خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کی تحصیل تنگی میں 8 سالہ بچے پر اپنے 5 سالہ سگے بھائی کو مبینہ طور پر چاقو کے وار کرکے قتل کرنے کا الزام ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اگر بچے کی عمر وقوعے کے وقت 10 سال سے کم ثابت ہوجائے تو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 82 کے تحت اسے فوجداری ذمہ داری سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

 

پولیس کے مطابق واقعے کی ابتدائی تفتیش میں 8 سالہ بھائی پر شبہ سامنے آیا، جس نے مزید پوچھ گچھ کے دوران مبینہ طور پر اپنے بھائی کو چاقو مارنے کا اعتراف کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی حتمی حقیقت تفتیش مکمل ہونے اور تمام شواہد سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی۔

 

تھانہ تنگی کے ایس ایچ او انسپکٹر بسم اللہ جان نے ٹی این این کو بتایا کہ 30 ستمبر کو محمد طفیل نامی شخص نے رپورٹ درج کرائی کہ والدین کی غیرموجودگی میں ان کا 5 سالہ بیٹا گھر میں موجود تھا، جسے نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر چاقو کے وار کرکے زخمی کردیا۔ زخمی بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تین روز بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، فی تولہ نیا نرخ کیا ہے؟

 

پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کا مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 کے تحت درج کیا تھا۔

 

ایس ایچ او کے مطابق واقعے کے وقت مقتول بچے کا 8 سالہ بھائی بھی گھر میں موجود تھا۔ بچے نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ وہ کمرے میں ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ بھائی کی چیخیں سن کر باہر آیا، جہاں نامعلوم افراد اس کے بھائی کو چاقو مار کر فرار ہوگئے۔

 

انسپکٹر بسم اللہ جان کے مطابق جائے وقوعہ پر بچے سے بات چیت کے دوران پولیس کی نظر اس کی زخمی انگلی پر پڑی۔ بچے نے بتایا کہ اس نے صبح پتھر کے ساتھ چاقو تیز کرتے ہوئے اپنی انگلی زخمی کی تھی، تاہم پولیس کے مطابق بچے کے جوتے پر خون کا ایک قطرہ بھی موجود تھا۔ بچے نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے زخمی بھائی کے پاس گیا تھا۔

 

ایس ایچ او کے مطابق مزید پوچھ گچھ کے دوران بچے نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اسی نے اپنے بھائی کو چاقو مارا تھا۔ بچے نے مبینہ طور پر وجہ بتائی کہ چند روز قبل اس کے بھائی نے اسے مکا مارا تھا اور اسے یہ احساس بھی تھا کہ والدین اس کے چھوٹے بھائی سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔

 

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچہ موبائل فون پر ایسی گیمز کھیلتا تھا جن میں پرتشدد مناظر شامل تھے۔

 

بچوں کے حقوق کے ماہر عمران ٹکر نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو صرف قتل کی واردات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ بچوں کی تربیت، گھریلو ماحول، والدین کی نگرانی اور ذہنی نشوونما کے پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

 

ان کے مطابق کم عمر بچوں کی فہم اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتی، اس لیے انہیں گھر پر اکیلا چھوڑنا بعض اوقات خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ والدین کو بچوں کے رویوں، دوستوں، سرگرمیوں اور خاص طور پر موبائل فون کے استعمال پر نظر رکھنی چاہیے۔

 

اسلام آباد میں مقیم بچوں کے حقوق کی کارکن اور صحافی بشریٰ اقبال حسین نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ نامناسب رویہ، ان کے درمیان امتیاز اور ایک بچے کو دوسرے پر ترجیح دینے کا احساس ان میں محرومی پیدا کرسکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پولیس کو صرف بچے کے مبینہ اعتراف پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ واقعے کے تمام ممکنہ پہلوؤں کی مکمل تفتیش ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ بھی شواہد کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے کہ آیا واقعے میں واقعی یہی بچہ ملوث ہے یا اس کے پس پردہ کوئی اور عنصر موجود ہے۔

 

بشریٰ اقبال حسین کے مطابق کسی ممکنہ جنسی زیادتی یا دوسرے جرم کے امکان کو بھی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

 

پشاور سے تعلق رکھنے والے قانونی ماہر سعیداللہ خان ایڈووکیٹ کے مطابق اس معاملے میں بچے کی عمر بنیادی قانونی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ب فارم، پیدائشی ریکارڈ، اسکول ریکارڈ یا دیگر قانونی دستاویزات سے ثابت ہوجائے کہ بچے کی عمر وقوعے کے وقت 10 سال سے کم تھی تو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 82 کا اطلاق ہوگا۔

 

ان کے مطابق 2016 کی ترمیم کے بعد دفعہ 82 کے تحت 10 سال سے کم عمر بچے کے فعل کو جرم نہیں سمجھا جاتا، جبکہ دفعہ 83، 10 سے 14 سال کی عمر کے بچوں سے متعلق ہے، جہاں بچے کی سمجھ بوجھ اور ذہنی پختگی کو دیکھا جاتا ہے۔

 

سعیداللہ خان ایڈووکیٹ کے مطابق اگر بچے کی عمر 10 سال سے کم ثابت ہوجائے تو اس پر عام فوجداری ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔ ایسی صورتحال میں بچے کو ادارہ جاتی حراست میں رکھنے کے بجائے والدین یا سرپرست کی تحویل، نفسیاتی جائزے اور سوشل ویلفیئر کی نگرانی زیادہ مناسب راستہ ہوسکتا ہے۔

 

تنگی پولیس کے مطابق بچے کو چائلڈ کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں اسے والدین کی تحویل میں دے دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی حتمی حقیقت تفتیش مکمل ہونے اور تمام شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔