پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ حیات آباد میں 7 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے کی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، جس میں ملوث طلبہ کے خلاف کالج کے قواعد کے مطابق کارروائی، پرنسپل کی تبدیلی اور ہاسٹل انتظامیہ میں ردوبدل کی سفارش کی گئی ہے۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کرلی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کی جائز شکایات کے فوری اور منصفانہ ازالے کے لیے مؤثر شکایات کے ازالے کا نظام قائم کیا جائے جبکہ انتظامیہ، فیکلٹی اور طلبہ کے درمیان مؤثر رابطے کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا حکومت کی بزرگ شہریوں کے لیے بی آر ٹی میں مفت سفر کی اصولی منظوری، احساس بزرگ کارڈ کیسے ملے گا؟
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ محمد سراج اور عباس خان کے کردار کا تعین کرکے ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ کسی بھی بیرونی فرد یا گروہ کو ادارے کے تعلیمی ماحول میں مداخلت کی اجازت نہ دی جائے۔
رپورٹ کے مطابق طلبہ کے احتجاج کے پس منظر میں ہاسٹل میں رہائش، جرمانوں، چھٹیوں، امتحانات، کلینیکل ٹریننگ، میس کی سہولیات اور بعض فیکلٹی ارکان کے مبینہ رویے سے متعلق شکایات شامل تھیں۔
کمیٹی نے طلبہ، پرنسپل اور فیکلٹی کے بیانات قلمبند کرنے کے ساتھ کالج کے احاطے، واقعے سے متعلق دستیاب شواہد اور دیگر معلومات کا بھی جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب بعض طلبہ نے ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا۔ بعد ازاں احتجاج کے دوران بعض طلبہ نے کالج کے گیٹ پر تالا لگایا، انتظامیہ اور فیکلٹی کو ہراساں کیا اور دیگر طلبہ کو احتجاج میں شامل کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا۔
انکوائری کمیٹی نے قرار دیا کہ جہاں طلبہ کی جانب سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی سامنے آئی، وہیں کالج انتظامیہ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق طلبہ کی شکایات کو بروقت اور مؤثر انداز میں حل نہیں کیا گیا۔
کمیٹی نے مؤثر رابطے، مذاکرات اور شکایات کے ازالے کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی نظام قائم کرنے پر زور دیا ہے۔رپورٹ میں پولیس کے کردار میں کسی ممکنہ زیادتی یا کوتاہی کی صورت میں آزادانہ انکوائری کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ طلبہ کی جائز شکایات کا بروقت اور غیر جانب دارانہ ازالہ یقینی بنایا جائے گا، تاہم تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور مقررہ ادارہ جاتی طریقہ کار پر عمل درآمد بھی لازمی ہوگا۔
انکوائری کمیٹی کے مطابق حکومت کا مقصد تعلیمی اداروں میں پُرامن، محفوظ، باوقار اور مثبت ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
