کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب دھماکے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 5 پولیس اہلکاروں اور 11 شہریوں سمیت 16 افراد شہید جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ پولیس اور سی ٹی ڈی کا فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایک سنائپر دہشتگرد بھی مارا گیا ہے، جبکہ پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن تاحال جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: برانڈڈ شاپنگ بیگ کے 30 روپے وصول کرنے پر کھاڈی کو 50 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
پولیس کے مطابق کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے، جبکہ پولیس لائنز کے اطراف مزید نفری تعینات کردی گئی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب دھماکے کی شدید مذمت کی، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے کا نوٹس لے لیا۔
