پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صحت کارڈ پلس پروگرام سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں پروگرام کو مزید مؤثر، منظم اور دیرپا بنانے کے لیے مختلف اصلاحات اور اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے فعال رہنے والے بنیادی مراکز صحت، رورل ہیلتھ سنٹرز اور کیٹیگری ڈی ہسپتالوں کو صحت کارڈ پلس پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔
صحت کارڈ کے تحت مہنگے علاج کی کوریج بڑھانے اور مختلف طبی سہولیات کے سروس ریٹس میں مرحلہ وار اضافے کی تجاویز بھی زیرِ بحث آئیں، جبکہ سرکاری ملازمین کے لیے بطور آپشن ٹاپ اَپ ہیلتھ پیکیج متعارف کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیرہ اسماعیل خان: کم عمر طلبہ سے مبینہ زیادتی کا الزام، مدرسے کے مہتمم کے خلاف مقدمہ درج
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صحت کارڈ پلس عوام کے لیے بڑی سہولت ہے، اسے مزید بہتر اور مؤثر انداز میں چلانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کی سہولت کے غلط استعمال کا سدباب ناگزیر ہے، اس لیے ہسپتالوں کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائے۔
اجلاس میں سوشل ہیلتھ پروٹیکشن یونٹ کی استعدادِ کار بڑھانے کی ضرورت سے بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنیادی صحت مراکز اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی ریویمپنگ کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں اور صوبائی حکومت عوام کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی پر خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ صحت اور تعلیم سے متعلق امور اور اقدامات بروقت نمٹائے جائیں، ان میں تاخیر یا رکاوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔
وزیر اعلیٰ نے مجوزہ اصلاحات اور اقدامات پر باہمی مشاورت سے تفصیلی لائحہ عمل تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس ہوگا، جس میں تمام تجاویز کو حتمی شکل دے کر مؤثر اور عملی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت قابلِ عمل اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھے گی، جبکہ عوام کو بہترین صحت کی سہولیات کی فراہمی حتمی ہدف ہے۔
