انور شاہ، سابقہ قبائلی ضلع کرم سے روزنامہ نئی بات اور نیو نیوز کے رپورٹر تھے، لیکن سوشل میڈیا پر گمنام اکاؤنٹس سے ملنے والی روزانہ کی دھمکیوں نے ان کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ اس کے بعد انور شاہ نے 2022 میں ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لی، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔

 

 

انور شاہ کا کہنا ہے کہ وہ شوق سے پاکستان میں پیشہ ورانہ صحافت کر رہے تھے، لیکن ہر روز کوئی نہ کوئی مسئلہ ان کے گھر کی دہلیز تک پہنچ جاتا تھا، جس کی وجہ سے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے گھر والوں کو بھی مشکلات کا سامنا تھا۔

 

سوشل میڈیا پر دھمکیاں، صحافیوں کے لیے نیا خطرہ

 

قبائلی اضلاع میں صحافیوں کو نہ صرف زمینی سطح پر سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر دھمکیوں، کردار کشی، ٹرولنگ اور آن لائن ہراسانی کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے صحافیوں کو کام سے روکنے سمیت ملک چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں اور میڈیا واچ اداروں کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اب صحافیوں کو دباؤ میں لانے اور تنقیدی رپورٹنگ روکنے کا ایک نیا ذریعہ بن چکے ہیں۔

 

 

انور شاہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں دہشت گردوں اور بااثر لوگوں کی جانب سے کئی بار جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جبکہ ایک بار ان کے گھر پر رات کی تاریکی میں حملہ بھی ہوا تھا، تاہم اس حملے میں گھر والے جانی نقصان سے بچ گئے تھے۔

 

آن لائن ہراسانی اور براہِ راست دھمکیوں کا سامنا

 

پاکستان پریس فاؤنڈیشن (PPF) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو درپیش خطرات صرف جسمانی حملوں تک محدود نہیں رہے بلکہ آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں کے واقعات بھی مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2024 کے دوران صحافیوں کے خلاف آن لائن ہراسانی کے 15 جبکہ براہ راست دھمکیوں کے 5 واقعات دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے گئے۔

 

 

میڈیا سیفٹی کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک (Freedom Network) نے پچھلے سال اپنی تھریٹ اینالیسز رپورٹ میں نشاندہی کی کہ ڈیجیٹل دھمکیاں، ٹرولنگ، نفرت انگیز مہمات اور سوشل میڈیا پر کردار کشی صحافیوں کو تنقیدی رپورٹنگ سے روکنے کے لیے استعمال ہونے والے نئے ہتھکنڈے بن چکے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: پانی کی بوتلیں اور ہاتھ کے پنکھے اٹھائے کرک کے سرکاری سکول کے طلبہ بنیادی سہولیات کے منتظر

 

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے آزاد رپورٹر نبی جان اورکزئی کو بھی آن لائن ٹرولنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2020 میں ایک بین الاقوامی ادارے کو کالعدم تنظیم کے حوالے سے تجزیہ دیا تھا، جس پر انہیں سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیا اور بعد میں ان کے گھر والوں کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔

 

 

نبی جان کا کہنا ہے کہ انہوں نے علاقے کی سیکیورٹی صورتِ حال کے حوالے سے گفتگو کی تھی، جس کے نتیجے میں انہیں جان سے مارنے اور صحافت چھوڑنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے انہوں نے پریس کلب اور صحافیوں کو اپنی جان کی حفاظت سے متعلق آگاہ کیا، جس کے بعد ایک سال تک وہ احتیاط کے ساتھ کام کرتے رہے۔

 

نبی جان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں اگر پولیس یا سائبر کرائم میں رپورٹ درج کرتے تو اس وقت مجرم کو کوئی سزا ملتی اور مسئلہ حل ہو جاتا، لیکن قبائلی روایات اور دشمنیوں کی وجہ سے بعد میں اپنی بقا کے لیے بھی یہ مسئلہ ابھرتا۔ اس لیے اس مسئلے کو اس وقت اپنے مشران اور مقامی جرگے کے ذریعے افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا گیا۔

 

رپورٹنگ کے بعد ٹرولنگ، صحافی کیسے نشانہ بنتے ہیں؟

 

قبائلی اضلاع کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹ کے کوآرڈینیٹر اور صحافی محمد جمیل کا کہنا ہے کہ جب قبائلی صحافی بدامنی، سرکاری کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں یا مقامی طاقتور حلقوں سے متعلق خبریں شائع کرتے ہیں تو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہمات شروع کی جاتی ہیں۔ 

 

 

ان کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں بعض سیاسی اور بااثر حلقے سوشل میڈیا ٹیموں کے ذریعے صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کے خلاف ٹرولنگ مہم چلائی جاتی ہے۔

 

رسول داوڑ کا تعلق قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے ہے اور وہ پشاور میں جیو نیوز کے سپیشل رپورٹر ہیں، جو اپنے ادارے کے لیے جرائم اور دہشت گردی کے واقعات رپورٹ کرتے ہیں۔ رسول داوڑ کو بھی 2023 میں سوشل میڈیا پر صوبائی وزیر کی جانب سے دھمکی ملی، جس کے خلاف انہوں نے ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا تھا۔

 

 

رسول داوڑ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ان کے حلقے سے منتخب صوبائی اسمبلی کے رکن اقبال وزیر نے ایک سرکاری دفتر میں عملے کے ساتھ بدتمیزی کی تھی، جسے انہوں نے رپورٹ کیا۔ اس پر انہیں صوبائی وزیر اور ان کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا اور فون کالز کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

 

 

 اس کے بعد انہوں نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں اقبال وزیر کے خلاف شکایت درج کرائی اور صحافتی تنظیموں کو بھی اپنی حفاظت سے متعلق آگاہ کیا۔ رسول داوڑ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد دھمکیوں کا سلسلہ تو بند ہوا، لیکن مجرم کو کوئی سزا نہیں ملی۔

 

آن لائن ہراسانی کے بڑھتے کیسز، اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

 

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن ملک بھر میں لوگوں کو سائبر کرائم کے حوالے سے مفت معاونت اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ادارے کے پاس آن لائن ہراسانی کا شکار افراد شکایت درج کراتے ہیں اور انہیں مفت مدد فراہم کی جاتی ہے۔

 

 

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی رواں سال کی رپورٹ کے مطابق پچھلے 9 سال میں 23 ہزار سے زیادہ لوگوں نے آن لائن ہراسانی کی شکایت درج کرائی، جبکہ پچھلے سال 3 ہزار 12 کیسز اور 884 پرانے کیسز کی فالو اَپ رجسٹرڈ کرائی گئی۔

 

رپورٹ کے مطابق ان میں سب سے زیادہ پنجاب سے 295 کیسز، سندھ کے 340، خیبرپختونخوا کے 137، اسلام آباد کے 165، بلوچستان کے 93، کشمیر سے 19، گلگت بلتستان سے 8 کیسز شامل ہیں، جبکہ 83 افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔

 

 

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2026 میں اب تک 88 صحافیوں نے آن لائن ہراسانی کے کیسز درج کرائے ہیں، جن میں 47 خواتین اور 41 مرد صحافی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 6 میڈیا پریکٹیشنرز، جن میں 3 خواتین اور 3 مرد شامل ہیں، سمیت 46 سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی شکایت درج کرائی ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق ان میں ابھی تک 6 کیسز حل نہیں ہوئے، 27 کیسز بغیر ثبوت یا دیگر وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیے گئے، جبکہ باقی 101 کیسز حل کیے گئے ہیں۔

 

قبائلی صحافت، پرانے خطرات سے ڈیجیٹل چیلنجز تک

 

صحافتی آزادی پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کو دھمکانے، ڈرانے اور خود سنسرشپ پر مجبور کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں براہ راست دھمکیاں اور آن لائن دباؤ بھی شامل ہیں۔

 

 

قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو درپیش خطرات کوئی نئی بات نہیں۔ جرنلزم پاکستان کی 2012 میں شائع ہونے والی "رپورٹنگ فرام دا فرنٹ لائنز" (Reporting from the Frontlines) نامی تحقیق کے مطابق فاٹا کے 50 فیصد سے زائد صحافیوں نے مختلف نوعیت کی دھمکیوں کی شکایت کی تھی، جبکہ 33 فیصد صحافیوں کو دورانِ ڈیوٹی حملوں کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ تمام جواب دہندگان نے شدت پسند گروہوں کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔

 

 

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 سے اپریل 2026 تک ملک بھر میں صحافیوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں، قانونی کارروائیوں اور دیگر پابندیوں کے کم از کم 233 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق آن لائن ہراسانی، سائبر دھمکیاں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے پھیلائی جانے والی غلط معلومات بھی صحافیوں کے لیے نئے خطرات کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

 

ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹ کے دستاویزات کے مطابق قبائلی اضلاع میں 10 پریس کلب اور 3،400 سے زیادہ صحافی کام کر رہے ہیں، جس میں جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور ضلع خیبر، لنڈی کوتل سے ایک ایک خاتون صحافی شامل ہے۔

 

 

 جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی رضیہ محسود، جو مختلف اداروں کے لیے فری لانس کام کر رہی ہیں، کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم کی کمی اور سخت روایات کی وجہ سے خاتون صحافی نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ دوسری جانب ان خاتون صحافیوں کو سوشل میڈیا پر آزادانہ طریقے سے ٹرول کرنے اور ڈرانے دھمکانے کی وجہ سے خواتین صحافت کے شعبے میں کام نہیں کر سکتیں۔

 

 

قبائلی اضلاع کے صحافیوں کے مطابق انہیں ہراسانی کے واقعات روزانہ کسی نہ کسی طریقے سے پیش آتے ہیں، جنہیں رپورٹ نہیں کیا جاتا۔

 

 ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ساجد کوکی خیل کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اکثر مسائل جرگوں کے ذریعے حل ہونا رواج بن گیا ہے اور قانونی یا عدالتوں کے چکروں سے لوگ ناواقف ہیں۔ اس لیے صحافیوں کو بھی دھمکیوں یا دیگر مسائل کو جرگوں کے ذریعے ہی حل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے قومی سطح پر ان کیسز کا ریکارڈ نہیں رہتا۔

 

 

سینئر صحافی اظہار اللہ انڈیپنڈنٹ اردو کے لیے خیبرپختونخوا سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر دھمکیوں کا مقصد اکثر صحافیوں کو خوفزدہ کرنا اور حساس موضوعات پر رپورٹنگ سے باز رکھنا ہوتا ہے۔ صحافیوں کو سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پیغامات، دھمکیوں اور ذاتی حملوں کا سامنا بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی، دونوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

 

قانونی تحفظ اور صحافتی تنظیموں کے مطالبات

 

ماہر قانون ایڈووکیٹ شوانہ شاہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے اگرچہ بہت سے فائدے ہیں، لیکن اس کی وجہ سے بہت سے مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں، جن میں سب سے بڑا مسئلہ غلط معلومات اور آسانی کے ساتھ کسی کی شخصی زندگی تک رسائی حاصل کرکے اسے ہراساں کرنا ہے۔ 

 

 

انہوں نے کہا کہ آج کل یہ ایک بڑا سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے صرف قانونی کارروائی ہی نہیں بلکہ لوگوں میں شعور بیداری کی بھی بڑی ضرورت ہے۔

 

پشاور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ایڈووکیٹ علی گوہر کا کہنا ہے کہ آن لائن ہراسانی کے لیے پاکستان میں قوانین موجود ہیں۔

 

 

 اگر کوئی کسی کی اجازت کے بغیر یا کسی کو سوشل میڈیا پر ہراساں کر رہا ہو تو اس کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ میں اس قسم کے جرم کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن کے تحت ملزم کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

 

خیبر یونین آف جرنلسٹ کے صدر کاشف الدین کا کہنا ہے کہ صحافتی تنظیموں نے صحافیوں کو سوشل میڈیا پر دھمکیوں اور ان کی ہراسانی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج بھی ریکارڈ کرائے ہیں، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آن لائن دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات کی مؤثر تحقیقات کی جائیں، صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل سیفٹی میکانزم متعارف کرائے جائیں اور قبائلی اضلاع سمیت ملک بھر میں آزادی صحافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

 

 

جرمنی میں مقیم صحافی انور شاہ اورکزئی اب بھی اپنے علاقے کے مسائل کو میڈیا کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنے معاش کے لیے جرمنی کی ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ضلع کرم کے مسائل پر پاکستانی میڈیا کے لیے بلاگز اور اپنے نام پر بنائے گئے سوشل میڈیا نیوز چینلز پر وی لاگ سمیت خبروں کی تشہیر کر رہے ہیں۔

 

 انور شاہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے صحافت کی ڈگری بھی حاصل کی ہے اور علاقے کے مسائل کو دیکھ کر دل نہیں چاہتا کہ وہ اس پر خاموش رہیں، اس لیے ملک سے دور بھی کسی حد تک صحافت سے وابستہ ہیں۔

 

انور شاہ کا کہنا ہے کہ اب بھی بہت سی خبروں کی وجہ سے دہشت گرد اور سوشل میڈیا پر گمنام اکاؤنٹس سے لوگ غلط کمنٹس اور دھمکیاں دیتے ہیں، جبکہ پاکستان میں ان کے اہل خانہ کو بھی لوگ شکایت کرتے ہیں۔ لیکن اب وہ ان دھمکیوں اور غلط کمنٹس کے عادی ہو گئے ہیں۔