عوامی نیشنل پارٹی ضلع خیبر نے تیراہ اور راجگال کے متاثرین کی رجسٹریشن، مالی امداد، زمینوں اور فصلوں کے معاوضے، تباہ شدہ گھروں کی بحالی اور متاثرین کی واپسی سے متعلق مطالبات پر 24 ستمبر تک عملی پیش رفت کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
اے این پی ضلع خیبر کے زیر اہتمام تیراہ متاثرین کے حقوق اور زیر التوا مطالبات کے حق میں باڑہ خیبر چوک میں احتجاج کیا گیا، جس کی صدارت ضلعی صدر عبدالرزاق آفریدی نے کی۔ احتجاج میں باجوڑ سے اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز سمیت پارٹی عہدیداران اور کارکنان نے شرکت کی۔

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرزاق آفریدی نے کہا کہ اے این پی اب تیراہ متاثرین کے لیے میدان میں آچکی ہے اور آج کا احتجاج صرف ایک اشارہ ہے۔ مطالبات پورے نہ ہوئے تو ہزاروں سرخ پوش کارکنوں اور متاثرین کے ساتھ متعلقہ ایوانوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے ارباب اختیار سے متاثرین کے مسائل فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ
انہوں نے کہا کہ تیراہ کے عوام ماضی میں لسانیت، فرقہ واریت اور طویل جنگ جیسے حالات سے گزر چکے ہیں، جس کے باعث بعض معاملات میں لوگ ایک دوسرے سے تصدیق یا دستخط کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کی رجسٹریشن اور تصدیق کا عمل سرکاری سطح پر مکمل کیا جائے تاکہ انہیں مشکلات سے بچانے کے ساتھ علاقے میں امن اور باہمی اعتماد بھی برقرار رکھا جاسکے۔

اس موقع پر نثار باز نے کہا کہ باجوڑ میں اے این پی اور اس کے نمائندوں نے متاثرین کی واپسی کے لیے مؤثر آواز اٹھائی، جس کے نتیجے میں 48 دن کے اندر واپسی ممکن ہوئی، جبکہ ضلع خیبر میں وزیراعلیٰ سمیت بڑی تعداد میں عوامی نمائندوں کی موجودگی کے باوجود تیراہ متاثرین کے مسائل تاحال حل طلب ہیں۔
اے این پی نے مطالبہ کیا کہ غیر رجسٹرڈ متاثرین کی فوری رجسٹریشن مکمل کرکے امدادی سم جاری کی جائے، جبکہ سم موصول ہونے کے باوجود مالی امداد سے محروم افراد کی واجب الادا رقوم بھی فوری ادا کی جائیں۔
پارٹی نے سڑکوں، چیک پوسٹوں اور دیگر سرکاری منصوبوں کی زد میں آنے والی زمینوں کا منصفانہ معاوضہ دینے اور مسمار و متاثرہ گھروں کے لیے معاوضہ پیکیج جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

اے این پی نے 30 ستمبر سے پہلے تیراہ متاثرین کی واپسی کا واضح سرکاری نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ مدت تک واپسی ممکن نہیں تو متاثرہ کسانوں اور زمین مالکان کو تیار فصلوں کے نقصانات کا مکمل معاوضہ دیا جائے۔ پارٹی نے تیراہ راجگال کے متاثرین کی باعزت واپسی اور دیگر آئی ڈی پیز کی طرز پر مکمل پیکیج اور مالی امداد فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
پارٹی نے مطالبات کے حل کے لیے بار بار کمیٹیاں تشکیل دینے کے بجائے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر سمیت ضلعی انتظامیہ کو براہ راست عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ متاثرین کو غیر ضروری تاخیر اور پیچیدہ طریقہ کار کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اے این پی ضلع خیبر کے مطابق تیراہ اور راجگال کے مسائل کا مستقل حل عارضی انتظامات کے بجائے پالیسی میں مؤثر تبدیلی سے ممکن ہے، کیونکہ بار بار نقل مکانی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ پارٹی نے ایسی پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جس کے تحت متاثرہ عوام کو اپنے علاقوں میں محفوظ، باعزت اور پائیدار طور پر رہنے کا موقع مل سکے۔
اے این پی نے مطالبات پر 24 ستمبر تک عملی پیش رفت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور صوبائی اسمبلی، گورنر ہاؤس، قلعہ بالاحصار سمیت متعلقہ مقامات کی جانب مارچ کیا جائے گا۔
