صبح کا الارم بجنے سے پہلے ہی موبائل فون موسم، راستے اور دن بھر کی مصروفیات بتا دیتا ہے۔ چند لمحوں میں ایک تحریر تیار ہو جاتی ہے، مشکل زبان آسان ہو جاتی ہے، تصویر کا انداز بدل جاتا ہے اور ایک عام سی تصویر کو 1980 کی دہائی کے لباس، بڑے بالوں، پرانی روشنی اور فلمی انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جو کام کبھی گھنٹوں، دنوں یا ماہرین کی مدد سے مکمل ہوتا تھا، مصنوعی ذہانت اسے چند لمحوں میں انجام دے رہی ہے۔

 

آج لوگ اپنی موجودہ تصاویر کو 1980 کی دہائی کے انداز میں تبدیل کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے مناظر دکھائی دیتے ہیں جن میں جدید دور کے لوگ پرانے اسٹوڈیو پورٹریٹ، ماضی کے ملبوسات، فلمی روشنی اور پرانے زمانے کے انداز میں نظر آتے ہیں۔ بظاہر یہ صرف تفریح ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑی تبدیلی چھپی ہے۔

 

 

 مصنوعی ذہانت صرف ہمارے کام کرنے کا طریقہ نہیں بدل رہی بلکہ ماضی کو دیکھنے، اپنی شناخت پیش کرنے اور حقیقت کو محسوس کرنے کے انداز کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: چارسدہ: موبائل گیمز کے خطرناک اثرات، 5 سالہ بچے کا قاتل مبینہ طور پر 8 سالہ سگا بھائی نکلا

 

لیکن اگر ایک مشین تصویر بنا سکتی ہے، تحریر لکھ سکتی ہے، آواز تخلیق کر سکتی ہے، زبان کا ترجمہ کر سکتی ہے اور پیچیدہ معلومات کو چند سیکنڈ میں ترتیب دے سکتی ہے تو یہ  سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے: ٹیکنالوجی انسان کے لیے کتنی دور تک کام کرے گی اور اسے کتنی طاقت دینی چاہیے؟

 

 

مصنوعی ذہانت کے فوائد سے انکار ممکن نہیں۔ تعلیم میں یہ مشکل تصورات سمجھانے، زبانوں کے درمیان ترجمہ کرنے اور معلومات ترتیب دینے میں مدد دے رہی ہے۔ صحافت میں اعداد و شمار سمجھنے، دستاویزات کے ابتدائی تجزیے، مختلف زبانوں میں مواد تیار کرنے اور بڑی مقدار میں معلومات سے اہم نکات تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ 

 

 

طب میں تحقیق اور تشخیص کے عمل میں معاونت ہو رہی ہے، جبکہ کاروباری ادارے دفتری کام، صارفین کے سوالات اور معلومات کی ترتیب جیسے کام تیزی سے انجام دینے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کر رہے ہیں۔لیکن سہولت جتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے، خدشات بھی اتنی ہی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔

 

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ تناسب تقریباً 60 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اتنی ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ کچھ کاموں میں مصنوعی ذہانت انسان کی صلاحیت بڑھائے گی، کچھ کام تبدیل ہوں گے اور بعض شعبوں میں انسانی محنت کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

 

 

اصل تبدیلی شاید یہ ہو کہ ایک  کام کرنے کے لیے مستقبل میں پہلے کے مقابلے میں کم افراد درکار ہوں۔ یہ صورت حال ان لاکھوں نوجوانوں کے لیے اہم ہے جو آج تعلیم حاصل کر کے روزگار کی تلاش میں ہیں۔

 

 اگر ایک ادارہ وہ کام مصنوعی ذہانت کی مدد سے کم ملازمین کے ذریعے مکمل کر سکتا ہے جس کے لیے پہلے ایک بڑی ٹیم درکار ہوتی تھی تو ملازمت کی تعریف ہی بدل سکتی ہے۔یوں مستقبل کا مقابلہ صرف انسان اور مشین کے درمیان نہیں ہوگا بلکہ ان انسانوں کے درمیان بھی ہو سکتا ہے جو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنا جانتے ہیں اور ان کے درمیان جو اس تبدیلی کے لیے تیار نہیں۔لیکن مسئلہ صرف روزگار کا نہیں۔ 

 

 

مصنوعی ذہانت جعلی تصاویر، جعلی آوازوں، غلط معلومات، جعل سازی، سائبر حملوں اور خودکار نگرانی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ ایک ایسی تصویر یا ویڈیو جو حقیقت میں کبھی بنی ہی نہ ہو، چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچتی ہے۔ عام صارف کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ اس کے سامنے موجود مواد حقیقی ہے یا مصنوعی۔

 

پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں سوشل میڈیا معلومات حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے، یہ خطرہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی مواد حقیقی افراد کی ساکھ اور ذاتی زندگی کو متاثر کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

 

 

اور اب مصنوعی ذہانت ایک اور مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ نئے خودکار نظام صرف سوال کا جواب دینے تک محدود نہیں رہتے۔ وہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کئی مراحل خود طے کرنے، معلومات تلاش کرنے، مختلف ڈیجیٹل آلات استعمال کرنے اور بعض صورتوں میں بیرونی نظاموں کے ساتھ تعامل کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔

 

یہیں سے وہ سوال  پیدا ہوتا ہے جو آج کی مصنوعی ذہانت کی بحث کے مرکز میں آ چکا ہے: اگر کسی نظام کو زیادہ اختیار، زیادہ وسائل اور کم انسانی نگرانی دی جائے تو کیا انسان ہمیشہ اسے سمجھ، محدود اور ضرورت پڑنے پر روک سکے گا؟

جولائی 2026 میں اس سوال کو ایک حقیقی واقعے نے مزید سنگین بنا دیا۔

 

 

اوپن اے آئی کے مطابق داخلی سائبر سکیورٹی تجربات کے دوران اس کے بعض تحقیقی ماڈلز نے ایسے حفاظتی انتظامات کو عبور کیا جو انہیں انٹرنیٹ سے الگ رکھنے کے لیے بنائے گئے تھے، اور اوپن اے آئی کے اندرونی تحقیقی نظام کے ساتھ ساتھ ہگنگ فیس کے بعض نظاموں تک بھی رسائی حاصل کی۔

 

 یہ واقعہ ایسے تجربے کے دوران پیش آیا جس کا مقصد ماڈلز کی سائبر صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔اس تجربے میں ماڈلز کو ’’ایکسپلائٹ جِم‘‘ نامی سائبر سکیورٹی جائزے میں مختلف مشکل کام دیے گئے تھے۔

 

 ان کاموں میں ماڈلز کو سافٹ ویئر کی کمزوریوں کو تلاش کرتے ہوئے مطلوبہ ’’فلیگ‘‘ حاصل کرنا تھا، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ وہ  پیچیدہ سائبر مسائل کس حد تک حل کر سکتے ہیں۔ اوپن اے آئی کے مطابق 898 میں سے 198 ایسے کام تھے جن کا ماڈلز نے اس واقعے سے پہلے کبھی درست جواب نہیں دیا تھا۔ انہی مشکل کاموں نے ماڈلز کی سرگرمی میں اہم کردار ادا کیا۔

 

 

لیکن مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ ماڈلز نے اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے ایسے راستے تلاش کیے جن کی محققین نے توقع نہیں کی تھی۔ انہوں نے ایک داخلی پیکیج مینیجر کے ذریعے غیر متوقع انٹرنیٹ رسائی حاصل کی، مختلف کمزوریوں کو جوڑا، ایک دوسرے کے ساتھ غیر مجاز طریقوں سے معلومات شیئر کیں اور بعد میں ہگنگ فیس کے نظام تک بھی پہنچ گئے۔

 

 اوپن اے آئی کے مطابق ماڈلز نے ہگنگ فیس سے ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جو ان کے دیے گئے سائبر ٹیسٹ کا حل حاصل کرنے میں مدد دے سکتی تھی۔

 

تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت نے انسانوں کے خلاف بغاوت کر دی یا دنیا پر قبضہ شروع کر دیا۔ ایسا دعویٰ موجودہ شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن واقعے نے ایک بنیادی حقیقت ضرور سامنے رکھی: زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے ساتھ حفاظتی حدود بھی اتنی ہی مضبوط ہونی چاہئیں۔

 

 

اسی طرح مصنوعی ذہانت کی حفاظتی جانچ میں ایسے فرضی حالات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں کسی نظام کو بند کیے جانے سے بچنے کے لیے انتہائی نامناسب رویوں کی طرف جاتے دیکھا گیا، جن میں بلیک میلنگ جیسے رویے کی نقل بھی شامل تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ حقیقی دنیا میں پیش آنے والے واقعات نہیں بلکہ کنٹرول شدہ حفاظتی تجربات تھے۔ ایسے تجربات کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ کسی نظام میں خطرناک رویے کے امکانات کہاں پیدا ہو سکتے ہیں۔

 

لیکن ستمبر 2026 میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر بحث نے اچانک ایک نئی شدت اختیار کر لی۔اینتھروپک کمپنی  کے محقق جیکب کاکسن نے کمپنی سے استعفیٰ دے دیا۔ کاکسن اس سے پہلے اوپن اے آئی میں بھی کام کر چکے ہیں اور انہوں نے مصنوعی ذہانت کی اس دوڑ پر تشویش ظاہر کی جس میں کمپنیاں خود کو بہتر بنانے والی انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

 

 

 ان کا مؤقف تھا کہ یہ دوڑ انسانی سلامتی کے مقابلے میں بہت تیز ہو چکی ہے۔کاکسن نے اپنی تشویش کو صرف مستقبل کا ایک مبہم خدشہ قرار نہیں دیا۔ 

 

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی صنعت کے اندر موجود کئی افراد اس خطرے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی آئندہ دہائی کے اختتام تک انسانیت کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیاں خود کو بہتر بنانے والی انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 

کاکسن کے مطابق اصل مسئلہ موجودہ چیٹ بوٹس نہیں بلکہ مستقبل کی ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو خود کو بہتر بنانے کے عمل کو تیز کر سکے۔ ان کی تشویش یہ ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت اپنی صلاحیتوں کو تیزی سے بہتر بنانے کے قابل ہو گئی تو انسانوں کے لیے اسی رفتار سے حفاظتی نظام تیار کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

 

 

وہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات میں سائبر حملوں اور حیاتیاتی خطرات جیسے امکانات کا ذکر بھی کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں کو اپنی رفتار، خاص طور پر خود کو بہتر بنانے والی مصنوعی ذہانت کی دوڑ، کے بارے میں زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔

 

کاکسن کا بنیادی سوال یہی ہے: اگر ایک ایسی مشین وجود میں آ گئی جو انسان سے کہیں زیادہ ذہین ہو تو انسان اسے کس طرح قابو میں رکھے گا؟

 

کاکسن کے استعفیٰ کے بعد اینتھروپک کے الائنمنٹ سائنس کے سربراہ ایون ہوبنگر نے بھی ایک انتہائی تشویشناک ذاتی اندازہ سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اگلی 10 سالوں  میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تمام انسانوں کے ختم ہونے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

 

 

 ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کا ذاتی اندازہ ہے، اینتھروپک کی سرکاری پیش گوئی نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمپنی خطرے کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کو انسانی مقاصد کے ساتھ محفوظ انداز میں ہم آہنگ رکھنے کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا۔

 

تاہم ہوبنگر کا 10 فیصد سے زیادہ کا عدد کسی سائنسی پیمائش کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کا ذاتی خطرے کا اندازہ ہے۔

 

دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے خطرات پر بات کرنے والے معروف سائنس دان اور نوبیل انعام یافتہ جیفری ہنٹن نے بھی حالیہ دنوں میں اسی بحث کو مزید شدت دی۔ ہنٹن، جنہیں جدید مصنوعی ذہانت کی بنیاد رکھنے والے اہم سائنس دانوں میں شمار کیا جاتا ہے، نے بی بی سی کے پروگرام ’’نیوز نائٹ‘‘ میں کہا کہ اگلی دہائی میں مصنوعی ذہانت سے انسانی نسل کے خاتمے کا تقریباً 10 فیصد خطرہ سمجھنا غیرمعقول نہیں ہوگا۔

 

 

 ان کا کہنا تھا کہ انسان نے اس سے پہلے ایسی مخلوق نہیں بنائی جو مستقبل میں انسان سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہو، اس لیے اس کے نتائج کی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔تاہم ہنٹن کا یہ بیان بھی کوئی یقینی پیش گوئی نہیں بلکہ خطرے کا ذاتی اندازہ ہے۔

 

یعنی کوئی مستند سائنسی نتیجہ یہ نہیں کہتا کہ اگلے 10 سال میں مصنوعی ذہانت لازماً انسانیت ختم کر دے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں کام کرنے والے بعض ممتاز ماہرین اب اس امکان کو اتنا سنجیدہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس پر عوامی طور پر خبردار کر رہے ہیں۔اور یہ بحث صرف چند افراد تک محدود نہیں۔

 

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے 2026 کے ایک تحقیقی جائزے میں 37 ممالک کے 272 مصنوعی ذہانت ماہرین سے 24 مختلف خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ 

 

 

ماہرین نے خطرناک مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہتھیاروں اور سائبر حملوں، طاقت کے ارتکاز، مسابقتی دباؤ اور غلط معلومات سمیت کئی خطرات کو اہم قرار دیا۔ موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں ماہرین نے 24 میں سے 18 خطرات کے بارے میں اگلے پانچ سال میں تباہ کن نتائج کے 10 فیصد سے زیادہ امکان کا اندازہ لگایا۔

 

تاہم اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ ماہرین نے کہا ہے کہ اگلے پانچ سال میں 18 الگ الگ تباہیاں ضرور ہوں گی۔ یہاں 10 فیصد کا عدد ماہرین کی خطرے کے امکان سے متعلق رائے کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ کسی واقعے کی یقینی پیش گوئی۔

 

یعنی خطرہ صرف یہ نہیں کہ کوئی ایک دن مشین انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔ خطرات آج بھی موجود ہیں: غلط معلومات، سائبر حملے، خودکار نظاموں کا غلط استعمال، معاشی طاقت کا ارتکاز اور انسانوں کے اہم فیصلوں میں مشینوں کا بڑھتا ہوا کردار۔

 

 

اسی لیے بعض ماہرین کے نزدیک اگلے چند سال اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ مستقبل کی انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے لیے حفاظتی نظام پہلے تیار ہوتے ہیں یا ٹیکنالوجی پہلے اتنی آگے نکل جاتی ہے کہ اسے قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے۔

 

یہ تشویش صرف مصنوعی ذہانت کے محققین تک محدود نہیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف نام ایلون مسک نے بھی مصنوعی ذہانت کی رفتار اور مستقبل میں انسانی کنٹرول کے حوالے سے جولائی 2026 میں مسک نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق تقریباً پانچ سال میں مصنوعی ذہانت مجموعی انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے۔ انہوں نے مستقبل کے بارے میں یہ بھی کہا کہ اگلے دس سال میں انسان ممکنہ طور پر دنیا کی غالب قوت نہیں رہیں گے۔ 

 

دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اب جنگ اور قومی سلامتی کے میدان تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ 

 

 

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایران نے  مصنوعی ذہانت کے ماڈل ’’کلاڈ‘‘ کو مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری جہازوں کو تلاش کرنے اور انہیں ہدف بنانے سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

 

 رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کو مختلف دستیاب معلومات کو یکجا کرنے، بحری جہازوں سے متعلق معلومات مرتب کرنے اور ممکنہ کمزوریوں کے جائزے میں استعمال کیا گیا۔ اینتھروپک کمپنی  نے متعلقہ اکاؤنٹس بند کیے اور حکام کو معلومات فراہم کیں۔

 

 

یہ واقعہ اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی طاقت صرف عام صارفین کے ہاتھ میں موجود ایک سہولت نہیں رہی۔ یہی ٹیکنالوجی جاسوسی، نگرانی، سائبر کارروائیوں اور فوجی مقاصد میں بھی استعمال ہو سکتی ہے۔

 

پاکستان میں بھی مصنوعی ذہانت کو سرکاری اور معاشی نظام میں شامل کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

 

 

جون 2026 میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں وفاقی ریونیو بورڈ کے روایتی طریقہ کار کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تبدیل کرنے اور انسانی مداخلت کو کم کرنے کی بات کی۔ بعد میں سرکاری بجٹ دستاویزات اور دیگر رپورٹس میں بھی وفاقی ریونیو بورڈ کے نظام میں مصنوعی ذہانت، خودکار تجزیے اور ڈیجیٹل نظام کے استعمال کی تفصیلات سامنے آئیں۔

 

یہ بات اس لیے اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بحث نہیں رہی۔ اگر سرکاری ادارے، بینک، کاروبار، میڈیا اور دیگر شعبے مصنوعی ذہانت پر انحصار بڑھاتے ہیں تو اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ غلط فیصلے کی ذمہ داری کس پر ہوگی، ڈیٹا کون کنٹرول کرے گا اور انسان کی نگرانی کہاں تک برقرار رہے گی؟

 

مصنوعی ذہانت اب قومی سلامتی اور دفاعی شعبے میں بھی زیرِ استعمال ہے۔ مختلف ممالک اسے انٹیلی جنس تجزیے، منصوبہ بندی، سائبر کارروائیوں اور دیگر دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

 

 

 اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی طاقت اب صرف موبائل فون یا کمپیوٹر کی اسکرین تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا تعلق معلومات، معیشت، دفاع، سیاست اور عالمی طاقت کے توازن سے بھی جڑ رہا ہے۔

 

اسی لیے مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف ٹیکنالوجی کی دوڑ نہیں رہی۔ یہ طاقت کی دوڑ بھی ہے۔

 

اوپن اے آئی نے اپنے ماڈلز کی پیشہ ورانہ صلاحیت جانچنے کے لیے جی ڈی پی ویل نامی جائزہ تیار کیا، جس میں 44 پیشوں سے متعلق 1,320 حقیقی نوعیت کے کام شامل کیے گئے۔ ان پیشوں میں صحافی، رپورٹر، ایڈیٹر، فلم اور ویڈیو ایڈیٹر، وکیل، انجینئر، اکاؤنٹنٹ اور نرس سمیت مختلف شعبے شامل تھے۔

 

اس طرح کے جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب صرف عمومی سوالات کے جواب دینے سے آگے بڑھ کر حقیقی پیشہ ورانہ کاموں میں اپنی صلاحیت جانچنے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

 

 

یہ تبدیلی روزگار کے مستقبل کے بارے میں ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر مشین صحافی کے لیے معلومات ترتیب دے سکتی ہے، رپورٹر کے لیے مواد تیار کر سکتی ہے، ایڈیٹر کے کام میں مدد دے سکتی ہے اور دوسری پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکتی ہے تو انسان کا کردار کیا ہوگا؟

 

ممکن ہے انسان مکمل طور پر ختم نہ ہو بلکہ اس کا کام تبدیل ہو جائے۔ممکن ہے بہت سے پیشے ختم ہونے کے بجائے نئی شکل اختیار کریں۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ جن لوگوں کے پاس مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت ہوگی، وہ ان لوگوں سے زیادہ مواقع حاصل کریں جو اسے استعمال کرنا نہیں جانتے۔لیکن اگر چند بڑی کمپنیاں دنیا کی سب سے طاقتور مصنوعی ذہانت تیار اور کنٹرول کرتی رہیں تو معاشی اور سیاسی طاقت بھی چند اداروں کے ہاتھ میں زیادہ مرتکز ہو سکتی ہے۔

 

 2026 کے بین الاقوامی ماہرین کے جائزے میں بھی طاقت کے ارتکاز اور مصنوعی ذہانت کے فوائد کی غیر مساوی تقسیم کو اہم خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خلاف یا اس کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں تشویش اب صرف ٹیکنالوجی مخالف حلقوں تک محدود نہیں رہی۔ مصنوعی ذہانت کے ممکنہ معاشی، ماحولیاتی اور سماجی اثرات پر دنیا بھر میں بحث اور احتجاج بھی ہو رہے ہیں۔ 

 

 

ایک طرف دنیا مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، دوسری طرف اسی ٹیکنالوجی کے ممکنہ نقصانات کے خلاف آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔یہ تضاد شاید مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

 

آج ایک شخص اپنی تصویر کو 1980 کی دہائی کے انداز میں تبدیل کر کے خوش ہو رہا ہے۔کل یہی ٹیکنالوجی کسی کمپنی کے درجنوں ملازمین کے کام کو بدل سکتی ہے۔آج ایک طالب علم مشکل سبق سمجھنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لیتا ہے۔

 

 

کل ایک ادارہ اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے کام مکمل کر سکتا ہے جن کے لیے پہلے پوری ٹیم درکار ہوتی تھی۔آج ایک چیٹ بوٹ سوال کا جواب دیتا ہے۔کل ایک زیادہ خودکار نظام کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کئی مراحل خود مکمل کر سکتا ہے۔

 

اور یہی وہ مقام ہے جہاں جیکب کاکسن کی تشویش، ایون ہوبنگر کا 10 فیصد سے زیادہ والا ذاتی اندازہ، جیفری ہنٹن کی وارننگ اور ایلون مسک کی انسانی ذہانت سے آگے نکلنے والی مصنوعی ذہانت سے متعلق پیش گوئی ایک ہی بڑے سوال پر آ کر رکتی ہے، اگر مصنوعی ذہانت ہم سے زیادہ طاقتور، زیادہ تیز اور مستقبل میں ہم سے زیادہ ذہین ہو گئی تو کیا ہمارے پاس اسے روکنے کا مؤثر طریقہ ہوگا؟یہ سوال کسی فلم کا منظر نہیں۔

 

یہ بھی ضروری نہیں کہ مصنوعی ذہانت لازماً انسانیت کو ختم کر دے گی۔ موجودہ شواہد ایسا ثابت نہیں کرتے۔ بلکہ ماہرین کے درمیان اس بارے میں شدید اختلاف موجود ہے کہ ایسے انتہائی خطرناک منظرنامے کتنے ممکن ہیں۔

 

 

لیکن خطرے کا امکان اتنا سنجیدہ ضرور ہے کہ مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیوں کے اندر سے بھی اب رفتار کم کرنے، حفاظتی نظام مضبوط کرنے اور عالمی سطح پر تعاون کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔12 ستمبر 2026 کو اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے کم کرنے پر زور دیا۔

 

 انہوں نے آزاد ماہرین کی جانب سے حفاظتی جانچ، مشترکہ حفاظتی معیار اور حکومتوں کے درمیان تعاون جیسے اقدامات کی تجویز بھی دی۔تو شاید اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو روکا جا سکتا ہے یا نہیں؟ 

 

اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی کی رفتار سے پہلے اپنے قوانین، اداروں، اخلاقی اصولوں اور حفاظتی نظاموں کو مضبوط کر سکتا ہے؟

 

دنیا کو یہ طے کرنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کتنی طاقتور بنائی جائے، اسے کہاں استعمال کیا جائے، اس کے فیصلوں کی ذمہ داری کس پر ہو، خطرناک نظاموں کی آزادانہ جانچ کون کرے، اور اگر کوئی نظام انسانی مفادات کے خلاف کام کرے تو اسے روکنے کا اختیار کس کے پاس ہو۔

 

کیونکہ اگر ٹیکنالوجی کی دوڑ میں رفتار، منافع اور عالمی برتری حفاظتی اقدامات سے آگے نکل گئے تو آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کتنی ذہین بن گئی۔اصل سوال یہ ہوگا:جب مشین ہم سے زیادہ طاقتور ہو گئی تو اسے روکنے کا اختیار کس کے پاس تھا؟

 

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔