باجوڑ کے پسماندہ اور سہولیات سے محروم تحصیل اتمان خیل حیاتی کی گرد آلود گلیوں سے اٹھنے والے ایک گمنام نوجوان نے قومی انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ میں وہ تاریخ رقم کر دی ہے جس نے نہ صرف باجوڑ بلکہ پوری کرکٹ برادری کو حیران کر دیا ہے۔

 

ون ڈے میچ میں ایبٹ آباد ریجن کی نمائندگی کرتے ہوئے سجاد خان نے 153 رنز ناٹ آؤٹ کی ایسی برق رفتار اور تاریخی اننگز کھیلی جو ایبٹ آباد ریجن کی تاریخ میں انڈر 19 کی سطح پر اب تک کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔

 

لیکن اس یادگار اننگز کا اصل حسن اس کے ہندسوں میں نہیں بلکہ اس پسینے، مشقت اور آنسوؤں میں چھپا ہے جو سجاد نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے بہائے ہیں۔

 

سجاد کا کرکٹ سے رشتہ اس وقت جڑا جب وہ محض پانچ برس کے تھے اور گھر کے صحن میں اپنے بڑے بھائی الطاف کے ساتھ ٹینس بال سے کھیلا کرتے تھے۔ آٹھ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کی فطری بیٹنگ کا یہ عالم تھا کہ انہیں آؤٹ کرنا بڑے بڑوں کے لیے بھی مشکل ہو جاتا تھا۔ لیکن باجوڑ کے اس خطے میں بچوں کے لیے کھیلنے کے مناسب میدان میسر تھے، نہ کوئی اکیڈمی۔ وہاں کرکٹ کا خواب دیکھنا ہی ایک کٹھن امتحان تھا۔

 

جب علاقے میں پہلی کرکٹ اکیڈمی کھلی تو سجاد 11 سال کی عمر میں وہاں پہنچے، لیکن فاٹا میں کئی سال تک ٹرائلز نہ ہونے کے باعث ان کا کھیل کا سلسلہ رک گیا۔ مایوسی کے اس دور میں سجاد کا اکیڈمی سے فاصلہ بڑھ گیا، مگر پرائیویٹ اسکول میں پڑھانے والے ان کے بڑے بھائی الطاف نے ان کا ہاتھ نہ چھوڑا۔ بھائی نے نہ صرف ان کے ٹیلنٹ کی حفاظت کی بلکہ اکیڈمی کے کوچز کے ذریعے سجاد کا ٹوٹتا ہوا حوصلہ بحال کیا اور انہیں دوبارہ نیٹس میں لا کھڑا کیا۔

 

 

جب سجاد نے فخر زمان کرکٹ اکیڈمی کا رخ کیا تو یہ ان کی زندگی کا سب سے کٹھن مرحلہ تھا۔ انہیں وسائل کی شدید کمی کا سامنا تھا، لیکن سجاد کے اندر کھیل کا جنون موجزن تھا۔ وہ دن بھر اکیڈمی میں گھنٹوں کڑی دھوپ میں بیٹنگ کی پریکٹس کرتے اور رات کو اپنی روزی روٹی اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک ہوٹل میں مشقت کرتے۔

 

رات بھر جاگ کر برتن دھونا اور کام کرنا، پھر صبح ہوتے ہی تمام تھکن بھلا کر میدان میں پسینہ بہانا، یہ وہ قربانی تھی جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ جب اکیڈمی کو اس باہمت لڑکے کی مشقت کا علم ہوا تو پاکستان کے مایہ ناز بلے باز فخر زمان کی ہدایت پر نہ صرف ان کی فیس معاف کر دی گئی بلکہ ان کی خوراک اور رہائش کے تمام اخراجات بھی اکیڈمی نے اپنے ذمے لے لیے۔

 

مشکلات کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔

2023 میں ٹرائلز کے فائنل مرحلے میں سلیکشن نہ ہونے پر سجاد ایک بار پھر مایوس ہوئے۔ اردگرد کے لوگ طعنے دیتے کہ ’’کرکٹ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کوئی مزدوری کرو۔‘‘ مگر والد کی دعائیں اور بڑے بھائی کی ہمت ان کے گرد ڈھال بنی رہی۔ بھائی نے لوگوں کے طعنوں کو سجاد کے دل تک نہیں پہنچنے دیا اور ہر ناکامی پر یہی کہا: ’’تم کر سکتے ہو، ہمت نہ ہارو۔‘‘

 

بالآخر محنت کا پھل ملنے کا وقت آ ہی گیا۔ پی سی بی کے انڈر 17 اسکول ٹرائلز میں سجاد ایبٹ آباد کے تمام اسکولوں میں بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ چیلنج کپ میں شاندار کارکردگی کے بعد جب وہ انڈر 19 کے 25 بہترین کھلاڑیوں کے خصوصی کیمپ میں پہنچے تو اپنی غیر معمولی بیٹنگ سے سب کو قائل کر لیا۔

 

ریجنل سطح پر ایبٹ آباد کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے اپنے پہلے تین روزہ میچ میں 85 رنز بنائے، جبکہ آج ہونے والے ون ڈے میچ میں 153 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

 

نویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والے سجاد خان نے کرکٹ کے خواب کو زندہ رکھنے کے لیے ہر آسائش اور آرام کو قربان کیا۔ آج فخر زمان کی سرپرستی، ایبٹ آباد کے کوچز کی رہنمائی اور ان کے بھائی کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ باجوڑ کا یہ چمکتا ستارہ قومی افق پر جگمگا رہا ہے۔

سجاد خان کی یہ داستان ثابت کرتی ہے کہ اگر سینے میں سچا جذبہ ہو تو ہوٹل کی مزدوری سے نکل کر بھی تاریخ رقم کی جا سکتی ہے۔