پاکستان ریڈ بال کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ کے معاملات پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ اور سابق ساتھی عاقب جاوید سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔

 

جیسن گلیسپی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمے اب بھی ان کے ہزاروں ڈالر واجب الادا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور خاموش رہ کر ہر فیصلہ قبول کرنا ان کی فطرت نہیں۔

 

سابق ریڈ بال کوچ نے عاقب جاوید پر الزام عائد کیا کہ ان کی تقرری کے بعد پاکستان کرکٹ کے معاملات میں صورتحال تبدیل ہوگئی اور انہوں نے متعدد معاملات میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا لیا۔ گلیسپی کے مطابق سلیکشن کے معاملات میں بھی ان کا کردار محدود کر دیا گیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیے: پی ایم ڈی سی کا افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی کا حکم، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے 22 طلبہ کو فارغ کردیا

 

جیسن گلیسپی نے مزید دعویٰ کیا کہ عاقب جاوید کی جانب سے ان کے خلاف منفی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ قانونی کارروائی کا حق استعمال کر سکتے ہیں۔

 

گلیسپی کے مطابق پاکستان کرکٹ ایک غیر مستحکم اور نقصان دہ چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔ انہوں نے عاقب جاوید کو موجودہ مسائل کی بڑی وجوہات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی حمایت نے انہیں مزید مضبوط کیا۔

 

سابق کوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوچنگ ان کے کیریئر کی بڑی کامیابی بن سکتی تھی۔ وہ ٹیسٹ ٹیم کو بہتر بنانے، فاسٹ بولنگ کو دوبارہ مضبوط کرنے اور ایسی پچز تیار کرنے کے خواہاں تھے جو تیز گیند بازوں اور باؤنس کو سپورٹ کریں۔

 

جیسن گلیسپی نے اپنے تجربے کو ذہنی طور پر مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال دیکھ کر انہیں افسوس ہوتا ہے۔

 

انہوں نے موجودہ کوچ مائیک ہیسن کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر اعتماد رکھیں اور کسی کی ہاں میں ہاں ملانے کے بجائے آزادانہ طور پر کام کریں۔