آج کل ہم ٹی وی کا ڈرامہ "آپ کی عزت" ناظرین کی خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک میاں بیوی کی عام سی کہانی نہیں بلکہ محبت، شادی، بے وفائی، خودداری اور ہمارے معاشرے کے دوہرے معیار کو سامنے لانے والی کہانی ہے۔ معروف مصنفہ عمیرہ احمد کے لکھے اس ڈرامے میں احسن خان تابش، جبکہ عروہ حسین بینا کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

یہ کہانی بینا اور تابش کے گرد گھومتی ہے، جن کی شادی کو 14 سال گزر چکے ہیں۔ کبھی دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے تھے۔ بینا نے شوہر کے اچھے اور برے، دونوں وقت دیکھے۔
یہ بھی پڑھیے: لکی مروت: باپ نے مبینہ طور پر بیٹی کو کلہاڑی کے وار سے قتل کردیا
مشکل مالی حالات میں اپنی بچت اور زیور تک شوہر پر خرچ کیے اور اپنی بہت سی خواہشوں کو پیچھے رکھا۔ لیکن وقت کے ساتھ تابش کی زندگی بدلتی ہے۔ دولت اور کامیابی آنے کے بعد اس کے رویے میں بھی تبدیلی آتی ہے اور وہ اپنی بیوی سے جذباتی طور پر دور ہونے لگتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ڈرامہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں رہتا بلکہ ہمارے معاشرے کے سامنے ایک بڑا سوال رکھ دیتا ہے: کیا عورت کی قربانیاں صرف مشکل وقت تک یاد رکھی جاتی ہیں؟
بینا وہی عورت ہے جس نے تابش کا ہاتھ اس وقت تھاما تھا جب حالات اس کے حق میں نہیں تھے۔ اس نے سسرال کو اپنا گھر سمجھا، شوہر کے رشتوں کو اپنے رشتے سمجھا اور اس گھر کو اپنا گھر بنانے میں اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ لگا دیا۔ یہاں تک کہ سسرال کی خوشیوں کے لیے اپنے جہیز تک قربان کر دیا۔

اس کے لیے یہ صرف شوہر کا گھر نہیں تھا بلکہ اس کی اپنی زندگی تھی۔لیکن جب شوہر کامیاب ہو جاتا ہے تو کہانی کا رخ بدل جاتا ہے۔ جس عورت کی قربانی کبھی محبت لگتی تھی، اسی میں اب خامیاں نظر آنے لگتی ہیں۔
اس کے وزن، عمر، لباس اور انداز پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ گویا عورت کی قدر اس وقت تک ہے جب تک وہ جوان، خوبصورت اور مرد کی پسند کے مطابق نظر آتی رہے۔ یہاں دل میں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے: “کیا عورت کی قدر صرف اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ جوان اور خوبصورت نظر آتی رہے؟”
یہاں ڈرامہ ہمارے معاشرے کی اس سوچ کو بھی چیلنج کرتا ہے جہاں لڑکی کو بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ شادی کے بعد گھر سنبھالنا ہے، رشتے نبھانے ہیں، شوہر کا ساتھ دینا ہے اور مشکل وقت میں برداشت کرنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مرد کو بھی یہ سکھایا جاتا ہے کہ بیوی کی عزت، جذبات اور قربانیوں کی قدر کرنا اس کی ذمہ داری ہے؟

اکثر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اگر شوہر بیوی کی مالی ضروریات پوری کر رہا ہے تو اس نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ لیکن عورت کو صرف ایک اچھا گھر، مہنگے کپڑے، زیور یا سہولتیں نہیں چاہئیں۔ اسے محبت، توجہ، احترام اور یہ احساس بھی چاہیے کہ وہ آج بھی اپنے شوہر کی زندگی میں اہم ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی عورت کو سب کچھ مل کر بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے وہ شخص نہیں مل رہا جس کے لیے اس نے سب کچھ چھوڑا تھا۔
اسی لیے جب بینا اپنے شوہر سے اپنی عزت اور قدر کا سوال کرتی ہے تو اس کے پیچھے صرف ایک دن کا غصہ نہیں بلکہ 14 سال کی ایک پوری زندگی کھڑی نظر آتی ہے۔ اس کی بات میں صرف شکایت نہیں بلکہ ان برسوں کا دکھ بھی ہے۔ جیسے وہ کہہ رہی ہو: “تم نے میری عزت نہیں کی، تم نے میری قدر نہیں کی۔”

ڈرامے میں مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب تابش کی زندگی میں ایک دوسری عورت آتی ہے۔ وہ بینا کو بتائے بغیر دوسری شادی کی تیاری کرتا ہے۔ جس عورت نے برسوں اس کا ساتھ دیا، وہ اچانک خود کو اپنے ہی گھر میں غیر ضروری محسوس کرنے لگتی ہے۔
اور پھر آتا ہے وہ موڑ جس نے "آپ کی عزت" کو سوشل میڈیا پر ایک بڑی بحث بنا دیا۔
حالیہ اقساط، خاص طور پر قسط 15 اور 16 میں بینا اور تابش کا تھانے میں ہونے والا طویل مکالمہ ناظرین میں بہت زیادہ زیرِ بحث آیا۔ اس منظر میں دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔
تابش اپنی بیوی سے اس کے فیصلے کا جواب مانگتا ہے، لیکن بینا خاموش رہنے یا صرف مظلوم بننے کے بجائے اپنے شوہر کے سامنے اس کے اپنے رویوں کا حساب رکھ دیتی ہے۔ یہ منظر خاص طور پر اس لیے مقبول ہوا کہ بینا نے وہ سوال اٹھائے جو اکثر عورتیں دل میں رکھ کر خاموش ہو جاتی ہیں۔

بینا کا سوال صرف تابش سے نہیں بلکہ پورے معاشرے سے ہے: اگر ایک عورت غلطی کرے تو اسے بے وفا اور بے حیا کہا جاتا ہے، لیکن مرد وہی کام کرے تو اس کے لیے جواز کیوں تلاش کیا جاتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈرامہ ہمارے معاشرے کے سب سے بڑے دوہرے معیار کو سامنے لاتا ہے۔ "میں بے وفائی کروں تو بے وفا، اور تم بے وفائی کرو تو دیندار؟" یہ سوال صرف تابش کے لیے نہیں بلکہ اس سوچ کے لیے ہے جو مرد اور عورت کے لیے الگ الگ اصول بناتی ہے۔
اگر عورت شوہر کے علاوہ کسی مرد سے تعلق رکھے تو فوراً اس کے کردار پر سوال اٹھتا ہے۔ لیکن مرد ایسا کرے تو کبھی اسے "مرد کی فطرت" کہا جاتا ہے، کبھی دوسری شادی کا حق یاد آتا ہے اور کبھی دین کا حوالہ دے دیا جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسلام میں ایک سے زیادہ شادی کی اجازت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اسے خفیہ تعلق، بے وفائی یا ہر خواہش کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ نکاح صرف خواہش نہیں بلکہ انصاف، حقوق اور ذمہ داری کا نام بھی ہے۔

اسی لیے جب دین کو اپنی خواہش کے حق میں دلیل بنایا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ عبادت، کردار، انصاف اور دوسروں کے حقوق کی بات آئے تو وہی اصول کہاں چلے جاتے ہیں؟ اگر مرد کی غلطی کے لیے جواز تلاش کیا جاتا ہے تو عورت کے لیے صرف الزام کیوں؟ اصول دونوں کے لیے یکساں ہونے چاہییں۔
تاہم ڈرامے کے پیغام کو صرف مرد اور عورت کی جنگ تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ بے وفائی اور ظلم غلط ہیں، چاہے مرد کرے یا عورت، اور دین کو اپنی خواہش کے مطابق استعمال کرنا بھی درست نہیں۔

اصل سوال یہی ہے کہ عورت سے وفاداری، قربانی اور برداشت کی توقع کی جاتی ہے تو مرد سے بھی وفاداری، احترام اور ذمہ داری کی توقع کیوں نہ کی جائے؟
"آپ کی عزت" کی مقبولیت شاید اسی لیے ہے کہ یہ صرف غلطی کرنے والے کا سوال نہیں اٹھاتا بلکہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ ایک رشتے میں اس غلطی سے پہلے کیا کچھ ٹوٹ چکا تھا۔ عورت کو صرف بڑا گھر اور سہولتیں نہیں بلکہ اپنی جگہ، عزت اور قدر بھی چاہیے۔
شاید اس ڈرامے کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ جس انسان نے مشکل وقت میں آپ کا ہاتھ تھاما ہو، کامیابی کے بعد اس ہاتھ کی قدر کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے، کیونکہ رشتے صرف محبت سے نہیں بلکہ عزت اور قدر سے بھی چلتے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
