خیبرپختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا کے اہل مقامی سروس پرووائیڈرز کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ کے پی آر اے کے مطابق استثنیٰ کا نوٹیفکیشن یکم اگست 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور 30 جون 2027 تک مؤثر رہے گا۔
کے پی آر اے کے مطابق سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کے لیے سروس پرووائیڈر کا سابق فاٹا یا پاٹا کا مستقل رہائشی ہونا لازم ہوگا، جبکہ سروس فراہم کرنے والا کاروبار بھی انہی علاقوں میں قائم اور معمول کے مطابق وہیں چل رہا ہو۔
استثنیٰ کے لیے خدمات کا مکمل طور پر سابق فاٹا یا پاٹا سے شروع ہوکر وہیں ختم ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مقامی سروس پرووائیڈرز کو صرف انہی خدمات پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا جو سابق فاٹا یا پاٹا میں فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: آل فاٹا خاصہ دار و لیویز فورس کور کمیٹی کا دھرنا جاری، حکومت سے اہم مطالبات کیا ہیں؟
کے پی آر اے کے مطابق ہوٹل، گیسٹ ہاؤس، لاج، ریسٹورنٹ، کیفے اور دیگر فوڈ سروسز کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جبکہ شادی ہال، کلب اور اسی نوعیت کے تفریحی و کمیونٹی ادارے بھی استثنیٰ میں شامل ہوں گے۔
جائیداد کی خرید و فروخت، کرایے یا لیز سے متعلق رئیل اسٹیٹ خدمات بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ تعمیرات، بجلی، مکینیکل، پلمبنگ، فلورنگ، پلاسٹرنگ اور پینٹنگ کی خدمات بھی استثنیٰ میں شامل کی گئی ہیں۔
نجی ہسپتالوں، ڈاکٹرز، کلینکس اور میڈیکل تشخیصی لیبارٹریز کی خدمات، جبکہ انٹرا سٹی مسافروں اور سامان کی اندرونِ علاقہ نقل و حمل کی خدمات بھی مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔
بیوٹی پارلرز، حجام، سیلون اور دیگر ذاتی نگہداشت کی خدمات کے علاوہ گاڑیوں کی مرمت، دیکھ بھال، کار واش، لانڈری اور ڈرائی کلیننگ کی خدمات بھی استثنیٰ میں شامل ہیں۔
صنعتی، مکینیکل، برقی اور الیکٹرانک آلات کی مرمت و تنصیب، الیکٹریکل، پلمبنگ، ویلڈنگ، فیبریکیشن اور دیگر تکنیکی خدمات پر بھی سیلز ٹیکس سے استثنیٰ ہوگا۔
فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، ایونٹ مینجمنٹ، نمائش و کنونشن کی خدمات اور مقامی ماہرین و پیشہ ور افراد کی مشاورتی اور پروفیشنل خدمات بھی استثنیٰ میں شامل ہیں۔ ٹریول ایجنٹس، ٹور آپریٹرز اور اشیا کی تقسیم سے متعلق بعض درمیانی خدمات بھی مستثنیٰ ہوں گی۔
تاہم ٹیلی کمیونیکیشن، سرکاری فنڈ سے چلنے والے منصوبوں، پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی منصوبوں کو اس استثنیٰ میں شامل نہیں کیا گیا۔
فرنچائز، برانچ، ذیلی ادارے یا ڈویژن کے طور پر کام کرنے والے سروس پرووائیڈرز بھی استثنیٰ سے خارج ہوں گے، جبکہ پہلے سے طے شدہ معاہدوں میں شامل سیلز ٹیکس والی خدمات پر بھی یہ استثنیٰ لاگو نہیں ہوگا۔
کے پی آر اے کے مطابق مقررہ شرائط پوری کرنے والا ہر اہل سروس پرووائیڈر ان خدمات پر سیلز ٹیکس وصول کرنے یا ادا کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔
