کرک ویلیج کونسل ڈگر نری کے گورنمنٹ مڈل سکول محمود خیل میں پانی اور بجلی کی سہولت نہ ہونے کے باعث طلبہ و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سکول میں پینے کے پانی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بچے روزانہ گھروں سے پانی کی بوتلیں ساتھ لانے پر مجبور ہیں، جبکہ بجلی کی سہولت نہ ہونے کے باعث گرمی میں کلاس رومز کے اندر طلبہ و طالبات ہاتھ کے پنکھے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا کے مقامی کاروباروں کے لیے سیلز ٹیکس کے حوالے سے بڑا ریلیف
سکول میں بنیادی سہولیات کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کلاس رومز میں بیٹھے بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں اور بستوں کے ساتھ پانی کی بوتلیں اور ہاتھ کے پنکھے بھی نظر آتے ہیں۔

طلبہ و طالبات کا کہنا ہے کہ سکول میں پانی دستیاب نہ ہونے کے باعث انہیں روزانہ گھر سے پانی لانا پڑتا ہے، جبکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گرمی کے دوران کلاس رومز میں بیٹھ کر پڑھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
سکول کے ہیڈ ماسٹر کے مطابق پانی اور بجلی کی سہولت نہ ہونے سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے سکول میں سولر سسٹم کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بجلی کا متبادل انتظام ممکن بنایا جا سکے اور بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
مقامی افراد کے مطابق سکول میں پانی اور بجلی کے مسائل سے متعلق کئی مرتبہ منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کو آگاہ کیا جا چکا ہے، تاہم تاحال مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔
والدین اور علاقہ مکینوں نے صوبائی حکومت، منتخب نمائندوں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ مڈل سکول محمود خیل میں بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے سولر سسٹم فراہم کیا جائے جبکہ پینے کے پانی کے لیے ہینڈ پمپ یا کوئی مناسب ذریعہ نصب کیا جائے، تاکہ طلبہ و طالبات کو بنیادی سہولیات میسر ہوں اور ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
