خیبر پختونخوا میں جنوری تا اگست 2026 وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مختلف ذرائع سے 3 ہزار 551 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 2 ہزار 610 شکایات متعلقہ صوبائی محکموں کو کارروائی کے لیے ارسال کی گئیں۔

 

بریفنگ کے مطابق صوبائی محکموں کو ارسال کی گئی 2 ہزار 610 شکایات میں سے 988 پر ریلیف دیا گیا، 11 پر جزوی ریلیف فراہم کیا گیا جبکہ 781 شکایات پر کارروائی جاری ہے۔

 

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں 499 شکایات موقع پر حل کی گئیں یا شہریوں کو ضروری رہنمائی فراہم کی گئی، جبکہ 498 شکایات دائرہ اختیار سے باہر ہونے یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث قابلِ عمل نہیں تھیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: چارسدہ: سوتن نے مبینہ طور پر دوسری کو قتل کردیا، بعد ازاں خود بھی کنویں میں چھلانگ لگا دی

 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 774 شکایات میرٹ پر پورا نہ اترنے کے باعث قابلِ کارروائی نہیں تھیں۔ زمینی تنازعات اور تعلیم سے متعلق شکایات بڑی کیٹیگریز میں شامل ہیں۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ اجلاسوں اور پریزنٹیشنز سے نہیں بلکہ عوام کی گواہی اور اطمینان سے ہوگا۔ شکایات کے مؤثر ازالے اور حکمرانی میں عوامی شمولیت عمران خان کا وژن ہے اور صوبائی حکومت اس وژن کو عملی بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کا مستقبل عوامی اطمینان سے وابستہ ہے۔ کمپلینٹ سیل کے ذریعے شہریوں کو ملنے والے ریلیف سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ مزید لوگ اس سہولت سے مستفید ہوسکیں۔

 

وزیراعلیٰ نے پشاور نرسنگ کالج واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو پنجاب پولیس نہیں بننے دیں گے۔ خیبر پختونخوا کے طلبہ ہمارے بچے ہیں، ان کے حقوق کے تحفظ اور خدمت کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

 

چیف سیکرٹری نے بریفنگ میں بتایا کہ خیبر پختونخوا میں شکایات کے ازالے کے دستیاب نظام سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ چیف سیکرٹری اور دیگر شکایات سیلز کو وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کیا جائے گا۔

 

بریفنگ کے مطابق شکایات کے رجحانات اور کیٹیگریز کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کیا جائے گا تاکہ حکومتی نظام میں ضروری اصلاحات لائی جاسکیں۔

 

رپورٹ کے مطابق 3 ہزار 551 شکایات میں سے 1 ہزار 90 دستی طور پر، 1 ہزار 47 واٹس ایپ، 687 ای میل، 343 فون کالز، 273 فیس بک اور 111 ایکس کے ذریعے موصول ہوئیں۔