ڈیرہ اسماعیل خان تھانہ گومل یونیورسٹی پولیس نے مدرسہ سید حاجرہ للبنات، وانڈہ بلوچانوالہ کے مہتمم مولوی محمد عامر کے خلاف کم عمر طلبہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا۔

 

تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق محمد مقبول نے پولیس کو بتایا کہ ان کے کم عمر بیٹے اور بھتیجوں، جن کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان ہیں، نے انہیں بتایا کہ مدرسے کے مہتمم مختلف اوقات میں انہیں اپنے دفتر میں بلاتے اور مبینہ طور پر نازیبا حرکات کرتے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم بچوں کو کسی کو بتانے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں اقلیتی برادری کے لیے مختص ہزاروں سرکاری آسامیاں خالی، اجلاس میں کیا اہم باتیں سامنے آئیں؟

 

درخواست گزار کے مطابق بچے خوف کے باعث پہلے اس بارے میں کسی کو نہیں بتا سکے، تاہم بعد میں معاملہ سامنے آنے پر انہوں نے پولیس سے کارروائی کی درخواست کی۔

 

پولیس نے درخواست پر مولوی محمد عامر کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 376 اور 506 جبکہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ (CPWA) کی دفعہ 53 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

 

پولیس حکام کے مطابق متاثرہ بچوں کو طبی معائنے کے لیے سول ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ مقدمے کی تفتیش انویسٹی گیشن اسٹاف کے حوالے کردی گئی ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔