبہ ہمیشہ نمایاں رہا۔ وہ ضرورت مند کے کام آنے، کسی کی مشکل آسان کرنے اور کسی کے دکھ میں شریک ہونے کو انسانی ذمہ داری سمجھتے تھے۔

 

وہ نیکی کو دکھاوے کا ذریعہ نہیں بناتے تھے۔ بہت سے کام ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا ذکر شاید انہوں نے کبھی خود نہ کیا ہو، مگر جن لوگوں کی زندگی میں ان کے تعاون، مشورے یا حوصلے نے آسانی پیدا کی، وہ ان کی مہربانی کو کبھی نہیں بھول سکتے۔یہی تو اصل خدمت ہے کہ انسان کسی کے کام آئے اور بدلے میں کچھ نہ چاہے۔

انہوں نے لوگوں کو صرف سہارا نہیں دیا، بلکہ بہت سے لوگوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیا۔

 

ایک چراغ کی روشنی آگے چلتی رہے گی

 

محمد ہارون نیازی کی رحلت کے بعد ان کے عظیم تعلیمی و سماجی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے خاندان کی نئی نسل پُرعزم ہے۔ ان کے بھتیجے سلمان مسعود نیازی دلز اکیڈمی پاکستان کے مینجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔

 

یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ اس روشن مشن کی منتقلی ہے جس کے لیے محمد ہارون نیازی نے اپنی زندگی کے بہترین اور قیمتی سال وقف کیے تھے۔

 

ایک شخص چلا جاتا ہے، مگر اگر اس نے ادارے بنائے ہوں، نسلیں سنواری ہوں، دل جیتے ہوں اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کی ہوں تو اس کا سفر وہیں ختم نہیں ہوتا۔اس کی زندگی کا اثر آگے چلتا رہتا ہے۔

 

«یہ فکر، یہ دانش، یہ لیاقت، یہ شرافت

اب کون سکھائے گا محبت کے قرینے»

آخری سفر

 

27 اگست 2026ء کو محمد ہارون نیازی اس دنیائے فانی سے رخصت ہو کر سفرِ آخرت پر روانہ ہو گئے۔یہ تاریخ ان کے چاہنے والوں، دوستوں، شاگردوں اور تعلیمی و سماجی حلقوں کے لیے ایک ایسا صدمہ ہے جسے وقت بھی شاید دھندلا نہ سکے۔

 

ایک شفیق انسان، ایک مخلص دوست، ایک تعلیم دوست شخصیت، ایک دردِ دل رکھنے والا سماجی کارکن اور ایک بااخلاق انسان ہم سے جدا ہو گیا۔مگر بعض لوگ اپنی وفات کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔

 

وہ اپنے اچھے اعمال میں زندہ رہتے ہیں، اپنی یادوں میں زندہ رہتے ہیں، ان اداروں میں زندہ رہتے ہیں جو انہوں نے سنوارے، ان بچوں میں زندہ رہتے ہیں جن کے مستقبل کے لیے انہوں نے کوشش کی، اور ان دلوں میں زندہ رہتے ہیں جنہیں انہوں نے محبت دی۔محمد ہارون نیازی بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔

 

آج ان کی یاد آتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کی کتاب کا ایک خوبصورت باب اچانک بند ہو گیا ہے۔ ایک ایسی آواز خاموش ہو گئی جس میں اپنائیت تھی، ایک ایسی مسکراہٹ ہم سے چھن گئی جس میں محبت تھی اور ایک ایسی شخصیت ہم سے جدا ہو گئی جس کی موجودگی بہت سے لوگوں کے لیے خود ایک حوصلہ تھی۔

 

«داغِ مفارقت تو دیا ہے تمام عمر

ان کی صفت یہ تھی کہ بھلائے نہ جا سکے»

 

آج ان کی یاد میں دل بے اختیار کہتا ہے:

 

«ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی

میں تو کہتا تھا کہ سورج کو ابھارا جائے»

 

مگر حقیقت یہ ہے کہ چراغ بجھنے سے اس کی روشنی ختم نہیں ہوتی۔کچھ چراغ اپنے پیچھے ایسی روشنی چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے بعد بھی راستوں کو منور کرتی رہتی ہے۔

محمد ہارون نیازی نے بھی تعلیم، محبت، شرافت، انسان دوستی اور خدمتِ خلق کی جو شمع روشن کی، وہ ان شاء اللہ ان کے بعد بھی جلتی رہے گی۔

 

ان کے قائم کیے ہوئے ادارے، ان کی تربیت پانے والے بچے، ان کے شاگرد، ان کے دوست، ان سے محبت کرنے والے لوگ اور وہ تمام انسان جن کے دکھ سکھ میں وہ شریک رہے—یہ سب ان کی زندگی کی روشن گواہی ہیں۔

وہ چلے گئے، مگر ان کی محبت باقی ہے۔

وہ خاموش ہو گئے، مگر ان کی باتیں باقی ہیں۔

وہ ہم سے جدا ہو گئے، مگر ان کی یاد باقی ہے۔اور سب سے بڑھ کر، وہ روشنی باقی ہے جو انہوں نے دوسروں کی زندگیوں میں بانٹی۔

 

اللہ تعالیٰ محمد ہارون نیازی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کی تمام تعلیمی، سماجی اور انسانی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی نیکیوں کو ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے، اور ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوستوں، شاگردوں اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔