میں بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے سے وابستہ ہوں۔ چند روز قبل اسی سلسلے میں ایک فیلڈ وزٹ کے دوران مجھے ایسے بچوں کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی جو اسکول نہیں جا رہے تھے۔ اس دورے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ بچے اسکول کیوں نہیں جا رہے، انہوں نے تعلیم کیوں چھوڑ دی اور انہیں دوبارہ اسکول بھیجنے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں۔
اسی مقصد کے تحت مجھے گھر گھر جا کر ماؤں سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ان ملاقاتوں کے دوران مجھے ان کی بیٹیوں کی تعلیم کے حوالے سے درپیش مختلف مشکلات کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا، تاہم ایک وجہ تقریباً ہر گھر میں مشترک تھی۔

جب میں نے ماؤں سے ان کی بیٹیوں کے اسکول چھوڑنے کی وجہ پوچھی تو تقریباً ہر ماں کا جواب ایک جیسا تھا کہ ان کے والد نے بچیوں کو مزید اسکول جانے سے منع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: حیات آباد نرسنگ کالج واقعہ، انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
جب میں نے اس فیصلے کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو ان کے جوابات نے مجھے ایک اہم سماجی مسئلے پر سوچنے پر مجبور کر دیا۔
پانچویں جماعت کے بعد تعلیم کیوں رک گئی؟
کئی ماؤں نے بتایا کہ ان کی بچیاں پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کر چکی ہیں اور اب بڑی ہو رہی ہیں۔ ان کا اسکول گھر سے کافی فاصلے پر ہے اور انہیں روزانہ پیدل اسکول جانا پڑتا ہے۔ خاندان کے مالی وسائل محدود ہیں، اس لیے والدین کے لیے بچیوں کے لیے مستقل ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا ممکن نہیں۔

ماؤں کے مطابق، اگر ٹرانسپورٹ کا خرچ برداشت نہیں کیا جا سکتا اور بچیاں روزانہ پیدل اسکول جائیں گی تو والدین کو ان کی حفاظت کی فکر رہتی ہے۔ راستے میں ہراسانی، کسی ناخوشگوار واقعے یا دیگر خطرات کا خدشہ انہیں پریشان کرتا ہے۔ بچیوں کے بڑی ہونے کے ساتھ یہ تشویش مزید بڑھ جاتی ہے اور بعض والدین آخرکار ان کی تعلیم روکنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

ان ماؤں کی بات سن کر ایک طرف ان کی پریشانی اور خوف کو سمجھنا مشکل نہیں تھا، لیکن دوسری طرف میرے ذہن میں ایک سوال بھی پیدا ہوا: کیا معاشرے کے مسائل کا حل یہ ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کی تعلیم ہی روک دیں؟
والدین کا خوف بھی ایک حقیقت ہے
یہ بات درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے مسائل موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض علاقوں میں سڑکیں اور راستے محفوظ نہیں ہوتے، مناسب سفری سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں اور بچیوں کو راستے میں ہراسانی یا کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک والد اپنی بیٹی کو کسی ممکنہ خطرے سے بچانے کے لیے اس کی تعلیم روکنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے پیچھے اپنی بیٹی کی حفاظت کی فکر اور محبت ہوتی ہے۔ اس لیے والدین کے خدشات کو محض قدامت پسند سوچ قرار دینا بھی مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ان خدشات کو سمجھتے ہوئے ایسا ماحول کیسے پیدا کیا جائے جہاں والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے لیے بھیجتے ہوئے خود کو مطمئن اور محفوظ محسوس کریں۔
کیا تعلیم روک دینا ہی حل ہے؟
اگر اسکول دور ہے تو مسئلہ فاصلے کا ہے، بچی کی تعلیم کا نہیں۔ اگر والدین ٹرانسپورٹ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تو اس کے متبادل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر راستہ غیر محفوظ ہے تو اسے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔

اسکول، مقامی ادارے، کمیونٹی اور والدین مل کر ایسے انتظامات کر سکتے ہیں جن سے بچیوں کے لیے محفوظ سفری سہولت ممکن ہو۔ والدین باہمی تعاون سے بچیوں کو گروپ کی صورت میں اسکول بھیج سکتے ہیں یا کسی ذمہ دار بالغ فرد کے ساتھ ان کے سفر کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔یعنی کسی رکاوٹ کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ ختم کرنے کے بجائے اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں
صرف اس وجہ سے کہ ایک بچی بڑی ہو رہی ہے، اس کی تعلیم روک دینا اس کے مستقبل کے مواقع محدود کر سکتا ہے۔ پانچویں جماعت کے بعد کا تعلیمی مرحلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہی وہ عمر ہے جب بچیوں کی سوچ، شخصیت، خود اعتمادی اور مستقبل کے بارے میں شعور مزید تشکیل پاتا ہے۔

تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔ یہ ایک لڑکی کو اپنے حقوق سمجھنے، درست اور غلط میں فرق کرنے، اپنے فیصلے خود کرنے اور زندگی کے مختلف حالات کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔
ایک تعلیم یافتہ لڑکی اپنے لیے بہتر مستقبل کے امکانات پیدا کرنے کے ساتھ اپنے خاندان اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔
معاشرے کو محفوظ بنانا ہوگا
اگر معاشرے میں کچھ جگہیں بچیوں کے لیے محفوظ نہیں تو اس کا حل انہیں گھروں تک محدود کرنا نہیں بلکہ ان حالات کو بہتر بنانا ہے۔

اس ذمہ داری کا بوجھ صرف والدین پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اسکولوں، مقامی اداروں، کمیونٹی اور متعلقہ حکام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں، خصوصاً لڑکوں کی تربیت میں یہ بات شامل کرنا ہوگی کہ لڑکیوں کا احترام کرنا اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا پوری معاشرتی ذمہ داری ہے۔
بچیوں کی تعلیم کے لیے صرف اسکول کا موجود ہونا کافی نہیں۔ اسکول تک محفوظ رسائی، مناسب سفری سہولت اور ایسا ماحول بھی ضروری ہے جہاں والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے لیے بھیجتے ہوئے خود کو مطمئن محسوس کریں۔
والدین کے خدشات کو سمجھ کر عملی حل تلاش کرنا چاہیے
بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے والدین کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجیں۔ اگر ان کے سامنے حقیقی مسائل موجود ہیں تو ان مسائل کا عملی حل بھی ضروری ہے۔

اگر ٹرانسپورٹ مسئلہ ہے تو محفوظ اور کم خرچ سفری سہولت کے امکانات پیدا کیے جائیں۔ اگر اسکول دور ہے تو قریبی علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دی جائے۔ اگر راستے غیر محفوظ ہیں تو ان کی بہتری اور حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
والدین کی مالی مشکلات، بچیوں کی حفاظت اور تعلیمی سہولیات کی کمی کو الگ الگ مسائل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب تک ان رکاوٹوں کو مجموعی طور پر حل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی، صرف اسکول میں داخلے کے اعداد و شمار بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔
بیٹیوں کے مستقبل کو خوف کے حوالے نہیں کرنا چاہیے
فیلڈ وزٹ کے دوران جن ماؤں سے میری بات ہوئی، ان کے چہروں پر اپنی بیٹیوں کے لیے محبت بھی تھی اور خوف بھی۔ وہ اپنی بچیوں کو پڑھانا چاہتی تھیں، لیکن فاصلے، سفری اخراجات، محدود وسائل اور معاشرتی خدشات ان کے راستے میں رکاوٹ بن رہے تھے۔

اس تجربے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر ایک ماں اپنی بیٹی کو پڑھانا چاہتی ہے لیکن اسے راستے کی حفاظت کا خوف ہے تو ہمیں صرف اس ماں کو تعلیم کی اہمیت سمجھانے کے بجائے اس خوف کی وجوہات کو بھی دور کرنا ہوگا۔
ہمیں والدین کے خدشات کو سمجھنا ہوگا، لیکن ان خدشات کی قیمت بچیوں کے مستقبل سے نہیں وصول کی جانی چاہیے۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ والدین کو اپنی بیٹیوں کی حفاظت اور تعلیم میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔
ہم اپنی بیٹیوں کو محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں اور تعلیم بھی دے سکتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ معاشرے کے خوف کے سامنے ان کے خواب قربان کرنے کے بجائے ان مسائل کو حل کیا جائے جو ان کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
